Skip to content
ظریفانہ:بکرے اور خنزیر میں فرق
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن سنگھ نے کلن خان سے کہا یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ان کو کیا پریشانی ہے؟؟
کلن بولا پہیلیاں نہ بجھواو۔ کن کے بارے میں سوال کیا جارہا ہے؟ پتہ چلے تو ان کی خواہش کا سراغ لگایا جائے ؟؟
ارے وہی احمق جو بکروں کی مخالفت میں سور ّ لے آئے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کے دماغ میں اتنی بری بات آکیسے گئی؟
یار وہ تو اپنے آبا و اجداد کو لے آئے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟
اچھا وہ ان کےباپ دادا کیسے ہوگئے ؟
ارے بھائی شردھا (عقیدے ) کا معاملے میں انسان جو چاہے مان لے ۔ گائے اگر ماتا ہوسکتی ہے توخنزیرپتا (باپ) کیوں نہیں ؟
یار تم نے خنزیر کو گائے کے برابر کہہ کر میری دل آزاری کردی مجھے یہ توقع نہیں تھی۔
بھائی معافی چاہتا ہوں۔دونوں کی نسل مختلف ہے مگر ہیں تو جانور ہی نا ؟ اتنا برا ماننے کی کیا بات ہے؟
للن بولا اب لیپا پوتی چھوڑو۔ تیر کمان میں واپس نہیں آتا۔ کوئی تمہیں بیل یعنی گائے بچہ کہے یا سور کی اولاد کہے تو کیا یکساں ہے؟؟
یار تم نے بات دل پر لے لی خیرکوئی انسان اگر بیل بدھی ہو تو وہ وقت پڑنے پر سورّ کو بھی باپ بناسکتا ہے۔
تم نے بڑی چالاکی محاورے میں گدھے کی جگہ سورّ کوفٹ کر دیا ۔ بہت بدمعاش ہوگئے ہو ۔
بھائی وشنو جی دس اوتاروں میں تیسرے نمبر وراہا اوتار کے بارے میں نہیں سنا کیا؟
یار کلن، نتیش رانے نے تو تمہیں سناتن دھرم کا پنڈت بنا دیا ۔ یہ تم بہت دور کی کوڑی لائے ہو ۔
ارے بھائی وشنو جی کے دس اوتاروں کے بارے میں کون نہیں جانتا ؟
میں بھی جانتا ہوں ۔ میں نے سوچا کہ چونکہ اسلام میں خنزیر حرام ہے اس لیے اسے لایا گیا ۔
کلن نےپوچھا للن یہ بتاو کہ تم وشنو کے کون کون سے اوتار کو جانتے ہو؟
للن نے دماغ پر زور ڈالنے کے بعد کہا یار مجھے یہ تو پتہ ہے کہ جملہ دس اوتار تھے مگر رام اور کرشن کے علاوہ کوئی اور اوتاریاد نہیں آرہا ہے ۔
یار تم بھی ہرے راما ہرے کرشنا بنانے والے دیوآنند کے چیلے نکلے ۔
نہیں بھائی مجھے یہ گیان سنگھ کی شاکھا میں ملاتھا لیکن وہاں کی بدمعاشیوں سے دل برداشتہ ہو کر بھاگ نکلا ۔
سنگھ اور بدمعاشی ؟ دھیمے بولو ورنہ این ایس اےکے تحت گرفتارہوگئے تو کم ازکم ۶؍ ماہ تک ضمانت بھی نہیں ملے گی۔
یار خلاف فطرت زندگی بدمعاشی کی جڑ ہے۔ میں اگر رسیّ تڑا کر بھاگانہ ہوتا تو مجھے بھی کیرالا کے سنگھی انجنیر کی طرح خودکشی کرنی پڑتی۔
چلو اچھا کیا مگرتم تو وشنوجی کو چھوڑ کر سنگھ کی وادیوں میں کھو گئے۔ ویسے سنگھ کی شاکھا میں جاکر بھی تم وشنو کے اوتار نہیں جان سکےحیرت ہے؟
اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ وہاں اپنوں سے زیادہ غیروں کی بابت بتایا جاتا تھا ۔ ہندووں کے بجائے مسلمانوں پر خوب گفتگو ہوتی تھی ۔
یار یہ کمال ہے کہ ہندو راشٹر بنانے والے اپنے سے زیادہ غیروں کا ذکر کریں ؟ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
للن بولا یار ہمیں مسلمانوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جھوٹ بتایا جاتا تا کہ ہم ان سے بیش ازبیش نفرت کرسکیں ۔
کلن نےپوچھا لیکن اس سے ہندو راشٹر کیسے بنے گا؟ کیا اس کے لیے اپنے سماج اور اپنی تاریخ کو جاننا ضروری نہیں ہے؟
بے شک ہے لیکن ہماری تاریخ اتنی گھناونی ہے کہ اس کو پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے پرکھوں کے کرتوت دیکھ کر خود سے نفرت ہوجاتی ہے ۔
یا ر تم تو وہاں سے واپس آکر نہایت معروضی فکر کے حامل ہوگئے لیکن پھر بھی تمہیں پڑھنا چاہیے ۔
بھیا مجھ سے وہ نہیں ہوگا اس لیے تم ہی خنزیر والے اوتار کے بارے میں بتادو ۔
بھئی ایسا ہے کہ قدیم (اساطیری) حکایتوں کے مطابق مچھلی اور کچھوے کے بعد یہ وشنوجی کا تیسرا اوتارخنزیر تھا ۔
اچھا لیکن اس روپ میں آنے کی کیا وجہ تھی؟
اس زمانے میں ہیرانیاکشا نامی ایک آسیب نے زمین کو سمندر میں چھپا دیا تو وشنو نے وراہایعنی سورّ کی شکل میں اسے مار کر زمین کو سمندر سے نکال لیا۔
بہت خوب مگر وشنو کے بھگت تو انہیں خنزیروں کو قربانی کے لیے لے آئے۔ انہیں کچھ تو سوچنا چاہیے تھا؟
بھیا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہوتی تو وہ بھی تمہاری طرح سنگھیوں کی رسیّ تڑا کر بھاگ لیتے ۔
چلو وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ مچھلی اور کچھوا کے اوتار نے کیا کیا تھا؟
بھیا حیاگریوا نامی آسیب کی دہشت سے زمین پانی میں ڈوب گئی تو وشنو کے پہلے متسیا اوتار نے مچھلی کی شکل میں ہیاگریو کو مارا اور زمین کو پانی سے باہر نکالا۔
ارے پھر سے زمین ، پانی اور آسیب یار کافی مماثلت ہے۔
لیکن کچھوے کا معاملہ مختلف ہے اس نے مندرا پہاڑ کو اپنی پیٹھ پر اٹھایا اور اس سے دیو اور دانووں نے مل کر آب حیات کی خاطر سمندر کا منتھن کیا ۔
یار یہ خوب ہے کہ دوست اور دشمن اپنے فائدے کے لیے ایک دوسرے کے معاون بن گئے ۔
جی ہاں آج بھی شیوسینا اور بی جے پی ایک دوسرے کی دشمنی کے باوجود اشتراک و تعاون سےمنتھن کرکے اقتدار کا امرت نوش فرما رہے ہیں ۔
اچھا اب سمجھ میں آیا ۔ یہ تو ہماری پرانی پرمپرا ہے؟ لیکن رام اور کرشن کہاں کھو گئے ؟
ارے بھیا رام تو ساتویں نمبر پر راون کا خاتمہ کرنے کے لیے اور ان کے بعد کنس سے نجات دلانے کے لیے کرشن آئے نیز مہابھارت میں بھی حصہ لیا ۔
اچھا اب سمجھا سارا معاملہ یہ ہے راون اور کنس جیسوں سے خطرات سے بچانے کے لیے اوتار کو آنا پڑا۔ اب مسلم خطرے سے نمٹنے کے لیے سنگھ پریوار
بالکل صحیح سمجھے پہلے خطرہ پھر نجات دہندہ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ گوتم بدھ کو بھی نواں اوتار بنالیا گیا ہے جبکہ ان کے مذہب کو نکال باہر کیا گیاتھا۔
اچھا تو دسویں یعنی کلکی اوتار نے کیا کیا؟
بھیا بیشتر سناتنی علماءکے مطابق وہ آخری او تار ابھی نہیں آیا مگر کچھ لوگ کہتے ہیں اس کے لیے بیان کردہ اوصاف محمد ﷺ میں ہیں واللہ اعلم ۔
یار کلن تم تو بڑے گیانی نکلے کاش کے کوئی ان اندھ بھگتوں کو بھی یہ سمجھاتا ۔
بھیا ان کو کوئی نہیں سمجھا سکتا وہ تو یوگی جیسےبلڈوزر بابا کو اقتدار پر فائز ہونے کے سبب شنکر اچاریہ اوی مکتیشور انند سےبڑاعالم فاضل سمجھتے ہیں۔
یار لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کچھوے والے اوتار کے سوا سبھی نے ودھ(قتل ) کیا اور ان کو ماننے والے کہتے ہیں کہ بکرا بھی نہ کاٹا جائے ؟
ارے بھیا ان کو کیا معلوم کے اوتار کیوں آتے تھے ۔ ان اسا طیری داستانوں میں اوتار جن کا ودھ کرنے کے لیے آتے تھے ویسے تو وہ خود بن گئے ہیں۔
اچھا یہ بتاو کہ اس ودھ(قتل) اور مسلمانوں کی قربانی میں کیا فرق ہے؟
بھیا حضرت ابراہیم ؑ نے دشمن کو نہیں بلکہ خوشنودیٔ رب کے لیے اپنے بیٹے کو قربان گاہ میں لٹا دیا ۔ اللہ تعالی ٰنےبیٹے کو بچا کر مینڈھے کو قربان کروادیا ۔
یار یہتو بہت بڑی بات ہے کہ بندہ رضائے الٰہی کی خاطر اپنی پسندیدہ شئے زندگی بھر قربا ن کرے اور مویشی کی قربانی سے سنت ابراہیمی ؑ کو زندہ رکھے ۔
ہاں یار ایسے میں نتیش جیسے لوگوں کا یہ کہنا کہ مسلمان علامتی قربانی کریں نہایت احمقانہ مشورہ ہے۔
جی ہاں وہ چاہتا ہے کہ مسلمان بھی بکرے کی مورت بناکر اس کی پوجا کریں اور شراب پی کر ڈی جے کے شور میں اسے پانی میں ڈبو دیں ۔
لیکن اس سے تو پانی آلودہ ہوجائے گا جبکہ یہ ماحولیات کا رونا روتے ہیں۔
ارے بھیا دیوالی کے موقع پر ہوا کی آلودگی بڑھا کر آواز کا پولیوشن کیا جاتا ہے۔ گنیش وسرجن پرشہر کا ٹرافک جام ہوجاتاہے۔
جی ہاں مگر یوگی جی تو سڑک پر نماز پڑھنےکو لے کر اپنا نزلہ اتارتے رہتے ہیں۔
یار یہ بتاو کہ جین سماج کو بقر عید ہی کے وقت بکروں سے محبت کیوں امڑ کر آتی ہے؟
بھائی انہیں نہیں معلوم ہر روز 14؍ لاکھ بکرے کٹتے ہیں ۔ ہندوستان سے لاکھوں ٹن بیف دنیا میں جاتا ہے اس پر یہ ایک حرف نہیں بولتے۔
مجھے تو بھیا یہ سب منافقت لگتی ہے۔ ان کو ہندووں سے ہمدردی ہوتی مغربی بنگال جاکر وہاں گائے خرید لیتے لیکن انہیں تو نوٹنکی کرکے ویڈیو بنانا ہے۔
کلن بولا اچھا کیا جو تم وہاں سے نکل آئے ورنہ ان حماقتوں پر شرم کرنے کے بجائے فخر کرتے ۔
للن نے کہا یار ایک بات بولوں برا تو نہیں مانوگے؟
جی نہیں ایسی کیا بات ہے میں مودی یا یوگی تھوڑی نا ہوں کہ اپنے ناقد کو ملک دشمن قرار دے کر جیل میں ڈال دوں ۔ بلا جھجک بولو۔
یار تم نے اتنا گیان (علم) بگھارا مگر میرے بنیادی سوال کا جواب نہیں دیا۔ آخر ان کو پریشانی کیا ہے؟
دیکھو بھائی یہ اتنے دُکھی لوگ ہیں کہ ان سے دوسروں کی خوشی دیکھی نہیں جاتی اور وہ اسے بگاڑ نے میں لذت محسوس کرتے ہیں ۔
Post Views: 52