Skip to content
نیتا کی گائےجنتا کی ہائے : گائے سے ہائے تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مغربی بنگال کے نوزائیدہ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے انتخابی نتائج کے فوراً بعداکڑ کر کہا تھا کہ ’’میں مسلمانوں کا کام نہیں کروں گا کیونکہ مسلمانوں نے ہم کو ووٹ نہیں دیا ‘‘ لیکن بنگال مسلمانوں نے اپنے ایک فیصلے سے ان کا کام تمام کردیا۔ شبھیندو ادھیکاری نے وزیر اعظم نریندر مودی کے مشہور قول ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بھری محفل میں کہا تھا کہ اب ’جو ہمارے ساتھ ،ہم اس کے ساتھ ‘۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے کہہ دیا’ جو ہمارے ساتھ نہیں ہم اس کے ساتھ نہیں ‘ یعنی ’ہم گائے کی قربانی نہیں کریں گے‘۔ گائے ہندو پالتا ہےوہی چارہ اگاکر اسے بیچنے کے لیے بازار میں لاتا ہے تاکہ مسلمان گاہک خرید سکے ۔ اس نے کہہ دیا کہ جاو میں نہیں خریدتا ۔ اب وزیر اعلیٰ سمیت ان کو ووٹ دینے والے رائے دہندگان پریشان ہیں ۔ادھیکاری چلے تھے عبدل کی چوڑی ٹائٹ کرنے عبدل نے وہ چوڑی انہیں کو پہنا کر کہا’ اب تالیاں بجاکر بھیک مانگو‘ نہ تم ہمارے ساتھ اور نہ ہم تمہارے ساتھ‘قصہ ختم ۔ ایسے میں ادھیکاری پر شبینہ ادیب کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں ابھی تو شہرت نئی نئی ہے
شبھیندو ادھیکاری کی پہلی ہی اڑان میں مسلمانوں نے پر کتر دئیے اور دھڑام تختہ زمین پر آگے۔ ان کے زخموں پر نمک ڈالنے کے لیے پرانے ساتھی ہمایوں کبیر نے کیمرے کے سامنے ببانگ دہل کہہ دیا’’ سرکاری ہدایات کے باوجود مسلم برادری اپنی مذہبی روایت کے مطابق قربانی کا عمل جاری رکھے گی۔ حکومت کو گائے کے گوشت (بیف) کے استعمال سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار حاصل ہے، لیکن وہ مذہبی قربانی کی روایت میں مداخلت نہیں کر سکتی‘‘۔ ہمایوں کبیر کا موقف ہے کہ حکومت مسلمانوں کو بیف کھانے سے روکنے کے لیے قانون بنا سکتی ہےلیکن مذہبی قربانی جاری رہے گی۔ ہم کسی بھی اعتراض کو قبول نہیں کریں گے۔ قربانی کی یہ روایت مذہبی اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو 1400 سال سے چلی آ رہی ہے اور جب تک دنیا قائم رہے گی، یہ بھی جاری رہے گی۔قربانی ہوکر رہے گی ، گائے، بکرے اور اونٹ سب کی قربانی ہوگی ۰۰۰دیکھتے ہیں کون روکتا ہے؟ اس کو سیر کو سوا سیر کہتے ہیں۔
ہندوستان کا مسلمان چونکہ ہندو مسلم کی سیاست نہیں کرتا اس لیے بی جے پی والے بہت اچھل کود کرتے ہیں لیکن جب ناخدا مسجدکے امام مولانا شفیق قاسمی نے کہہ دیا کہ ’’ گائے کی جگہ بکرے کی قربانی کرنے میں مسلمانوں کا فائدہ ہے کیونکہ بکرا زیادہ تر مسلمان پالتے ہیں‘‘۔ اب مسلمانوں کو ’ یہ نہ بیچو وہ نہ بیچو‘ کا شور مچانے والے پریشان ہوگئے ۔ ارے بھیا آپ کی مجبوری بیچنا ہے ۔ مسلمان خریدار ہے ۔ اس کی مرضی کہ وہ آپ ہی سے خریدے یا انکار کردے؟ بنگال میں وہ کہہ رہا ہے میں نہیں خریدتا جاو اپنی ماتا کی خدمت کرو۔ اسے بیچنے کے لیے بازار میں کیوں لاتے ہو؟ وہ بکرے کی قربانی کے آپشن کو استعمال کرکے ہندو مسلم کارڈ کھیل رہا ہے۔ مولانا محمد شفیق قاسمی نے پہلے تو کہا تھا مسلمان کہ سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور ہندو برادری کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کے لیے گائے کی قربانی سے گریز کریں اور بیف کا استعمال ترک کر دیں۔ اس سے آگے بڑھ کر گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کی بھی حمایت کردی اور بی جے پی کے لیے دھرم سنکٹ کھڑا کردیا۔ لوگ میم بنانے لگے’بیٹا کھائے تھالی میں ، ماتا کھائے نالی میں ‘۔
بھارتیہ جنتا پارٹی والے پہلے تو سبزی خوری کے چکر میں تھے لیکن ممتا بنرجی نے جب یہ الزام لگا دیا کہ بھگوا سرکار بنگالیوں کو مچھلی کھانے سے روک دے گی تو دہلی سے انوراگ ٹھاکر اور منوج تیواری کو بھیج کر مچھلی کھلاکر اس کی خوب تشہیر کی گئی یہاں تک کہ گلی گلی میں بی جے پی والے مچھلی اٹھا کر انتخابی مہم میں جٹ گئے اس طرح مچھلی نے سبزی خوری کا جنازہ اٹھا دیا۔ منوج تیواری سے پوچھا گیا کہ برہمن ہونے کے باوجود سناتنی اپواس کے دن منگل کو آپ نے کھلے عام مچھلی کیوں کھائی تو وہ بولے چونکہ اس میں پیاز اور لہسن نہیں پڑا تھا اس لیے ساتوِک (پاک) غذا تھی۔ مسلمان تو خنزیر کے گوشت کی ایسی لولی لنگڑی توجیہہ نہیں کرتے ۔ ان کے نزدیک جوحلال ہے وہ حلال اور جو حرام ہے وہ حرام لیکن بی جے پی کے لیے جس سے ووٹ ملے وہ حلال اور جس سے کٹے وہ حرام ۔ اسی لیے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کہتے ہیں گائے کا گوشت عوامی مقامات پر نہیں بلکہ گھروں میں کھاو۔ کرن رجیجو اور سابق وزیر اعلیٰ سربا نند سونوال تو صاف کہتے ہیں وہ بیف کھاتے ہیں جس کوجو کرنا ہے کرلے ۔ شمال مشرق کے ساری ریاستوں کے بی جے پی وزرائے اعلیٰ کا یہی موقف ہے۔
گودی میڈیا نے شبھیندو ادھیکاری کو ہندو ہردے سمراٹ ثابت کرنے کے لیے جس’’ویسٹ بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ 1950‘‘کے سختی سے نفاذ کوسہارا اس میں گئوکشی پر پابندی نہیں ہے ۔ریاستی حکومت کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گائے، بیل اور بھینس جیسے جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے ویٹرنری ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ ضروری ہوگا۔ اس سرٹیفکیٹ میں لکھا ہوگا کہ ذبح کیے جانے والے مویشی کی عمر یا تو 14 سال سے زیادہ ہےیا وہ مستقل طور پر ناکارہ ہے۔ گئو کشی کی حمایت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ وہ ’ماں کا درجہ رکھتی ہے‘ اس لیے ذبح کرنے کے بجائے اس کی پوجا ہونی چاہیے لیکن شبھیندو ادھیکاری کا قانون گائے کوایک خاص عمر کے بعد ناکارہ ہوجانے کے بعد ماتا نہیں مانتا اور ذبیحہ کی اجازت دیتا ہے ۔ دنیا ایسے بیٹوں کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی جو غیر مفید ہوجانے پر اپنی نام نہادماتا کے ذبیحہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ادھیکاری نے یہ بھی کہا کہ عوامی مقامات پر نہیں بلکہ قربانی کے لیے مختص کردہ مقامات پر ہی مویشی ذبح کیے جائیں گے ۔ اس کے لیے سرکار کو ذبیحہ خانے بنانے ہوں گے۔ وہاں صاف صفائی اور پانی بجلی کا بندو بست کرنا ہوگا، اس سے تو مسلمانوں کو آسانی ہوجائے گی تو وہ کہیں اور کیوں قربانی کریں گے؟
مغربی بنگال میں 1950 کے اینیمل سلاٹر ایکٹ کے سختی سے نفاذ نے ان ہندووں کی مشکلات میں زبردست اضافہ کر دیا کہ جو برسوں سے گائے اور بھینس پالنے کا کاروبارکرتے تھے۔ بڑے ارمانوں سے کمل کھلانے والے یہ لوگ اب اس قانون کے اچانک اور سخت نفاذ سے بری طرح پریشان ہیں کیونکہ انھیں کافی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ بیچارے ہر سال بقرعید سے قبل اپنے مویشی فروخت کرکےاس سے حاصل ہونے والی آمدنی نئے جانور خریدنے کے لیے استعمال کرتے تھے اور اس معاشی لین دین پر ان کی تجارت کا دارومدار تھا۔ان میں کچھ نے خریداروں سے پیشگی ادائیگیاں پہلے ہی لے لی تھیں لیکن اب قانونی پابندیوں کی وجہ سے جانوروں کی فروخت ناممکن ہوگئی ، نتیجے کے طور پر، خریدار اپنی پیشگی ادائیگی کے واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اورمویشی پالن سے جڑے لوگوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں خسارے کا کاروبار جاری رکھنا ان کی جان ہلکان کررہی ہے کیونکہ مویشیوں کی دیکھ بھال کے بھی اخراجات ہوتے ہیں۔ان میں سے کئی ایسے ہیں کہ جنھوں نے بنکوں سے سود پر رقم لے کر مویشی خریدے اب اگر وہ نہیں بکے تو بنک والے ان کی کھال ادھیڑ دیں گے۔ اس لیے ایک کسان نے تو انڈین ایکسپریس سے روتے ہوئے کہا کہ اب ان کے سامنے خودکشی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔
شبھیندو ادھیکاری کی عقل سے پیدل حکومت کو یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا لیکن اقتدار کے خمار اور مسلمانوں سے عار نے ان کا دماغ ماوف کردیا ہے۔یہ مویشی مالکان کا انفرادی مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت نے اگر ان جانوروں کے لیے متبادل انتظامات نہ کیے اور مالی بوجھ کے باعث مالکان انھیں سڑکوں پر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تو اس سے شہری اور دیہی علاقوں میں آوارہ جانوروں کے مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ شمالی ہند میں وہ کھڑی فصلوں کو کھاجاتے ہیں اور کسانوں کو رات بھر جاگ کر کھیتوں کی رکھوالی کرنی پڑتی ہے۔ مغربی بنگال میں یہ مسئلہ نہیں تھا مگر اب ہوگا۔ شبھیندو کے پاس اب ایک راستہ یہ ہے کہ وہ ملک سے سب سے زیادہ بیف برآمد کرنے والے الکبیر کے مالک ستیش اگروال یا عریبین ایکسپورٹ کے سنیل کمار کو بلا کر مذبح خانہ کھلوائے تاکہ سرکاری نگرانی میں یہ مویشی ذبح ہوکر ساری دنیا کی بھوک مٹائیں۔ اس کے عوض میں زرِ مبادلہ بھی آئے۔ ایسے میں شنکرا چاریہ اوی مکتیشور انند نے اعلان کردیا کہ مسلمان، عیسائی اور سچے سناتنی گئو کشی پر پابندی چاہتے ہیں مگر بی جے پی والے جعلی سناتنی یہ نہیں چاہتے۔ شنکر اچاریہ نے ملک بھر میں گئو شالہ کھولنے کا اعلان کیا تو جیسلمیر کے ڈمپنگ گراونڈ سے پانچ سو گایوں کے ڈھانچوں کی خبر آگئی۔ راجستھان کی ڈبل انجن سرکار نے وہاں گئوشالا چلانے کے لیے جو رقم دی تھی اسے منتظم کھا گئےہوں گے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گئوشالہ نے اندر بھی یہ سناتنی گئوماتا محفوظ رہ سکے گی؟ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی اپنے ہی بنائے ہوئے گائے کے چکر ویوہ میں پھنس گئی ہے۔
Post Views: 120