Skip to content
بارہ سالہ حکومت: تعریفوں کے طوفان میں عوام کی حالتِ زار
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
بھارت کی سیاست بھی عجیب شے ہے۔ یہاں اگر کوئی رہنما پانچ سال اقتدار میں رہ جائے تو اس کے چاہنے والے اسے عظیم کہنا شروع کر دیتے ہیں اور اگر بارہ سال گزار دے تو پھر اس کے حامیوں کے نزدیک وہ سیدھا تاریخ، جغرافیہ، سائنس اور کبھی کبھار موسمیات تک بدل دیتا ہے۔ یہی حال آج کل ملک وزیرِ اعظم کے متعلق دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بارہ سال مکمل ہونے پر مبارکبادوں کا ایسا سیلاب آیا کہ لگتا ہے ملک میں نہ مہنگائی ہے، نہ بے روزگاری، نہ ٹریفک، نہ بجلی کے بل، بس ہر طرف خوشی ہی خوشی ہے اور قوم اجتماعی طور پر گلاب جامن کھا رہی ہے۔ یوپی کے وزیرِ اعلیٰ نے بھی جذباتی انداز میں کہہ دیا کہ یہ بارہ سال خدمت، ترقی، غریب نوازی اور نئے بھارت کی تعمیر کے سال ہیں۔ بیان پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں ہر شہری کے پاس نوکری، بنگلہ، گاڑی، وائی فائی اور صبح ناشتے میں بادام والا دودھ موجود ہو۔ مگر دوسری طرف عوام کی حالت یہ ہے کہ آدھا وقت پیٹرول کے ریٹ دیکھ کر گزرتا ہے اور باقی آدھا آن لائن نوکری تلاش کرتے ہوئے۔
ہمارے ملک میں سیاسی بیانات کا بھی اپنا ہی حسن ہے۔ اگر سڑک بن جائے تو تاریخی کارنامہ، اگر پل بن جائے تو نئے بھارت کی علامت، اگر ہوائی اڈہ بن جائے تو عالمی قیادت، اور اگر کچھ نہ بنے تو پھر پچھلی حکومت کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ عوام بیچارے ہر پانچ سال بعد یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ آخر وہ سنہرا دور کب آئے گا جس کا ذکر تقریروں میں اتنی محبت سے کیا جاتا ہے۔ بارہ سال میں سب سے بڑی تبدیلی شاید یہ آئی کہ عوام اب تقریریں سن کر حقیقت اور اشتہار میں فرق کرنا سیکھ گئے ہیں۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ اچھے دن شاید کسی ٹرین سے آئیں گے مگر اب معلوم ہوا کہ وہ صرف انتخابی جلسوں میں آتے ہیں اور ووٹنگ کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ عوام بھی اب تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ جب کوئی لیڈر کہتا ہے ملک ترقی کر رہا ہے تو عام آدمی فوراً اپنے پرس میں جھانک کر دیکھتا ہے کہ اگر ترقی ہوئی ہے تو شاید اس کے بٹوے کو ابھی تک خبر نہیں ملی۔ حکومت کے حامی کہتے ہیں کہ ملک طاقتور ہو گیا ہے۔ واقعی طاقتور تو ہوا ہے مگر سب سے زیادہ طاقت شاید سوشل میڈیا کے بھکتوں میں آئی ہے۔ اگر آپ نے ذرا سی تنقید کر دی تو فوراً آپ کو ملک دشمن، ترقی دشمن، ثقافت دشمن اور کبھی کبھار تو موسم دشمن بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ اب جمہوریت میں اختلافِ رائے کم اور واٹس ایپ یونیورسٹی کے لیکچر زیادہ سننے کو ملتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اب ہر چیز تاریخی ہوگئی ہے۔ بارش ہو جائے تو تاریخی، گرمی بڑھ جائے تو تاریخی، جلسہ بڑا ہو جائے تو تاریخی اور اگر اپوزیشن چھینک بھی دے تو حکومت کے حامی فوراً بتاتے ہیں کہ یہ بھی مودی جی کی کامیابی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آئندہ اگر کسی کے گھر میں بلی کے بچے پیدا ہو جائیں تو نیوز چینل فوراً بول اٹھیں گے: یہ ہے نئے بھارت کی طاقت!
معاشی ترقی کے دعوے بھی بڑے دلچسپ ہیں۔ حکومت کہتی ہے معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے مگر نوجوان کہتے ہیں: حضور! معیشت تو بھاگ رہی ہے مگر نوکری ہمارے ہاتھ نہیں آ رہی۔ آج لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لے کر گھوم رہے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اتنے امتحان دیے کہ اب انہیں رول نمبر اپنے موبائل نمبر سے زیادہ یاد رہتے ہیں۔ مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ پہلے لوگ بازار جاتے تھے چیزیں خریدنے، اب صرف ریٹ سننے جاتے ہیں۔ ٹماٹر کا ریٹ سن کر انسان کو لگتا ہے شاید وہ سبزی نہیں بلکہ دبئی سے درآمد شدہ کوئی قیمتی پتھر ہے۔ پیٹرول کے دام دیکھ کر تو کئی لوگ موٹر سائیکل کو ایسے صاف کرتے ہیں جیسے وہ کوئی تاریخی ورثہ ہو، کیونکہ چلانے کی ہمت کم ہی پڑتی ہے۔ حکومت کے ترجمان کہتے ہیں کہ ملک ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔ واقعی اتنا ڈیجیٹل ہو گیا ہے کہ اب فقیر بھی کہتا ہے: بھائی صاحب کیو آر کوڈ اسکین کر دیجیے! مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ڈیجیٹل ہونے سے عوام کی مشکلات ختم ہو جاتی ہیں؟ گاؤں میں انٹرنیٹ آگیا مگر کئی جگہ پانی اب بھی نہیں آیا۔ نوجوان کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تو ہے مگر روزگار اب بھی قسمت کے حوالے ہے۔
بارہ سال میں قوم پرستی بھی ایک نیا کاروبار بن گئی۔ اب اگر آپ کرکٹ میچ دیکھیں تو حب الوطنی، فلم دیکھیں تو حب الوطنی، چائے پئیں تو حب الوطنی، اور اگر سوال پوچھ لیں تو فوراً شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسا ماحول بن گیا ہے کہ بعض لوگ اب خاموش رہنے کو ہی سب سے محفوظ حب الوطنی سمجھتے ہیں۔ میڈیا کا حال بھی کمال ہے۔ کچھ چینل ایسے لگتے ہیں جیسے نیوز روم نہیں بلکہ مستقل انتخابی جلسہ چل رہا ہو۔ اینکر حضرات اتنے جذباتی انداز میں حکومت کی تعریف کرتے ہیں کہ کبھی کبھی ناظرین کو شک ہونے لگتا ہے کہ شاید خبر کم اور قصیدہ زیادہ پڑھا جا رہا ہے۔ عوام بھی اب سمجھدار ہو گئے ہیں، اسی لیے کئی لوگ خبریں دیکھنے سے پہلے بلڈ پریشر کی دوا ساتھ رکھتے ہیں۔ البتہ یہ ماننا پڑے گا کہ وزیرِ اعظم مودی نے اپنی شخصیت کو ایک برانڈ بنا دیا ہے۔ ان کے چاہنے والے انہیں ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ اگر بارش کم ہو تو مودی جی دیکھ لیں گے، اگر گرمی زیادہ ہو تو مودی جی کچھ کریں گے اور اگر امتحان میں نمبر کم آ جائیں تو شاید اس کا ذمہ دار بھی اپوزیشن کو قرار دے دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کا اصل امتحان عوام کی زندگی ہوتی ہے نہ کہ صرف بڑے بڑے اشتہارات۔ اگر نوجوان پریشان ہو، کسان مقروض ہو، متوسط طبقہ مہنگائی سے تنگ ہو اور سماج میں نفرت بڑھ رہی ہو، تو پھر صرف تقریروں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ عوام کو نعروں سے زیادہ روٹی، روزگار، تعلیم اور سکون چاہیے۔ بارہ سال بعد ملک کا ماحول کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ ہر شخص یا تو اندھا حامی ہے یا شدید مخالف۔ درمیان میں رہ کر بات کرنا سب سے مشکل کام بن چکا ہے۔ اگر آپ تعریف کریں تو لوگ کہیں گے آپ بھکت ہیں اور اگر تنقید کریں تو فوراً دیش دروہی قرار دے دیے جائیں گے۔ گویا عقل، اعتدال اور سنجیدہ مکالمہ آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مودی دورِ حکومت نے بھارت کو بدلا ضرور ہے مگر یہ تبدیلی ہر شخص کے لیے یکساں خوشگوار نہیں۔ کسی کے لیے یہ ترقی اور طاقت کا دور ہے تو کسی کے لیے مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی تقسیم کا زمانہ۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ بھارتی سیاست اب اتنی دلچسپ ضرور ہو گئی ہے کہ عوام روزانہ خبریں دیکھ کر ہنس بھی لیتے ہیں اور پریشان بھی ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی نئے دور کی اصل سیاسی کامیڈی ہے۔
Post Views: 29