Skip to content
عبادت یا دکھاوا؟۔
ازقلم: مدثر احمد شیموگہ
۔آج عبادتوں میں اخلاص کم اور نمائش زیادہ نظر آنے لگی ہے۔ لوگ نیکی کم کرتے ہیں، اس کا اعلان زیادہ کرتے ہیں۔ بقرعید جو ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد ہے، آج کئی جگہ”اسٹیٹس شو” بن گئی ہے۔جانور خریدتے وقت نیت قربانی کی کم اور لوگوں کو متاثر کرنے کی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ کوئی فخر سے کہتا ہے”ہمارا بکرا ڈیڑھ لاکھ کا ہے۔”کوئی ویڈیو بنا کر پورے محلے کو دکھاتا ہے: "دیکھو، ہمارا بیل کتنا وزنی ہے۔۔۔”گویا جنت قیمت سے ملے گی، تقویٰ سے نہیں۔ کچھ لوگ تو جانور اس لیے خریدتے ہیں کہ محلے میں ان کی دھاک بیٹھ جائے۔ اگر پڑوسی نے بڑا جانور لیا تو انہیں اس سے بڑا چاہیے۔ قربانی عبادت کم اور انا کی جنگ زیادہ لگتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو اور بڑھا دیا ہے۔ جانور کے ساتھ فوٹو شوٹ، ریلز، ڈرامائی ویڈیوز، بیک گراؤنڈ میوزک۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قربانی نہیں، فلم کی پروموشن چل رہی ہو۔حالانکہ عبادت جتنی خاموش ہو، اتنی خوبصورت ہوتی ہے۔اسی طرح حج، جو بندے اور اللہ کے درمیان سب سے پاکیزہ تعلق کا سفر ہے، اب بعض لوگوں کے لیے عزت، لقب اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا جارہا ہے۔کچھ لوگ حج پر جانے سے پہلے اس انداز میں معافی مانگتے ہیں جیسے الیکشن لڑنے جارہے ہوں۔ ہر گلی، ہر رشتہ دار، ہر واٹس ایپ اسٹیٹس پر اعلان: "ہم حج پر جارہے ہیں، دعاؤں میں یاد رکھیے۔۔۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم ان لوگوں سے معافی مانگتے ہیں جن کا حق ہم نے کھایا ہوتا ہے؟۔ بعض لوگ دوسروں کا مال دبا جاتے ہیں، مگر ان کے دروازے پر جا کر "معاف کردیجیے” کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔بعض لوگ بھائیوں اور بہنوں کا حق کھا جاتے ہیں، جائیداد ہڑپ لیتے ہیں، مگر حج پر جانے سے پہلے پورے محلے سے معافی مانگتے پھرتے ہیں۔ کچھ لوگ ساری زندگی رشوت لے کر نوکری کرتے ہیں، غریبوں کی فائلیں روکتے ہیں، لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں، مگر حج پر جاتے وقت آنکھوں میں آنسو لا کر کہتے ہیں کہ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کردیجیے۔۔۔غلطی؟۔ یہ غلطی نہیں، کسی کی زندگی پر ظلم ہوتا ہے۔ بعض لوگ رشتے داروں سے سالہا سال تعلق توڑ کر رکھتے ہیں۔ ماں باپ سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ بہن بھائیوں کے دل توڑتے ہیں۔ مگر سوشل میڈیا پر احرام کی تصویر لگا کر”لبیک اللہم لبیک” لکھ دیتے ہیں۔ عبادت صرف جسم کا سفر نہیں، دل کی اصلاح بھی ہے۔ آج عجیب زمانہ آگیا ہے۔ کسی غریب کا قرض واپس کرنا مشکل لگتا ہے، مگر دو لاکھ کا جانور خریدنا آسان لگتا ہے۔ پڑوسی بھوکا ہو تو احساس نہیں ہوتا، مگر قربانی کے جانور کی نسل اور قیمت پر فخر ضرور محسوس ہوتا ہے۔ کسی یتیم بچے کی فیس بھرنے میں دل کانپتا ہے، مگر لاکھوں کی دعوتیں دینے میں سینہ چوڑا ہوجاتا ہے۔بعض لوگ مزدور کی مزدوری وقت پر نہیں دیتے، مگر قربانی کے جانور پر رنگ برنگے ربن باندھ کر تصویریں کھنچواتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے گھر کی عورتوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، مگر مسجد میں پہلی صف میں کھڑے ہوکر دینداری دکھاتے ہیں۔یہ دین نہیں، دینداری کا ڈرامہ ہے۔ اسلام نے عبادت کے ساتھ انسانیت بھی سکھائی ہے۔ نماز کے ساتھ اخلاق۔روزے کے ساتھ صبر۔حج کے ساتھ عاجزی۔ اور قربانی کے ساتھ ایثار۔اگر عبادت انسان کو نرم دل، انصاف پسند اور حق ادا کرنے والا نہ بنائے، تو پھر صرف ظاہری عمل رہ جاتا ہے۔آج عبادت بھی مقابلہ بن گئی ہے کہ کس کا جانور مہنگا؟۔ کس کی دعوت بڑی؟۔ کس کی تصویر زیادہ وائرل؟۔ کس کو زیادہ لوگ "حاجی صاحب” کہہ رہے ہیں؟۔ ہم بھول گئے کہ اللہ کو شور نہیں، خلوص پسند ہے۔ریاکاری ایک ایسا دیمک ہے جو نیکیوں کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ انسان ساری زندگی عبادت کرتا رہتا ہے مگر اگر نیت لوگوں کی تعریف ہو تو ہاتھ میں صرف تھکن رہ جاتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی عبادتوں کو لوگوں کی نظروں سے نکال کر اللہ کے لیے خالص کریں۔قربانی جانور کی نہیں، نفس کی ہونی چاہیے۔حج کپڑوں، تصویروں اور لقبوں کا نہیں، دل کی تبدیلی کا نام ہے۔اگر عبادت کے بعد بھی انسان ظلم کرے، حق مارے، غرور کرے اور دکھاوا کرے، تو پھر ہمیں رک کر خود سے پوچھنا چاہیےکہ ہم اللہ کو راضی کررہے ہیں یا لوگوں کو؟
Post Views: 36