Skip to content
حج 1447ھ کامیابی سے اختتام پذیر، 17 لاکھ سے زائد عازمین نے فریضہ حج ادا کیا، مثالی انتظامات
مکہ مکرمہ:یکم جون(پریس نوٹ) سعودی عرب نے حج 1447ھ (2026ء) کے کامیاب اختتام کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال ایک مربوط سیکیورٹی، انتظامی اور خدماتی نظام کے ذریعے حجاج کرام کو اپنے مناسک آسانی، اطمینان اور مکمل تحفظ کے ساتھ ادا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔مکہ مکرمہ ریجن کے نائب گورنر اور مستقل کمیٹی برائے حج و عمرہ کے نائب سربراہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ حج 1447ھ کے دوران سیکیورٹی، تنظیم اور خدمات کا ایک مربوط نظام قائم کیا گیا جس کے باعث لاکھوں عازمین نے اپنے مناسک بخوبی اور محفوظ انداز میں انجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ حج کی کامیابی کام کے اختتام کا نہیں بلکہ نئی ذمہ داریوں کے آغاز کا اعلان ہے، اور سعودی عرب ہر سال اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے اپنے عزم کی تجدید کرتا رہے گا۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق اس سال حج میں مجموعی طور پر 17 لاکھ 7 ہزار 301 عازمین نے شرکت کی، جن میں 15 لاکھ 46 ہزار 655 بیرونِ مملکت سے آنے والے حجاج شامل تھے جو 165 مختلف ممالک کی نمائندگی کرتے تھے، جبکہ ایک لاکھ 60 ہزار 646 افراد نے سعودی عرب کے اندر سے فریضہ حج ادا کیا۔ اس طرح رواں سال حجاج کی تعداد گزشتہ سال کے 16 لاکھ 73 ہزار 230 کے مقابلے میں زیادہ رہی۔سعودی حکومت نے بتایا کہ عازمین کی سہولت اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ سمارٹ کارڈز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمس اور جدید مانیٹرنگ سسٹمز کے ذریعے حجاج کی رہنمائی، نقل و حرکت اور ہجوم کے نظم و نسق کو مؤثر بنایا گیا، جس سے رش پر قابو پانے میں مدد ملی۔شدید گرمی کے پیش نظر طبی اور فلاحی خدمات کو بھی غیر معمولی اہمیت دی گئی۔
مختلف مقامات پر طبی مراکز اور میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے، ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کیے گئے جبکہ ٹھنڈے پانی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔سیکیورٹی اہلکاروں، ٹریفک حکام اور ہزاروں رضاکاروں نے مشترکہ طور پر خدمات انجام دیں اور طواف، سعی، وقوفِ عرفات اور رمی جمرات کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سعودی حکام کے مطابق انہی مؤثر اقدامات کی بدولت حجاج نے اپنے مناسک پرامن اور منظم ماحول میں ادا کیے۔حج کے مناسک کا آغاز پیر کے روز منیٰ میں حجاج کی آمد سے ہوا تھا۔ چھ روزہ حج میں وقوفِ عرفات، مزدلفہ میں قیام، رمی جمرات، قربانی اور مسجد الحرام میں طوافِ وداع سمیت تمام اہم ارکان شامل رہے۔ جمعہ کے روز ہزاروں حجاج نے مناسک کی تکمیل کے بعد اپنے وطنوں کو واپسی کا سفر شروع کیا۔دریں اثنا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات بھی حج پر دیکھنے میں آئے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس سال 30 ہزار سے زائد ایرانی عازمین حج میں شریک ہوئے، جبکہ ابتدائی طور پر تقریباً 86 ہزار ایرانی حجاج کی آمد متوقع تھی۔
ایرانی حکام نے اس کمی کی وجہ موجودہ جنگی صورتحال کو قرار دیا ہے۔سعودی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں بھی حجاج کرام کی خدمت، سہولت اور سلامتی کے لیے جدید ترین وسائل اور بہتر انتظامات کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ زائرینِ حرمین شریفین کو ہر ممکن آسانی فراہم کی جا سکے۔ اس موقع پر پہلی مرتبہ ہندوستانی حج مشن کو سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے حج رابطہ کاری اور مؤثر ابلاغ (کمیونیکیشن) کے شعبوں میں شاندار کارکردگی پر دو باوقار ’’لبیتم ایوارڈس‘‘ سے نوازا گیا ہے۔رواں سال ہندوستان سے تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار عازمینِ حج نے فریضہ حج ادا کیا۔ ہندوستانی حج مشن نے ان عازمین کو رہائش، آمد و رفت، طبی سہولیات اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، جسے سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے بھی سراہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ ہندوستانی حج مشن کو حج رابطہ کاری اور مؤثر ابلاغ کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر دو باوقار ’’لبیتم ایوارڈس‘‘ سے نوازا گیا۔
Post Views: 37