Skip to content
جمعہ نامہ: آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزما یا‘‘۔ رب کائنات نےاپنے دوست کو بھی آزمائش کی بھٹی سے گزارکر عام لوگوں کو بتا دیا کہ موت و حیات کی تخلیق کا مقصد بندوں کا آزمائش ہے ۔ اس امتحان کے پرچے لیک نہیں ہوتے نہ اس میں حتمی ناکامی کے بعد دوبارہ موقع ملتا ہے ۔ اس میں کامیاب ہوجانے والوں کا اجر ضائع نہیں ہوتا بلکہ آخرت کے ساتھ دنیا میں بھی نوازہ جاتا ہے ۔فرمانِ قرآنی ہے:’’ اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس(اللہ) نے کہا: "میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں”۔ سارے عالم کی قیادت مرتبہ جتنا عظیم ہے اس کی آزمائش بھی ویسی ہی سخت ہے۔ سنت اللہ کی ترتیب ہے کہ پہلے امتحان پھر انعام یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ۔ انسانی فطرت اپنی ذریت اپنے مقامِ بلند پر فائز ہو دیکھنا چاہتی ہے۔ اپنی اولاد کے لیے بھی وہی تمنا کرتی ہے اس لیےحضرت ابراہیمؑ نے استفسار فرمایا: "اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟” تو جواب ملا: "میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے” ۔ اس جواب میں انذار و تبشیر دونوں ہےکہ قیادت و سیادت کے لیےظلم وجبر سے اجتناب لازم ہے۔ دنیا میں امت مسلمہ کامقام و مرتبہ ابتلا و آزمائش کی کسوٹی کے مطابق طے ہوگا ۔ بقول اقبال؎
آگ ہے اولادِ ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
عصرِ حاضر کے اندر بھی اپنے امتحان میں کامیاب ہونے والے افغانی، شامی ، ایرانی اور فلسطینی سرخرو ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف عدل و انصاف کے علمبردار بنے بلکہ ظالموں کے آگے سینہ سپر ہوگئے ۔ اس کے بعد نصرتِ خداوندی ان کے شامل حال ہوئی اور وہ کامیانی و کامرانی سے نوازے گئے ۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ملنے والا ایک اہم انعام و اکرام یہ تھا کہ :’’ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو‘‘ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس عالمی دینی مرکز میں جنگ کےباوجود لاکھوں فرزندانِ توحید نے سنت ابراہیمی ؑ کے مطابق نہایت امن و سکون کے ساتھ فریضۂ حج ادا کرکے عالمِ انسانیت کو امن و مساوات کا پیغام دیا ۔ امامت کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں کی بابت فرمانِ خداوندی ہے:’’ اور ابراہیمؑ اور ا سماعیلؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو‘‘۔ توحید کا یہ چراغ جو ہزاروں سال قبل روشن کیا گیا تھا اب بھی چار دانگ عالم اپنی روشنی لٹا رہا ہے اور ایسا مینارۂ نور بنا ہوا ہے جس کی چمک دمک کبھی ماند نہیں پڑتی ۔ اہل ایمان کے خانہ خدا سے قریبی و روحانی تعلق سے متعلق اقبال فرماتے ہیں؎
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم پاسباں ہیں اس کے وہ پاسباں ہمارا
خانۂ کعبہ کی تعمیر کے موقع پر حضرتِ ابراہیمؑ نے یہ دعا بھی کی کہ : "اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے” ۔ یہاں پر ترتیب کے لحاظ سے سامان خوردو نوش سے قبل امن و سلامتی کی طلب بتاتی ہے کہ اہمیت کے لحاظ سے کس کی اہمیت زیادہ اورکس کی کم ہے؟ حضرت ابراہیمؑ نے سامانِ دنیا کو ایمان و آخرت کے ساتھ مشروط کیا تو : ’’جواب میں اس کے رب نے فرمایا: "اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے” ۔ یعنی دنیوی ساز و سامان کا تعلق ایمان سے نہیں ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بلا تفریق مذہب و ملت سبھی کو نوازتا ہے مگر جن لوگوں نے خالق کائنات کی نعمتوں کا انکار کرکے اس کی نافرمانی اور بغاوت کا طرز عمل اختیار کیا ہوگا ان کی سزا عذابِ جہنم کے سوا کیا ہوسکتی ہے؟
قرآن حکیم میں تعمیر کعبہ کا ایک منظر یوں بیان ہوا ہے کہ:’’اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ اس دعا کے اندرخلوص و نیت چھپا ہوا ہے۔ یہ ساری محنت و مشقت چونکہ صرف اورصرف خوشنودیٔ رب کی خاطر کی جاری اس لیے خدائے برحق سے اس کو قبول کرنے گہار لگائی گئی اور کون ہے جو اپنے بندوں کی دعاوں کو مستجاب کرتا ہو؟ بندہ کن حالات میں کیا کرسکتا ہے اور کیا کررہا ہے اس کا علم اللہ سے زیادہ کس کو ہے؟ دلوں کے حال سے واقف علیم و خبیر سے بہتر پذیرائی بھلا کون کرسکتا ہے؟ مناجات اس طرح آگے بڑھتے ہیں کہ ’’ اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو‘‘اور جب وہ دعا قبول ہوگئی تو حضرت ابراہیم ؑ کا حا ل یہ تھا کہ :’’اس کے رب نے کہا ‘ مسلم ہو جا ‘ تو اس نے فورا ًکہا ‘میں ما لک کائنات کا مسلم ہو گیا-‘‘ یعنی الله تعالی کی کامل حاکمیت اور مکمل عبودیت کو تسلیم کرلیا۔ الله تعالی کو اپنا ما لک ، آقا معبود ما ن کراپنے آپ کو بالکلیہ اس کے سپرد کر دیا-یہ ہدایتِ خداوندی کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لیے یہ دعا بھی کی کہ:’’ ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا‘‘ اور چونکہ انسان ہونے کے سبب خطا و نسیان کا امکان بھی ہے اس لیے گڑگڑا کر کہا گیا:’’ ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نےں یہ گواہی دی ہےحضرت ابراہیم ؑ نے حق عبودیت ادا کردیا ۔ ہم بھی اگر ان کے بتائے ہوئے طریقہ پر چل کر فتح مند ہونا چاہتے ہیں تو اس کی شرطِ اول ایمان اور آزمائش میں استقامت ہے۔ علامہ اقبال کے بقول ؎
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
Post Views: 21