Skip to content
دوسرا خواتین کنونشن 2024 کا نئی دہلی میں کامیاب انعقاد !
نیو دہلی،23جولائی( ایجنسیز)
محترمہ برندا کرت ، سی پی آئی ، سابقہ ممبر آف پارلیمنٹ ، جناب سلمان خورشید صاحب، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اور محترمہ صوفیہ کوثر صاحبہ ، ایم ایل اے ،اڑیسہ بحیثیت مہمانان خصوصی کے شرکت !
مختلف شعبوں میں ماہرانہ صلاحیت و قابلیت رکھنے والی مسلم ویمن کو اس کنونشن میں”چیمپئن آف چینج ” ایوارڈس پیش کئے گئے۔
آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن کی جانب سے سہ روزہ کنونشن *چیمپئن آف چیج کا 19، 20 ،21 / جولائی 2024 کو نئی دہلی میں انعقاد عمل میں آیا ۔ جس میں ملک کے 18 ریاستوں سے 300 سے زائد ڈیلیگیٹس ، دانشور خواتین ، لکچررس ، ہوم میکرس ،ڈاکٹرس ،طالبات اورمائیں موجود تھیں ۔
اس کنونشن کا افتتاحی اجلاس بروز : 19 / جولائی ، بمقام : انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر ، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ محترمہ ایفالولے صاحبہ ، یوتھ سکریٹری نے قرأت کلام پاک پیش کیا۔
محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ نائب صدر آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن نے مندوبات اور شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کا یہاں جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہیکہ آپ فکر مند ہیں۔ اپنی قوم کے حالات اور اپنی نسلوں کے مستقبل کیلئے آپ کچھ کرنا چاہتی ہیں ۔آپ کو AIMWA کے پلیٹ فارم سے وہ مدد ملے گی جس سے آپ اپنے علاقوں میں فعال اور متحرک ہو سکتی ہیں ۔ تعلیم ، تربیت ، اصلاح معاشرہ ، تحفظ شریعت اور خدمت خلق کے کاموں میں خواتین بہترین خدمات انجام دے رہی ہیں ۔*آج اس کنونشن کے پہلے دن ہم ان قابل بہنوں کو اوارڈس دے رہے ہیں ، جنھوں نے اپنے اپنے میدان میں کارنامہ انجام دےکر مقام حاصل کیا ۔
محترمہ ہدی راول صاحبہ سکریٹری AIMWA نے تنظیم کا تعارف کروایا ۔ اغراض و مقاصد پیش کئے۔ اور ذمہ داروں کے اور مختلف شعبوں کے کنوینرس کے نام اورکام بتلائے۔
مہمان خصوصی جناب سلمان خورشید صاحب ، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا نے کنونشن کے انعقاد پر ذمہ داروں کو مبارکباد پیش کی ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے سامنے اس وقت اس ملک میں بیشمار مسائل اور چیالنجس ہیں ۔ ہم پر بڑی بھاری ذمہ داری ہیکہ ہم اپنے اخلاق اور اپنے کردار سے ہر شعبہ حیات میں اپنا مقام پیدا کریں، جو بھی ایشوز ہیں اس کو سمجھیں اور اس ملک کے دستور میں دی گئی آزادیوں کو سمجھتے ہوئے اپنے حقوق کی بقاء اور تحفظ کی کوشش کریں ۔ خواتین کی طرف سے بھی جو کوششیں ہیں وہ قابل قدر و قابل تحسین ہیں ۔
مہمان خصوصی محترمہ برندا کرت نے اس ملک میں خواتین کے مسائل پیش کئے اور کہا کہ رحم مادر میں 12 سے 14 لاکھ لڑکیاں سالانہ قتل کردی جاتی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مسلم سماج کی یہ خوبی ہے اور مسلم سماج قابل تعریف ہیکہ female feticide کا تناسب مسلم سماج میں سب سے کم ہے۔ انھوں نے دوسری خواتین کے ایشوز پر بھی روشنی ڈالی ، گھریلو تشدد ، عورتوں کے خلاف ظلم و زیادتی وغیرہ ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گھروں میں جو عورت روزانہ 6 تا 8 گھنٹے کام کرتی ہے اس کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا ۔ اور یہ کہا کہ وہی سماج ترقی کر سکتاہے جو اپنی خواتین کی عزت کرے اور ان کو حقوق دے ۔
انھوں نے بلقیس بانو کی ہمت اور جدوجہد بتاتے ہوئے کہا کہ بلقیس بانو 20 سال پہلے ایک مظلوم عورت تھی اور آج ایک Warrior ہے۔ وہ اپنی اور اپنی فیملی کے حق و انصاف کے لئےلڑ رہی ہے۔ انھوں نے آل ا ڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن کے قیام کی مبارکباد پیش کی اور خواتین کی فلاح و ترقی اور تحفظ کی کوششوں میں تعاون کا وعدہ کیا۔
محترمہ صوفیہ فردوس صاحبہ اڑیسہ کی پہلی خاتون ایم ایل اے نے بحیثیت مہمان خصوصی کے شرکت کی۔ انھوں نے اپنے خطاب میں خواتین کو محنت ، جدوجہد اور کوشش کےلئے ترغیب دی۔ اور ان کے سیاسی سفر کی جدوجہد پر روشنی ڈالی ۔ انھوں نے کہا کے مسلمانوں کے سامنے غربت ، علم کی کمی ،اور معاشی مسائل بہت ہیں ۔ ہم کو سخت محنت کرنی ہڑے گی اور کوشش کرنی پڑے گی جب ہی ہم اپنی کمیونٹی کو ترقی کی راہوں پر لاسکتے ہیں۔
محترمہ عظمی پاریکھ صاحبہ، جنرل سکریٹری نے آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن کے قیام سے گذشتہ ایک سال کی رپورٹ پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ خواتین و طالبات میں دعوتی ، اصلاحی، تربیتی اور ہنر، اسکل، ڈولپمنٹ کے پروگرامس یوپی ، مہارشٹرا ، تللنگانہ ، ویسٹ بنگال ، کرنا ٹک ، بہار ، دہلی ، راجستھان ، مدھیہ پردیش، ٹاملناڈو ، کیرالا اور دیگر ریاستوں کے مختلف شہروں میں منعقد ہوئے آن لائن اور آف لائن کلاسس نور القرآن ، تجوید کورس ، تحفیظ القرآن ، تعارف اسلام کورس ، تحفظ بنت المسلم پروگرامس ، پیرنٹنگ سیشن ، مدرھڈ ورکشاپس،تحفظ نسل مسلم مہم ، میت کے مسائل، چلڈرن سرکل ، انٹلکچوئل میٹس ، اور تقریبا ہر ریاست کے حلقہ خواتین کے 2000 سے زائد ٘پروگرامس رکھے گئے۔ جس سے ایک اندازے کے مطابق 3 تا 5 لاکھ بہنوں تک پہنچنے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ نے اپنے صدارتی بیان میں کہا کہ زندگی میں جتنے بڑے کام انسان کرنا چاہتا ہے اس کیلئے اسےاتنی ہی بڑی قربانی دینی پڑتی ہے ، اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کا کام ، دین اللہ کی حفاظت اور ترقی بھی قدم قدم پر قربانیوں کا متقاضی ہے۔ اس سے اجتماعی جدوجہد کامیابی کے مراحل میں داخل ہوتی یے۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہندوستانی مسلمانوں کو نئے نئے چیالنجس کا سامنا ہے ، مسلمانو ں کے گھروں کو بلڈوزر سے گرادیا جارہا ہے۔حجابی خواتین اور لڑکیوں پرقوانین کے ذریعہ کالجس و اسکولس میں پابندی عائد کی جارہی ہے۔ بعض تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپگنڈے کی جو مہم 2014 میں شروع کی گئی تھی وہ اب بھی جاری ہے۔
مسلم پرسنل لاء کی برخواستگی کےلئے قانون شریعت کے خلاف فیصلےاور من مانی قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ تین طلاق کی برخواستگی، تعداد ازدواج ، عدت کے بعد بھی نان نفقہ کی ادائیگی ، قانون وراثت اسلامی اورقانون وقف کو ختم کرنے کےلئے ہر وقت کوششیں کی جارہی ہیں۔ طویل عرصے سے بے قصور نوجوان مسلمانوں کو جیلوں میں بغیر کسی جرم کے ، ثبوت کے کئی کئی سال سے قید میں رکھا گیا۔
4 جون کے انتخابی نتائج کے بعد ظلم و بربریت ، نا انصافی ، حقوق کی پامالی وغیرہ بہت بڑھ گئی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم اور ہندوستانی سماج کی تبدیلی کیلئے ایک عظیم جدوجہد کئلئے ہم سب طالبات و خواتین بہنیں، مائیں اٹھ کھڑے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ ایمان ، عمل صالح ، اسلامی تعلیمات اور شریعت اسلامی ، تہذیب و تمدن، شعائر اللہ ، مساجد اور اذان ، قبرستان، مدارس ، ہمارے لباس ، أکل و مشرب ، نوجوان نسل کے اسلامی تشخص کے ساتھ پروان چڑھانےاور ملک و عالم کے ایک عظیم آفاقی مذہب اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اور بقاء کےلئے ہم اپنا رول ادا کریں۔
ہماری دستوری بقاء و تحفظ ،انصاف و حقوق کی بازیابی کیلئے اس وقت عین ممکن ہے ، جب ہمارے گھر کا ہر بچہ، خاتون اور نوجوا ن سب کے سب چیالنجنگ ماحول کو بدلنے کےلئےانتھک کوشش ، عظیںم جدوجہد اور struggle میں لگ جائیں۔
محترمہ افروزجعفری صاحبہ
وژن 2030 پر روشنی ڈالی۔ اور کہا کہ ملک ہندوستان کی 7 – 8 کروڑ مسلم خواتین تک اپنی آواز پہنچانے AIMWAآن لائن اور آف لائن پروگرامس منعقد کرئے گی ۔ تعلیم ، تربیت ، اصلاح ، تحفظ ، حقوق ، دفاع اور بقاء کی مستقل کوشش کی جائے گی۔ قابل دانشور خواتین کے فورمس ، ڈاکٹرس ،وکلاء ، جرنلزم اور سیاست سے جڑی بہنوں کو AIMWA سے جوڑا جائےگا ۔ 100 ایسے ڈسٹرکٹس کی لسٹ بنائی گئی ہے ۔ جہاں مسلم آبادی کا تناسب زیادہ ہے۔ ان ڈسٹرکٹس میں فعال بہنوں کو Development Agenda سے جوڑا جائے گا۔ غربت کے خاتمے کےلئے ، شعبہ تعلیم میں معیار تعلیم و اعلی تعلیم ، اساتذہ ، اسکولس کے قیام اور ریڈنگ رومس ، لائبرریز، کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی طرح شعبہ صحت میں مسلم لیڈی ڈاکٹرس کی خدمات ، ہیلتھ*کلینکس ، ہاسپٹل کے قیام ، مقروض بہنوں کےلئے بلاسودی چٹ سسٹم اور سلف ہلپ گروپس کا قیام ، ملی ایشوز میں AIMWA ہندوستان کی مسلم خواتین کی آواز بنے گی۔ اور خواتین کے مسائل کیلئے عدالتوں اور ریاستی و مرکزی حکومتوں سے نمائندگی کر ے گى۔
محترمہ زینت مہتاب صاحبہ نے اپنے اختتامی کلمات میں سب کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نےدانشور خواتین کی ذمہ داری بتاتے ہوئے کہا کہ ملت کی مائیں ، *بیٹیاں جب کسی مسئلہ میں پریشان ہو تو ہم سب کا فریضہ ہیکہ ان کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔
انھوں نے کہا کہ کرناٹک میں حجاب کا مسئلہ جب ہوا تو ہم نے اس کےلئے عدالتی کوشش کو ضروری سمجھا اور ہماری*سب بہنوں نے اس کے لئے رقم جمع کی۔اور ہماری تنظیم اسی طرح آسام کی بہنوں کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ وہاں نئے قوانین بناکر مسلمانوں کو خاص کر مسلم خواتین کو نشانہ بنایا جارہا یے۔انکی شادی ،طلاق کے معاملات کو قانون شریعت کے خلاف کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔*
کنونشن کے دوسرے دن 20/ جولائی ، ریورویو ہوٹل ، اوکھلا، نئی دہلی، صبح 9 تا 11 بجے دن اراکین کا خصوصی اجلاس رہا۔
تیسرا سیشن 11 بجے دن شروع ہوا ، جس میں 15 ریاستوں کی بہنوں کے کام کی سرگرمیاں ان کے کواڈینیٹرس نےپیش کی۔
حیدرآباد سے محترمہ تہنیت اطہر صاحبہ نے طالبات و خواتین کی 28 سالہ کوشش اور جدوجہد پر روشنی ڈالی، مسلم گرلز اسوسی ایشن، شریعت کمیٹی(برائے خواتین) ، مسلم پرسنل لاء بورڈ میں طلاق بل کے وقت عوامی تحریک ، سلامہ اسکولس ، سلامہ ہاسپٹل کی رپورٹ اور مسلما نوں کے معاشی مسائل کے حل کےلئے مسلم ویمن ڈیولپمنٹ سوسائٹی کی خدمات کی رپورٹ مختصرا پیش کیں۔
انھوں نے کہاکہ ہمارا کام ہماری پہچان بنے ،اور وقت ، صلاحیت ،ہنر اگر صحیح سمت میں منصوبہ بند طریقہ سے استعمال کریں گے تو ملت کا مستقبل روشن درخشاں و تابندہ ہوسکتا ہے۔
محترمہ نکہت خاں صاحبہ نے پٹنہ ، بہار کی رپورٹ پیش کی ، محترمہ عظمی پاریکھ صاحبہ نے ناگپور میں خواتین کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی ۔ محترمہ ہدی راول صاحبہ نے ممبئی کی، محترمہ رابعہ ملا صاحبہ نے کولاپور ، مہاراشٹرا کی ، محترمہ حوا متین صاحبہ نے کولکتہ کی ، محترمہ امیمہ فہد صاحبہ نے مرادآباد کی ، محترمہ فاطمہ صاحبہ نے کیرلا میں انکی خدمات کی ، محترمہ مبینہ رضوان صاحبہ نے سری نگر کی ، محترمہ زینت مہتاب صاحبہ نے دہلی کی ، محترمہ ام محمد صاحبہ ، محترمہ اسماء ندیم صاحبہ اور دیگر بہنوں نے اپنے اپنے علاقوں کی سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں۔
چوتھے سیشن میں پینل ڈسکشن رکھا گیا۔ شعبہ تعلیم کی ماہر بہنوں نے حصہ لیا۔ جس میں محترمہ وحیدا سید صاحبہ ، ممبئی ۔ پروفیسر رفیق النساء صاحبہ ، حیدرآباد اور محترمہ شابانہ پٹیل صاحبہ ،شامل تھے۔
وکلاء کے سیشن کو ڈاکٹر نیلم غزالہ صاحبہ نے ماڈریٹ کیا۔ اس میں ایڈوکیٹ راشدہ سہیل صاحبہ اور ایڈوکیٹ ذکیہ معین صاحبہ نے مسلم پرسنل لاء ، قانون نفقہ ،حالیہ سپریم کورٹ کے نفقہ کے متعلق فیصلہ ،حجاب ، مسلم خواتین پر تشددجیسے نکات پر مخاطب کیا۔
محترمہ حوا متین صاحبہ دعوی سکریٹری نے چلڈرن سرکل کی رپورٹ پیش کی۔
محترمہ افروز جعفری صاحبہ نے پیرنٹنگ سیشن کے متعلق رپورٹس پیش کی۔
محترمہ تسنیم صاحبہ یوتھ سکریٹری اور محترمہ ایفا لولےصاحبہ ،جوائنٹ سکریٹری نے بنت المسلم کونسل کا تعارف پیش کیا۔ آن کائن ورکشاپس ، امپورمنٹ پروگرامس اور گرلز گیٹ ٹوگیدر کے ذریعہ اسکولس و کالجس کی طالبات کے خصوصی سیشن کی تفصیلات بتائی ۔ ہر ریاست میں طالبات کےلئے دینی تعلیم ، تجوید القرآن ، درس قرآن، تعارف اسلام کلاسس اور اصلاحی نشستوں کی ضرورت پر زور دیا اور انھوں نے کہا کہ AIMWA کے پلیٹ فارم سے ملت کی یہ اہم ضرورت پوری کی جائے گی۔
محترمہ اسماء ندیم صاحبہ سکریٹری مسلم ویمن ڈیولپمنٹ سوسائٹی نے سوسائیٹی کے اغراض ومقاصد بتلائے ، انھوں نے کہا کہ "غربت کو تاریخ بنادو” ایک فکر ، ایک تحریک اور ایک بہترین نعرہ ہے۔ اس کے تحت جہاں معاشی خوشحالی کی کوشش کو پروان چڑھایا جاتا ہے ، وہیں سود اور متی سے نجات دلاکر خواتین میں بچت کی عادت ڈالی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر سماج اور خاندان کے معاشی مسائل میں خواتین کا رول اہم ہے۔ اور اگر خواتین میں ترقی کی فکر آجائے تو فضول خرچی سے اجتناب کریں گی اور بچت کا شوق ان میں پیدا ہوگا۔
خواتین نے ہرسیشن میں سوالات کئے اور سرگرمیوں میں تعاون دینے کا وعدہ کیا۔
پانچواں سیشن، بروز اتوار ، بوقت 11 بجے دن شروع ہوا۔ اس سیشن میں آئندہ سال کے کام کا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔
اضلاع ، گاؤں اور دیہاتوں میں کاموں کو وسعت دینے پر زور دیا گیا۔ تنظیم کے مختلف شعبوں کومضبوط و منظم کرنے اور ملک کے ہر ریاست اور یونین ٹریٹریز تک پہنچ کرکام کرنے کا عزم گیا گیا۔
محترمہ زینت مہتاب نے شرکاء کنونشن کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر نیلم غزالہ کی دعاء پر ا س کنونشن کا اختتام عمل میں آہا۔
300 سے زائد خواتین و طالبات اس کنونشن میں شریک تھیں۔
Like this:
Like Loading...