Skip to content
این سی پی کا کیا مستقبل ہے؟
ازقلم: شیخ سلیم.ممبئی
سنجے راوت کے آج کے بیان کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں این سی پی کے مستقبل پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان Sanjay Raut نے اجیت پوار گروپ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس دھڑے کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔
سنجے راوت نے کہا کہ Praful Patel، Sunil Tatkare اور دیگر کئی لیڈروں کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ ان کی سیاسی طاقت کی اصل بنیاد Sharad Pawar ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وقت آنے پر یہ تمام لیڈر دوبارہ شرد پوار کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ راوت نے کہا کہ این سی پی کی اصل شناخت اور عوامی حمایت شرد پوار کے ساتھ ہے، جبکہ الگ ہونے والے دھڑے کے لیے طویل مدتی سیاسی وجود برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ ان کے بیان کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں این سی پی کے دونوں دھڑوں کے ممکنہ اتحاد کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔ یعنی این سی پی کے سبھی بڑے لیڈران کو سیاسی عروج شرد پوار کی وجہ سے ملا تھا۔
شرد پوار مہاراشٹر اور ملک کی سیاست کا ایک بڑا نام مانے جاتے ہیں۔ بڑے لیڈر ہیں، انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کانگریس پارٹی سے کیا تھا اور 1978 میں پہلی بار مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اس کے بعد وہ 1988 سے 1991، 1993 سے 1995 تک بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ رہے، مجموعی طور پر وہ چار مرتبہ ریاست کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔
ان کے کانگریس سے علیحدگی کی کہانی بھی عجیب ہے۔ 1999 میں سونیا گاندھی کی غیر ملکی نژاد ہونے کے مسئلے پر اختلافات کے بعد شرد پوار نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی بنیاد رکھی۔ بعد میں این سی پی مہاراشٹر کی ایک بڑی سیاسی طاقت بن گئی اور کانگریس کے ساتھ اتحاد میں حکومتوں کا حصہ بھی رہی۔
مرکزی سیاست میں بھی شرد پوار نے اہم کردار ادا کیا اور وہ ہندوستان کے وزیر زراعت کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ آج بھی انہیں مہاراشٹر کی سیاست کا ایک بااثر اور تجربہ کار لیڈر مانا جاتا ہے، جبکہ این سی پی کی موجودہ سیاست انہی کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
تین سال پہلے 2023 میں شرد پوار کی این سی پی میں بغاوت ہوئی، اجیت پوار بہت سارے ایم ایل اے کو لے کر علیحدہ ہو گئے۔ پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، اجیت پوار نے بھاجپا سے ہاتھ ملا لیا اور مہاراشٹر کی حکومت میں شامل ہو گئے، شرد پوار کو انہوں نے کنارے لگا دیا۔ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں اجیت پوار کی پارٹی کو شرد پوار کی پارٹی سے زیادہ ووٹ ملے اور یوں شرد پوار صاحب کا سیاسی بن باس شروع ہو گیا۔ اپنے عروج کے دور میں شرد پوار نے اپنی پارٹی میں کسی مسلم قیادت کو ابھرنے نہیں دیا تھا، مولانا ضیاء الدین بخاری اور بعد میں نواب ملک صاحب کے تعلق سے بھی یہی کہا جاتا ہے۔ ان کی پارٹی ہمیشہ ایک گھر ایک خاندان کی سیاسی جماعت تھی، پارٹی کے سارے عہدیداران ان کے خاندان سے ہی ہوتے تھے۔ اور آخر میں ان کے بھتیجے اجیت پوار خود ہی ان سے علیحدہ ہو گئے۔
قرائن بتا رہے ہیں این سی پی کا مستقبل تاریک ہے، پارٹی کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے، سارے بڑے بڑے لیڈروں کا بھاجپا سے مدھر ملن ہو سکتا ہے، بھاجپا والے ہاتھ پھیلا کر این سی پی کے لیڈران کا انتظار کر رہے ہیں۔
تقدیر اور مکافات عمل بھی کیا چیز ہے۔
Post Views: 7