Skip to content
ایک کاکروچ نے بزدل سنگھ پریوار کو نامرد بنا دیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
30؍سال قبل ناناپاٹیکر کی یشونت نامی ایک فلم آئی تھی ۔ اس کے نغمے کو کاکروچ پارٹی نے زندہ کردیا ۔ جیل کے اندر نانا گاتا ہے’’سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے اور ایک کھٹمل پوری رات کو اپاہج کردیتا ہے‘‘۔ اب یہ حالت ہے کہ پورے ملک کو اپاہج بنانے والے دیمک کو ایک کاکروچ نے مخنث بنادیا۔ مخنث کے معنیٰ صرف نامردنہیں بلکہ بزدل ہونا یا اعلیٰ صفات سے عاری ہونا بھی ہوتا ہے۔ کاکروچ پارٹی کے خوف نے یہ ثابت کردیا کہ یہ ساری خصوصیات بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں ۔ کاکروچ پارٹی کو غیر ملکی سازش کہنے والے بھگوادھاریوں کو سب سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے خلاف تحریک مواخذہ پیش کرکے انہیں معزول کردینا چاہیے کیونکہ اگر وہ نوجوانوں سے متعلق ’کاکروچ والا‘ متنازعہ تبصرہ نہ کرتے تو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سےکوئی سیاسی تحریک عالمِ وجود ہی میں نہیں آتی اور نہ چند روز میں دو کروڈ نوجوانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کرپاتی۔ اس کو سازش قرار دینے والوں میں اگر ہمت ہے سوریہ کانت کو سازش کا سرغنہ یا سب سے بڑا آلۂ کار قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کریں اور یہ اگرپاکستانی تحریک ہے تو موصوف کو پاکستان روانہ کردیں ۔ ویسے بھی ان کے ہم نظریہ سنگھ رہنما دتا ترے ہوسا بلے نے پاکستان کے ساتھ سرکاری اورعوا می رابطے کی وکالت کی ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت کو ایک عدالتی سماعت کے دوران نہ جانے کیا سوجھی کہ اپنے من کی بات کہہ ڈالی ۔ انہوں نے فرمایا کچھ نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح ہیں، جنہیں روزگار نہیں ملتا، پھر وہ سماجی ذرائع ابلاغ، صحافت یا سرگرم کارکن بن کر نظام پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کی جانب تھا، نہ کہ تمام نوجوانوں کی طرف۔ ملک کے اندر فی زمانہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جعلی ڈگری کا سب سے زیادہ چرچا ہے ۔ سوریہ کانت نے کہیں بیروزگار نوجوانوں کے بجائے ’پردھان سیوک ‘ یا خود ساختہ چوکیدار کی بات تو نہیں کررہے تھے جن کے بارے میں آگے چل کر کہا جانے لگا’چوکیدارچور ہے‘۔ خیر جسٹس سوریہ کانت کے سر سری تبصرے نے اس بم کے فیتے میں آگ لگا دی جس کے اندر بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی تقسیم جیسے مسائل کا بارود بھرا ہوا تھا ۔ اسی تناظر میں امریکہ کے اندر ہوسٹن میں زیر تعلیم 30 سالہ ابھیجیت دپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا: ’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟‘ بعد ازاں انہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ویب سائٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ کے صفحات قائم کر دیئے۔
کاکروچ تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ طویل عرصے سے خاموش تھے، مگر اب نوجوان سوال اٹھا رہے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 3 روز میں اس کی مقبولیت اس قدر بڑھی کہ نہ صرف کروڈ لوگوں نے انسٹا گرام پراس کے پیج کو فالو کرنا شروع کردیا بلکہ جب انہوں نے ویب سائٹ پر رکن سازی کا فارم ڈالا تو دیکھتے دیکھتے دولاکھ افراد نے رکنیت کی درخواست دے دی ۔ اس جماعت کا منشور نوجوانوں کی بے روزگاری، حکومتی طرزِ سیاست، ذرائع ابلاغ کے کردار اور عدالتی تقرریوں جیسے معاملات پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتا ہے جو عوام کے دل کی آواز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 100سال سے کام کرنے والے سنگھ پریوار کی 75سال پرانی جن سنگھْ؍بی جے پی کے81 لاکھ فالوورز کو پچھاڑ کر75گھنٹوں میں ایک کروڈ دس لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس سے گھبرا کر مودی سرکار نے اسے قومی سلامتی کو خطرہ قرار دے دیا۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کے ہوتے ’ کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے140کروڈ کے ملک کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ۔ یہ تو وزیر داخلہ کے نام پر بٹہّ تھا انہوں نے اس پر شرمندہ ہوکر استعفیٰ دینے کے بجائے اسے بہانہ بناکرCJPکا انسٹا گرام پیج ہٹوا دیا ۔ اس کے جواب میں ’کاکروچ از بیک ‘ کے نام سےوہ واپس آکر پھر سے چھا گئے۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف مبینہ کارروائی ’انتہائی احمقانہ اقدام‘ تھا۔ اس کے نتیجے میں تحریک دبنے کے بجائے مزید مقبول اور مؤثر ہوگئی ۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کا یہ دعویٰ جب سامنے آیا کہ تنظیم اور ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک یا معطل کر دیا ہے تو یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔اس طرح کاکروچ جنتا پارٹی حقیقی یا مجازی تحریک ہونے پر بحث چھڑ گئی لیکن نوجوانوں کے ذریعہ اس بیانیے کو پذیرائی کی حقیقت سے انکار ناممکن ہوگیا۔ انسٹاگرام کے بعد ایکس اکاؤنٹ بھی معطل کروایا گیا نیز بیک اپ اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیا۔ یہ نہایت کمزور حکومت کی بوکھلاہٹ کا زندہ ثبوت ہے۔ یہ مکمل طور پر اسٹریسینڈ ایفیکٹ بن گئی۔ ’اسٹریسینڈ ایفیکٹ‘ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب کسی معلومات کو دبانے یا سنسر کرنے کی کوشش الٹا اسے مزید مقبول بنا دیتی ہے۔ اس بیچ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کاکروچ جنتا پارٹی پر نام لئے بغیر یہ کہہ کر نشانہ بنا چکے ہیں کہ ’’ان لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پر پاکستان اور جارج سوروس سے حامی حاصل کرتے ہیں۔‘‘
وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو کے شاگردوں نے اسے پاکستانی سازش قرار دے دیا ۔ بی جےپی رہنماوں کے مطابق اس پارٹی کو ملنےوالی 49؍ فیصد حمایت پاکستان سے ہے۔ ابھیجیت دپکے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو جاری کر کے بتایا ہےکہ سوشل میڈیا کےپلیٹ فارموں پر پارٹی کے 94؍ فیصد حامی ہندوستان سے ہیں۔ موجودہ دور میں ایسے الزامات لگانا آسان کام نہیں کیونکہ ہر فالوور کا مقام آسانی سے پتہ چل سکتا ہے۔ اس کے باقی۶؍ فیصد بھی ایسے ہندوستانی نژاد لوگ ہوں گے جو دوسرے ممالک کی شہریت اختیار کرچکے ہوں کیونکہ دوسرے ممالک کے اپنے مسائل ہیں ۔ وہاں کے لوگ اس میں الجھے ہوئے ہیں ایسے میں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ ہندوستان میں بد امنی پھیلانے کی کوشش کریں گے ایک احمقانہ دلیل ہے۔ پاکستان کے لوگوں میں اگر اتنا دم خم ہوےتا تووہ ایسی تحریک چلا کر عمران خان کو چھڑا لیتے۔ سوال یہ ہے کہ اس نوازائیدہ کاکروچ جنتا پارٹی سے بی جے پی اتنی ڈر کیوں گئی۔ اس کا جواب خود آگہی ہے۔ نغمہ نگار سمیر نے یشونت فلم کے مذکورہ بالا نغمے میں لکھا ہے کہ ؎
ا ونچی دوکان ، پھیکا پکوان ، کھدرّ کی لنگوٹی ، چاندی کا پیک دان
سو میں سے اسیّ بے ایمان پھر بھی میرا دیش مہان
ٹوپی لگائے مچھر کہتا ہے دیش کے لوگوں میں سمتا کی بھاونا
پیدا ہورہی ہے اس لیے بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا رہی ہے
ہمارے چُنے ہوئے کتے ہماری بوٹیاں آپس میں بانٹتے ہیں
اور منش گندھ سے بھری ان کی آواز سے کانپتے ہیں
کل پیدا ہوئے بچے سانس لیتے ہوئے ہانپتے ہیں
شیطانوں کی اولاد نے تہلکہ مچا رہی ہے
اور ہم بھگوان کے چہیتے جانور انسان،
جیون کو گالی بنائے بیٹھے ہیں، کیا کریں ،
سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے
یہ طویل بند بی جے پی کے ذریعہ تعمیر کردہ سماجی و سیاسی صورتحال پر اس طرح حرف بحرف چسپاں ہوجائے گا یہ تو سمیر صاحب نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔ سچ تو یہ ہے بی جے پی کے میڈیا سیل نے جو سڑاند پچھلے بارہ سالوں میں پھیلائی ہے کاکروچ تحریک نے اسے بارہ گھنٹو ں میں ہوا کردیا۔ ہندوستان میں قائم ’مودانی‘ معیشت کے ماڈل میں مودی اور اڈانی ایک جان دو قالب ہیں ۔ وزیر اعظم اپنے دوست کے مفاد میں جان لڑاسکتے ہیں ۔ ایسے میں اگر سرکار سے مایوس ہوکر نوجوان ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ بنالیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ سرکار کے نزدیک وہ محض ووٹ حاصل کرنے کا آلۂ کار ہیں۔ اسی لیے ان کے روزگار کا حق تسلیم کرکے انہیں باعزت ملازمت دینے کے بجائے پانچ کلو اناج دے کر احسان جتایا جاتا ہے تاکہ زندہ رہیں اور ووٹ دیں ۔اپنے مستقبل کو روشن کرنے کی خاطر تیاری کرکے مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے والے امیدواروں کا پیپر لیک کرکے انہیں مایوس کیا جاتا ہے بلکہ وہ خودکشی تک کے لیے مجبور کردئیے جاتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں اگر سرکاری نااہلی یا بے حسی کے خلاف احتجاج کریں تو ان پر ڈنڈے برسائے جاتے ہیں اور اگر کانوڈ یاترا پر نکل کھڑیں تو پھول برسائے جاتے ہیں۔ ان کی ساری بدمعاشیوں کو معاف کرکے سراہا جاتا ہے تاکہ ان پڑھ رہیں ۔ ملازمت نہ مانگیں اور اندھ بھگت بن کر ووٹ دیتے رہیں ۔ اس میں کوئی کمی رہ جائے تو گیانیش کمار جیسوں کی مدد سے الیکشن جیت لیا جائے۔ ایسے میں مایوس نوجوانوں کاکروچ جنتا پارٹی میں شامل ہوکر سرکار کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرنا نہایت فطری عمل ہے ۔ یہ تو صرف ایک شروعات ہیں تمل ناڈو نے جین زی نے روایتی رہنماوں کو کنارے کرکے ایک ناتجربہ کار نوجوان کو مذہبی سیاست سے ابھر کر وزیر اعلیٰ بنوا لیا۔ وہ دن دور نہیں جب جنوب سے آنے والی یہ لہر مودی جی کو مستقل طور پر جھولا اٹھا کر یوروپ کی پہاڑیوں اور میدانوں میں روانہ کردے گی ۔
Post Views: 52