Skip to content
مودانی معاشی ماڈل اور نوجوانوں کا کاکروچ دل
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کا کاکروچ اب ہائی کو رٹ کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر 29 مئی کو دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو نوٹس جاری کیا۔ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل تنظیم کے ایکس اکاؤنٹ کو غیر مسدود کرنے کا حکم دینے سے تو انکار کر دیا، لیکن انفارمیشن ٹکنالوجی کے قواعد کے تحت ایک جائزہ کمیٹی سے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرے اور 7 جولائی سے پہلے کوئی فیصلہ کرے۔ یہ ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ سی جے پی کا ایکس ہینڈل 21 مئی کو ہندوستان میں مرکز کی ہدایات اور انٹیلی جنس بیورو کے ان پٹس کے بعد روک دیا گیا جس نے اسے “قومی سلامتی کے خدشات”بتایا۔اس تنظیم نے انسٹاگرام پر 22 ملین سے زیادہ پیروکاروں کے ساتھ ایک وائرل آن لائن رجحان میں تبدیل ہو گیا تھا۔اس کے ایکس ہینڈل کو اتارنے کے بعداس نے ’’کاکروچ واپس آ گیا ہے‘‘ کے نام سے ایک اور اکاؤنٹ لانچ کیا، ، جس کی ٹیگ لائن تھی “کاکروچ ڈونٹ ڈائی”۔ اس ڈیجیٹل پر سرجیکل اسٹرائیک کے بعد، سی جے پی کے بانی نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو “آمرانہ” قرار دیا۔
بی جے پی کے رہنما راجیو چندر شیکھر نے الزام لگایا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کا سوشل میڈیا ٹرینڈ دراصل ایک منظم سرحد پار اثرانداز مہم کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو نشانہ بنانا اور ہندوستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس مہم کو سوشل میڈیا پر بوٹس اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ’سوشل میڈیا، بوٹس اور ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے والی AI کے دور میں جعلی مگر بظاہر قدرتی بیانیے تخلیق کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاشروں کو کمزور کیا جا سکے۔‘ یہی بات دو ہفتے قبل اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے کہی تھی کہ اسرائیل کو پاکستانی اسی طریقے سے بدنام کررہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے والے یہ احمق بذاتِ خود اے آئی کا استعمال کرکے ناموری کیوں نہیں حاصل کرلیتے۔
بی جے پی کا یہ راگ اب بہت پرانا ہوگیا ہے کہ ہندوستان کی ترقی اور جدیدیت بعض بیرونی قوتوں اور مفاد پرست عناصر کوقابلِ قبول نہیں اگر ایسا ہی ہوتا تو وزیر اعظم سویڈن کے اندر یہ اعلان نہ کرتے کہ بہت برے دن آنے والے ہیں اور کوروڈوں لو غریب ہوجانے والے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد ہندوستانیوں کی ہوگی۔کانگریس کے دیپیندر سنگھ ہودا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ سے منسلک اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر کوئی سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرے اور اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے تو یہ جمہوریت کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں۔‘ہودا کے مطابق یہ آن لائن تحریک نوجوانوں کے غصے اور حکومتی نظام سے بڑھتی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔
دیپندر ہودا نے خبردار کیا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس تحریک کو اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے تحریک کی اصل روح متاثر ہو سکتی ہے۔وہ خود نوجوان ہیں اس لیےاپنی نسل کے جذبات کو سمجھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ایسا حکیمانہ بیان دے دیا ورنہ کانگریس میں بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی موجود ہے جو اسے بی جے پی یا سنگھ پریوار کی ایک سازش سمجھتے ہیں۔ وہ لوگ اس کا موازنہ انا ہزارے کی تحریک یا عام آدمی پارٹی سے کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس وقت وہ تحریک چلائی گئی تھی کانگریس مرکز میں برسرِ اقتدار تھی ۔ اس وقت عوام کے اندر مہنگائی اور بیروزگاری کے سبب پائی جانے والی بے چینی کو بھنانے کے لیے اسے بدعنوانی سے جوڑا گیا ۔ اس کا فائدہ اٹھا کر کانگریس کی حکومت کو گراکر بی جے پی اقتدار میں آگئی۔ اب اسی بے چینی کا فائدہ اٹھا کر کانگریس اقتدار میں آسکتی ہے بشرطیکہ کہ علامہ اقبال کے اس انتباہ کی جانب توجہ دے جس میں کہا گیا ہے کہ؎
آئین نو سے ڈرنا ، طرز کہن پر اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
جنوب مشرق ایشیا میں جین زی کے ذریعہ آنے والا انقلاب نیا نہیں ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور پھر نیپال میں نوجوانوں نے بظاہر بہت طاقتور نظر آنے والے اقتدار کو اکھاڑ پھینکا کیونکہ نوجوانوں کے بارے میں ہی شاعر شباب جوش ملیح آبادی نے کہا تھا:’کام ہے میرا تغیر ، نام ہے میرا شباب ۰۰۰ میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب‘ نوجوانوں میں ایسی قوت عمل ہوتی ہے کہ وہ وقت کے دارا و سکندر کی بساط الٹ دیتے ہیں ۔ عوام اس کا نہ صرف بھرپور تعاون کرتے ہیں بلکہ انقلاب کا جشن بھی مناتے ہیں مگر اس کے بعد جب ان سے انتخاب میں پوچھا جاتا ہے کہ اقتدار کی زمامِ کار کسے سونپی جائے تو وہ تجربہ کار سیاستدانوں پر ہی بھروسا دکھاتے ہیں۔ یہ نوجوانوں کی تحریک ایک ایسا بلڈوزر جیسی ہے جو زعفرانی شیش محل کو ملیا میٹ کردے گی لیکن پھر اس پر تعمیر نو کے لیے راہل اور اکھلیش جیسے رہنماوں پر ہی اعتماد کا اظہار کیا جائے گا۔ اس لیے حزب اختلاف کو اس بابت بلاوجہ کے اندیشوں میں گرفتار ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو بی جے پی کی سازش کہنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کوئی اپنی کٹھ پتلی کو اپنے بڑا نہیں بناتا اور اس کو اپنے جبرو استبداد کا شکار نہیں کرتا۔ ہندوستان کے حزب اختلاف نے اگر کمزوری دکھائی تو سی جے پی کو کہنا پڑے گا؎
زاہدِ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہو ں میں
کاکروچ جنتا پارٹی کے حوالے سے سنگھ پریوار اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ اس کےسپریم کورٹ میں اس کے خلاف راجا چودھری نامی وکیل کے ذریعہ ایک عرضی دائر کروا دی گئی ہے جس میں اس کی ’’سرگرمیوں‘‘ کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے اس پر عدالت کے تبصرہ کے تجارتی استعمال اور ان کو مالی فائدہ کیلئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیاگیا ۔ اس پٹیشن میں مرکزی حکومت، وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، بار کونسل آف انڈیا اور سی بی آئی کو فریق بنایا گیا ہے۔راجا چودھری کا کہنا ہےکہ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ان کی عرضی منصفانہ تنقید، اختلافِ رائے کے اظہار یا طنز پر حملہ نہیں ہے بلکہ عدالت کی سنجیدہ کارروائی کو آن لائن ’’وائرل تماشا‘‘ میں بدلنے اور اس کے منظم تجارتی استحصال کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ سپریم کورٹ نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اس عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی کی بنچ نے درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل این کے گوسوامی سے کہا کہ وہ اس معاملے کو "اتنے جذباتی انداز میں” نہ لیں۔
گوسوامی نے جب عرض کیا کہ سی جے آئی کی وضاحت کے باوجود ایک مسخ شدہ اور بدنیتی پر مبنی بیانیہ جاری ہے تو سی جے آئی بولے، ’’اسے جذباتی انداز میں نہ لیں‘‘۔ایک اور وکیل نے کہا کہ وہ جعلی قانون کی ڈگریوں کے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کہا کہ کمرہ عدالت کے تبادلے کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سی جے آئی نے جواب دیا، "ایسی کوئی بڑی عجلت نہیں ہے۔ ہم دیکھیں گے۔”درخواست میں عدالتی کارروائی کے دوران دیے گئے زبانی مشاہدات کے مبینہ تجارتی استحصال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں جعلی ڈگریوں کا استعمال کرتے ہوئے قانون کی مشق کرنے والے مبینہ جعلی وکلاء کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔عدالتی کارروائی کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ عدالتی کارروائی کے دوران کیے گئے تبصروں اور مشاہدات کو تشہیری مہم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کے ریمارکس خاص طور پر ایسے افراد پر تھے جو "جعلی اور بوگس ڈگریوں” کے ذریعے قانونی پیشے میں داخل ہو رہے تھے اور "میڈیا کے ایک حصے کی طرف سے ان کا غلط حوالہ دیا گیا”۔
ایک دورے کی بساط ؟وہ ایک ایسے وقت میں مذکورہ بالا دورے پر نکل کھڑے ہوئے جب برکس ممالک کے وزرائے خارجہ دہلی میں جمع تھے۔ انہیں صدر کی حیثیت سے سب کو عشائیہ پر بلاکراس عالمی تنازع کا حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی مگر موصوف میں تو اس کی اہلیت اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ دلچسپی بھی نہیں ہے۔ اس لیے وہ وہی کررہے ہیں جو کرسکتے ہیں یعنی کبھی پردھان منتری سے پرچار منتری بن جاتے ہیں اور کبھی اڈانی کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ یوگیندر یادو کے مطابق یہ ’ودیش نیتی نہیں وِشیش نیتی ہے‘ (یعنی خارجہ پالیسی نہیں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے والی حکمت عملی)۔ اس سے اڈانی اور امبانی وغیرہ کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے اور عوام کو بیوقوف بنائے لیکن یہ گھناونا کھیل کب تک چلے گا۔ ایک نہ ایک دن یہ پاپ کا گھڑا چوراہے پر ضرور پھوٹے گا۔
Post Views: 71