Skip to content
نوجوان لڑکوں کا شادی کو جلد توڑ دینے کی وجوہات ، اسباب اور علاج
ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910
—————
موجودہ دور میں خصوصاً شہری اور نیم شہری مسلم معاشرے میں ایک تشویشناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ بعض نوجوان لڑکے شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ازدواجی رشتے سے بیزار ہو کر علیحدگی، ذہنی تشدد، ظلم یا طلاق کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف دو افراد کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی، نفسیاتی اور خاندانی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے اثرات عورت، بچوں، والدین اور پورے خاندان پر مرتب ہوتے ہیں۔
* بعض نوجوان شادی کو زندگی بھر کی ذمہ داری، وفاداری اور قربانی کا رشتہ سمجھنے کے بجائے وقتی خواہشات، جذباتی تسکین، حسن پرستی، معاشی فائدے یا سماجی نمائش کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی اختلافات بھی بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں اور رشتہ جلد ٹوٹنے لگتا ہے۔
* شادی سے پہلے متعدد لڑکیوں سے فلرٹ، چیٹنگ، معاشقہ اور غیر سنجیدہ تعلقات رکھنے والے نوجوان اکثر ذہنی طور پر ایک عورت کے ساتھ مستقل وابستگی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کی نفسیات میں “نئی کشش” کی تلاش باقی رہتی ہے۔ شادی کے بعد بھی وہ ماضی کے تعلقات، سوشل میڈیا یا دوسری عورتوں کی طرف ذہنی جھکاؤ رکھتے ہیں ، جس کے نتیجے میں بیوی سے بے رغبتی پیدا ہونے لگتی ہے ۔
* جدید میڈیا، فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے ذہن میں عورت کا ایک خیالی اور غیر حقیقی تصور پیدا کر دیا ہے۔ بعض نوجوان بیوی میں فلمی ہیروئن ، ماڈل یا ہر وقت رومانوی انداز رکھنے والی عورت تلاش کرتے ہیں ۔ جب حقیقی زندگی ان کے خوابوں سے مختلف نکلتی ہے تو مایوسی ، شکایت اور بے زاری جنم لیتی ہے۔ پھر وہ اپنی بیوی کا موازنہ دوسری عورتوں ، دوستوں کی بیویوں، سوشل میڈیا Influencers یا سابق محبوبہ سے کرنے لگتے ہیں۔ یہ مسلسل تقابل عورت کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے اور شوہر کے دل میں ناشکری اور بے سکونی پیدا کرتا ہے ۔
* بعض اوقات پہلے سے موجود محبت بھی اس خرابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شادی سے پہلے کسی لڑکی سے تعلق قائم رہا ہو اور بعد میں وہ رشتہ نہ ہو سکا ہو تو شادی کے بعد دوبارہ رابطے ، لالچ، جذباتی دباؤ یا خاندانی مداخلت کے ذریعے پہلی بیوی کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ بعض خاندان اپنی بیٹی کی شادی کسی شادی شدہ نوجوان سے کرانے کے لیے دانستہ طور پر پہلی بیوی کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرتے ہیں ، لڑکے کو اکساتے ہیں یا مالی اور جذباتی لالچ دے کر پہلی شادی توڑنے کی سازش کرتے ہیں۔ اس طرح ایک آباد گھر صرف ذاتی خواہشات اور مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔
* اسی طرح بعض نوجوان دوسری شادی یا کسی نئی عورت کی کشش کے زیرِ اثر پہلی بیوی سے جان چھڑانے کے بہانے تلاش کرتے ہیں ۔ کبھی اس کے اخلاق پر الزام لگایا جاتا ہے ، کبھی اس کے خاندان کو بدنام کیا جاتا ہے، اور کبھی معمولی گھریلو اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ علیحدگی کو جائز ثابت کیا جا سکے ۔ حالانکہ حقیقت میں مسئلہ عورت کا نہیں بلکہ مرد کی بے ثباتی، لالچ یا جذباتی ناپختگی ہوتی ہے۔
* ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض نوجوان بہتر ملازمت ، بڑی کمپنی ، کاروباری شراکت ، بیرونِ ملک مواقع یا سسرال کی مالی طاقت کے لالچ میں پہلی بیوی کو چھوڑنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں ۔ اگر کسی امیر خاندان یا بااثر ادارے کی طرف سے جاب ، کمپنی میں عہدہ ، کاروباری سہولت یا گھر داماد بننے کی پیشکش ہو تو بعض لوگ اپنی پہلی بیوی کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں ۔ پھر اس پر جھوٹے الزامات، ذہنی دباؤ، گھریلو تشدد یا طلاق کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ نئی “آفر” قبول کی جا سکے۔ اس صورتحال میں عورت کسی جرم کے بغیر سزا پاتی ہے اور اس کی قربانیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔
* بعض نوجوان گھریلو خاتون کو کم اہم سمجھنے لگتے ہیں اور ملازمت پیشہ عورت کو زیادہ پرکشش تصور کرتے ہیں۔ مالی فائدہ ، سوشل اسٹیٹس یا سہولت کی خاطر پہلی بیوی کو کمتر سمجھا جاتا ہے ، حالانکہ وہی عورت گھر ، بچوں اور خاندان کی خدمت میں اپنی پوری زندگی لگا رہی ہوتی ہے ۔ اسی طرح بچے کی پیدائش کے بعد جب بیوی کی جسمانی حالت ، مصروفیات اور ترجیحات بدلتی ہیں تو بعض مرد ذمہ داریوں سے گھبرا کر دوسری عورتوں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں ۔ نتیجتاً بیوی پر بے جا تنقید ، بے رخی، ظلم اور علیحدگی کے حربے شروع ہو جاتے ہیں ۔
* ان تمام خرابیوں کے پیچھے جذباتی ناپختگی ، خود پسندی ، غصہ ، برداشت کی کمی ، دینی کمزوری، سوشل میڈیا کا غلط استعمال ، فحش مواد، بری صحبت، اور خاندانی تربیت کا فقدان نمایاں اسباب ہیں۔ جن گھروں میں عورت کی بے عزتی ، مسلسل جھگڑے یا طلاق کا ماحول ہوتا ہے وہاں بچے لاشعوری طور پر وہی رویے سیکھتے ہیں۔ اسی طرح بے روزگاری، مالی دباؤ، قرض اور معاشی بے چینی بھی ازدواجی کشیدگی کو بڑھا دیتی ہے۔
* اسلام نکاح کو صرف جسمانی تعلق نہیں بلکہ سکون ، رحمت ، محبت اور ذمہ داری کا مقدس رشتہ قرار دیتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں میاں بیوی کے تعلق کو مودّت اور رحمت کا سرچشمہ کہا گیا ہے۔
وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
مگر جب انسان صبر ، وفاداری ، قناعت ، خوفِ خدا اور حقوق العباد سے دور ہو جاتا ہے تو رشتوں میں بھی بے سکونی پیدا ہونے لگتی ہے ۔
* اس صورتِ حال کا علاج صرف قانونی کارروائیوں میں نہیں بلکہ تربیت، شعور اور اخلاقی اصلاح میں پوشیدہ ہے ۔ نوجوانوں کو شادی سے پہلے ازدواجی ذمہ داریوں ، عورت کے حقوق، جذباتی پختگی ، برداشت ، غصہ کنٹرول اور خاندانی زندگی کے آداب سکھانے کی ضرورت ہے ۔ والدین کو بھی صرف دولت ، ملازمت یا ظاہری چمک دمک کے بجائے لڑکے کے اخلاقب، مزاج ، کردار اور دینی شعور کو ترجیح دینی چاہیے ۔ اسی طرح ایسے خاندانوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جو مالی فائدے یا سماجی مفاد کے لیے آباد گھروں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ سوشل میڈیا اور فحش مواد کے منفی اثرات سے بچاؤ ، خاندانی مشاورت ، اور دینی تربیت ازدواجی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔
* سوالنامہ
ذاتی معلومات
1۔ آپ کی عمر کیا ہے؟
2۔ آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟
3۔ آپ کی شادی کتنے عرصے پہلے ہوئی؟
4۔ کیا آپ کی شادی پسند کی تھی یا خاندانی؟
5۔ آپ کا پیشہ کیا ہے؟
ازدواجی رویّے سے متعلق سوالات
6۔ کیا شادی سے پہلے کسی لڑکی سے تعلق یا معاشقہ رہا ہے؟
7۔ کیا آپ سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر بیوی کا موازنہ دوسری عورتوں سے کرتے ہیں؟
8۔ کیا آپ کو بیوی سے غیر حقیقی حسن یا رومانوی توقعات تھیں؟
9۔ کیا شادی کے بعد آپ کی دلچسپی کسی دوسری عورت میں پیدا ہوئی؟
10۔ کیا آپ نے کبھی بیوی میں بلا وجہ خامیاں تلاش کیں؟
معاشی اور سماجی پہلو
11۔ کیا مالی فائدہ، جاب یا جہیز ازدواجی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
12۔ کیا بہتر جاب یا کمپنی کی آفر ملنے پر بعض لوگ پہلی بیوی سے دور ہو جاتے ہیں؟
13۔ کیا آپ نے ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کو بدنام کیا گیا ہو؟
14۔ کیا بعض خاندان اپنی بیٹی کی شادی کے لیے آباد گھر توڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟
15۔ کیا آپ ملازمت پیشہ بیوی کو ترجیح دیتے ہیں؟
16۔ کیا دوستوں یا خاندان والوں کی باتیں آپ کے ازدواجی فیصلوں پر اثر ڈالتی ہیں؟
17۔ کیا بے روزگاری یا مالی دباؤ گھریلو جھگڑوں میں اضافہ کرتے ہیں؟
نفسیاتی اور اخلاقی پہلو
18۔ کیا آپ غصہ جلد کرتے ہیں؟
19۔ اختلاف کی صورت میں آپ گفتگو کرتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں؟
20۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شادی مستقل ذمہ داری ہے؟
21۔ کیا آپ ازدواجی حقوق اور اسلامی تعلیمات سے واقف ہیں؟
22۔ کیا Counseling یا خاندانی رہنمائی طلاق کم کر سکتی ہے؟
23۔ آپ کے خیال میں شادی ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟24. کیا بلا وجہ کی دوسری شادی خود ساختہ مسائل کو جنم دیتی ہے ۔؟
25 ۔ کیا آپ کی بہن ، بیٹی کے ساتھ مندرجہ بالا معاملہ پیش آئے تو آپ کی کیا کوشش ہوگی ؟
Post Views: 42