Skip to content
پروفیسر حمیدسہروردی کی 79ویں سالگرہ
ازقلم:محمدیوسف رحیم بیدری
، موبائل :9845628595
ہر سال پر سالگرہ کی گرہیں کھلتی جاتی ہیں۔ اورمتعلقہ فرد کو بتاتی ہیں کہ زندگی کیاہے اوراِمسال زندگی کیسے گزری۔چند ایک سے سوال بھی ہوسکتاہے کہ آئندہ کے لئے کیاسوچ رکھاہے ؟ مختلف جواب سامنے آسکتے ہیں۔ گرہیں کھل جائیں تو بتاؤں ۔ جو مرضی زندگانی کی، ہم کہاں گزارپاتے ہیں گزرجاتی ہے جیسی بھی وغیرہ وغیرہ۔
پروفیسر حضرات کی بابت سنا گیاہے کہ (غائب دماغی اپنی جگہ لیکن )وہ حساب کتاب کی مخلوق ِ ارزاں ہوتے ہیں۔میرے خیال میں یہ سب باتیں پروفیسر حمیدسہروردی سے متعلق نہیں ہیں۔ دواسٹیٹ (مہاراشٹراور کرناٹک نہیں بلکہ اندرون وبیرون) میں جینے والوں کے لئے زندگی آسان نہیں ہوتی۔ یہاں کاجواب علیحدہ ہوتاہے اور اندرون کیلئے جواب کچھ اوردینالازمی ہوتاہے۔
’علیحدہ جواب‘ کے تقاضے پورے کرتے ہیں تو ’کچھ اور جواب‘ کو برا لگتاہے اور جب’ کچھ اور جواب‘ کے لئے کچھ کہاجاتاہے تو’ علیحدہ جواب‘ ناراضی کااظہار کئے بغیر نہیں رہتا۔اور زندگی ہے کہ قہقہہ لگانے اوراداس کردینے سے باز نہیں آتی۔ تاہم جوں جوں عمر بڑھتی ہے ، اداسی سے بھی شرم سی محسوس ہوتی ہے کہ اس عمر میں کیااداس ہواجائے ۔ نیلگوں آسمان والے کی معیت میں رہ کر بھی اداسی ؟ اس قسم کے سوالات سے انسان بچناچاہتاہے۔ پروفیسر حمید سہروردی دواسٹیٹ کے باشندے ہیں۔ دنیااور آخرت کے لئے جینا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ ہستیاں بآسانی گزارلیتے ہیں۔ جن میں پروفیسر حمیدسہروردی بھی شامل ہیں۔ جن کے بارے میںاکرم نقاش نے لکھاتھا’’حیرت واستعجاب سے دوچار کرنے ولا افسانہ نگار‘‘جب کہ نورالحسنین کا کہناہے ’’آج وہ ایام ِ گذشتہ کی گٹھڑی تھامے یادِ الٰہی میں مشغول اپنے شب وروز گزاررہے ہیں ‘‘۔ ڈاکٹر وہاب عندلیب کاواضح بیان ہے ’’عبدالحمید سہروردی سے پہلی بار کب ملاتھا ، مجھے کچھ یاد نہیں ‘‘۔ڈاکٹر محمد سہیل احمد کے نزدیک ’’ اردو ادب کی دنیا میں حمیدسہروردی اپنے منفر د علامتی افسانوں ہی کے حوالے سے جانے اور مانے جاتے ہیں ‘‘۔عارف خورشید کی تلخی کچھ یوں ہے ’’حمیدسہروردی بات کوا تناگھماتے ہیں کہ قاری کوغصہ آنے لگتاہے اس لیے عام قاری انھیں پسند نہیں کرتا‘‘بھائی عام آدمی پارٹی ٹھکانے لگ چکی، عام قاری کس کھیت کی مولی ہے ؟۔یہ بات آم کے عروج کے زمانے میں کہی جارہی ہے۔شمس الرحمن فاروقی کی خواہش ہے ’’میں چاہتاہوں کہ تم کثرت سے نظمیں کہو اور جدید ادب کو مزید تقویت پہنچاؤ‘‘۔پروفیسر ابوالکلام قاسمی کہہ رہے ہیں ’’آپ کے تخلیقی اظہا رکے تمام اسالیب (شش جہت آگ) میں جمع ہوگئے ہیں ‘‘۔جیلانی بانو کے نزدیک ’’عقب کادروازہ‘‘ نئے افسانوں میں ایک بہت اچھا اضافہ ہے ‘‘۔ امجد علی فیض گواہی دیتے ہیں کہ ’’حمیدسہروردی تہذیب وشرافت اور شائستگی کااعلیٰ نمونہ ہیں ۔ اسی شرافت اور شائستگی نے چائے اور مئے خانے سے دور رکھاجب کہ ادب میں اکثریت یک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے کہ ذیل میں آتی ہے۔ تاویل یہ پیش کی جاتی ہے کہ معیاری اور تخلیقی اداب میں بنتی نہیں ہے بادہ وساغر کہے بغیر ۔ آپ نے اس کلیہ کو مفروضہ ثابت کردیا‘‘۔ مہدی جعفر کی گواہی ہے ’’وہ انتظار حسین کے جعلساز افسانہ نگاروں والے تردد کی اپنے یہاں تردید کرتے ہیں ‘‘۔ سید اختر کریم کاکہناہے کہ ’’بیڑ شہر کو ادبی حلقوںمیں مقبول بنانے میں حمیدسہروردی کا نمایاں حصہ رہاہے‘‘۔پروفیسر اختر یوسف کہتے ہیں ’’حمیدسہروردی کے افسانوں کاآرٹ منفرد ہے ‘‘۔ابراھیم اختر کہتے ہیں ’’حمیدسہروردی کے افسانوی مجموعہ ’’عقب کادروازہ‘‘ کو پڑھ کرمیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان کے یہاں توانا سماجی شعور اور بھرپور عصری حسیت ہے ۔ ان کے افسانوں میں فنی بالیدگی کااحساس ہوتاہے ‘‘۔ڈاکٹر ذکاء الدین شایاں کہتے ہیں ’’حمیدسہروردی کاافسانوی مجموعہ ’’ عقب کادروازہ‘‘ ان کے گزشتہ افسانوں ہی کاتازہ روپ ہے ‘‘۔پروفیسر ارتکاز افضل لکھتے ہیں ’’حمیدسہروردی ماحول اور مقام کا اس چابک دستی سے تصرف کرتاہے کہ یہ کہنامشکل ہوجاتاہے کہ تاثر کس چیز سے پیدا ہوتاہے ‘‘۔انور داغ ؔ کاکہناہے کہ ’’ان کااسلوب ہمیں ڈرامہ کی چست نثر کی یاد دلاتاہے ‘‘۔پروفیسر بیگ احساس کے نزدیک ’’حمیدسہروردی جانتے ہیں کہ اس دور میں لفظوں کامفہوم بدل گیاہے لیکن خلوص کے معنی نہیںبدلے ۔ خلوص اور سچائی کے وہ منکر نہیں ہیں ‘‘۔معین الدین عثمانی کے نزدیک ’’حمیدسہروردی تجربہ پسند طبیعت کے مالک ہیں ‘‘۔ڈاکٹر کوثر پروین کہتی ہیں ’’حمیدسہروردی کے افسانے متوسط طبقے کی زندگی سے بُنے ہوتے ہیں ‘‘۔احسن یوسف زئی کاخیال ہے کہ ’’حمیدسہروردی بے معنویت بے ربطی کی اینٹوں سے اپنے افسانے کی عمارت تعمیر کرتے ہیں جومکمل ہونے کے بعد اپنے وحدت تاثر میں سے جدا نظر آتی ہے ‘‘۔رؤف صادق کے نزدیک ’’حمیدسہروردی کے پاس عورت کبھی بھی جنسی تسکین کاذریعہ نہیں بنتی ‘‘۔ڈاکٹر شائستہ یوسف کابیان ہے ’’حمیدسہروردی میں ایک ایسافن کار کروٹ لے رہاہے ، جو زماں ومکاں ، موت وحیات ، اور جبرواختیارکی حقیقتوں کامتلاشی ہے ‘‘۔ڈاکٹر سہیل بیابانی کہتے ہیں ’’ حمید سہروردی کے یہاں ناوابستگی کا رویہ جگہ جگہ نظر آتاہے ‘‘۔سید مجیب الرحمن کااعلان ہے ’’حمیدسہروردی کے افسانوں میں نرگسیت کے حادثوں کی تصویر ملتی ہے ‘‘۔ڈاکٹر صدیق محی الدین ’’تفکر وتعقل کی اساس ‘‘ مضمون میں لکھتے ہیں ’’ اپنے تخلیقی اظہار میں خود کلامی کا عمل حمیدسہروردی کا بنیادی رویہ ہے ‘‘۔حمیدسہروردی کی بابت اس قدر لکھاگیاہے کہ پڑھنے والے کو وقت نکال کر پڑھنا ہوگا۔ اب بندہ چندایسے جملے پیش کرے گاجس کے کہنے والے کا نام قوسین میں درج ہے ۔ملاحظہ کیجئے ۔
۱۔اردو افسانے کو ایک نیا لہجہ دیاہے (ڈاکٹر شکیل احمد خان ) ۔۲۔ غیر محسوس رفاقت اور علیحدگی کو موثر طریقے سے پیش کیاہے (ڈاکٹر عمر فاروق) ۔۳۔انھوں نے افسانہ کی بنیادی صفت رمزو کنایہ ، کوقصہ ’’چہاردرویش ‘‘ سے اخذ کیاہے (ڈاکٹر محمود شیخ ) ۔۴۔ پروفیسر عبدالحمید سہروردی نے اپنے اعمال اور اخلاق کو قابل تقلید بنائے رکھا(سید عار ف مرشد)۔۵۔ ان کامطالعہ اور حافظہ بہت اچھا ہے (ڈاکٹر محمد سمیع الدین ) ۔۶۔ حمیدسہروردی افسانہ نگار کے علاوہ نظم نگار ، ناقداور مثالی استاد ہیں(ڈاکٹر عبدالباری ) ۔۷ ۔حمیدسہروردی جدید اردو ادب میں ایک معتبر نام ہے (محمود شاہد) ۔۸۔ علامت اور تجرید ان کے لیے مقصود بالذات نہیں (ڈاکٹر سید اقبال خسرو قادری ) ۔۹۔ وہ بلاشبہ نئی کہانی کے بنیاد گزار ہیں (عشرت ظفر) ۔۱۰۔ حمیدسہروردی کو سمندر کو کوزے میں بند کرنے کافن آتاہے (پروفیسر مظفر شہ میری )۔۱۱۔ حمیدسہروردی ایک عمدہ نظم نگار ہیں (صابر فخرالدین) ۔۱۲۔ نظم نگاری میں منفرد لہجے اور اچھوتاانداز ِ فکر صرف حمیدسہروردی کے حق میںآتاہے (سردارسلیم) ۔۱۳۔ حمیدسہروردی کی شہرت بہ حیثیت افسانہ نگار مسلمہ ہے (حامد اکمل) ۔۱۴۔ ان کی ادق گوئی ہی ان پر جچتی ہے (علیم صبا نویدی) ۔۱۵۔ حمیدسہروردی کی افسانوی بافت میں تنوع ہے (پروفیسر عتیق اللہ )۔ ۱۶۔حمیدسہروردی مختلف العباد ادبی شخصیت کے مالک ہیں (ڈاکٹر انیس صدیقی) ۔۱۷۔ پروفیسر حمیدسہروردی افسانہ نگاری اور نثری نظمیہ شاعری کا ایک ممتاز نام ہے (محمدیوسف رحیم بیدری) ۔۱۸۔ حمیدسہروردی کے افسانون سے گزرنے کامطلب ایک روحانی کرب سے گذرتاہے۔ خود آگہی ان کے زیادہ تر افسانوں کامحورہے (شمویل احمد) ۔۱۹۔ ان کے اسلوب میں تہہ داری اور اثرانگیزی ہے (ملنسار اطہر احمد ) ۔۲۰۔ میں نے کبھی ان کوعام دکنی زبان میں بات کرتے نہیں دیکھا ۔ہمیشہ کتابی زبان میں ہی بات کرتے ہیں (ڈاکٹرمشتاق احمد سہروردی) ۔۲۱۔ کہیں کہیں سے حمید کے افسانوں پر Abstract Paintingsکاگمان ہوتاہے ۔ (فیاض رفعت)۔۲۲۔ ’شہر کی انگلیاں خونچکاں ‘ میں حمیدسہروردی نے ایک کے بعد 76کہانیاں لکھ کر یہ ثابت کردیا ہیکہ وہ اس میدان کے اکیلے شہ سوار ہیں (پروفیسر خالد جاوید) ۔ ۲۳۔ خواجہ بندہ نوازکے دربار سے حمیدسہروردی کی خصوصی وابستگی رہی ہے اوران کایہ صوفیانہ رنگ ان کے افسانوں میں محسوس کیاجاسکتاہے (ڈاکٹر عزیز سہیل ) ۔۲۴۔ صاف صحیح اور تخلیقی زبان لکھتے ہیں ، ان کے بغیر کسی بھی حال میں اردو افسانوں کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔ (فخرالدین عارفی ) ۔۲۵۔ انھیں نظم اور افسانے پر مکمل عبور حاصل ہے (ڈاکٹرسیفی سرونجی ) ۔پروفیسر حمید سہروردی کا ادبی کام ہمیشہ ہی لائق ستائش رہا۔ شعرائے کرام نے بھی ان کے کام کی منظوم ستائش کی ہے۔ مختلف شعراء کے چند اشعار پیش خدمت ہیں ؎
تم سپاہی ہو قلم کے ، تم ہو اردو کے مرید
تم ادب کی روح ، تم سرمایہ ء عصر جدید
علم وحکمت کی ، خدا نے تم کو بخشی ہے کلید
سجد ہ کرتی ہے تمہیں شائستگی عبدالحمید
جمیل مجاہد
لفظ و معنی ادا خوب صورت
آپ کا خط ملا خوب صورت
رؤف صادق
کیا میں تم کو دوں لقب عبدالحمید
تم سراپا ہو ادب عبدالحمید
کیاکرے کوئی تمہاراسامنا
تم پہ ہے فیضانِ رب عبدالحمید
شاذرمزی
بہ منظری کے آگے منظر ہے کیا حمید
شعبوں میں قید ہونے کی کرنا کبھی نہ بھول
ڈاکٹر صغریٰ عالم
شش جہت آگ کے مصنف کو
دل سے دیتاہوں مبارک باد
پروفیسر سیدمسعود سراج
ہماری جانب سے حمیدسہروردی صاحب کو 79ویں سالگر ہ(یکم جون2026ء ) کی مبارک باد پیش ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازتارہے ، ایمان ، صحت اور عافیت سے بدستور سرفرازرکھے اور اردوادب کی خدمت لیتارہے۔ آمین
Post Views: 31