Skip to content
اللہ کے وجود پر مباحثے
ترتیب: عبدالعزیز
چند مہینے پہلے ایک فلمی شاعر جاوید اختر اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فارغ التحصیل نوجوان اسکالر مفتی شمائل ندوی کے درمیان جو مباحثہ ہوا وہ دلچسپی سے دیکھا گیا۔
اس مباحثے میں ایک دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ وجودِ الٰہی کے بارے میں جب بھی اور جہاں بھی بات ہوگی مسلمان اسے دلچسپی سے سنیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انڈیا میں نریندر مودی کی ہندو نسل پرست حکومت نے خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے۔ وہ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر دلتوں سے بھی زیادہ نیچے دھکیلے جارہے ہیں۔ مسلمان تیزی سے اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کھو رہے ہیں اور ان کی نئی نسل زندہ رہنے کے لیے اپنے اسلامی نام چھپانے یا تبدیل کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ ان دگرگوں حالات میں کچھ معروف لوگوں نے تو اپنی معاشرتی بقا کے لیے اپنی اسلامی شناخت کو پس پشت ڈالنے کے مختلف حربے بھی استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، جیسے کہ ان میں سے کچھ نے ہندو عورتوں سے شادیاں کرلی ہیں اور کچھ جاویداختر جیسے اسلام سے لاتعلقی کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ ان صاحب نے تو اپنے آپ کو انڈین سرکار اور نسل پرستوں کے دربار میں قابلِ قبول بنانے کے لیے اللہ کے وجود کے انکار اور اکثر اسلام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کو اپنا وتیرہ بنارکھا ہے۔ یہاں تک کہ مئی2025ء کی پاک انڈیا جنگ کے دوران اْس نے میڈیا پر کہا: اگر مجھے پاکستان اور دوزخ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو تو میں دوزخ کا انتخاب کروں گا۔
پہلی نظر میں تو مذکورہ مباحثہ غیر متوازن (Uneven) نظر آتا تھا کیونکہ ایک جانب بے باک اور اخلاق و تہذیبی روایات کا باغی شاعر اور مکالمہ نگار تھا، جو لفظوں کا استعمال خوب جانتا ہے۔ دوسری طرف ایک دینی مدرسے کا پڑھا ہوا مو?دّب اور لفظوں کے انتخاب میں محتاط اور ذمّہ دار نوجوان تھا۔ اس جیسے نوجوانوں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ جدید علوم اور فلسفے سے ناآشنا ہوتے ہیں اور انگریزی زبان کی تو بالکل ہی شدھ بدھ نہیں رکھتے۔ مگر اس مباحثے میں لاکھوں لوگوں نے دیکھا کہ یہ نوجوان اسکالر انگریزی اصطلاحات کا استعمال بھی جانتا ہے اور موضوع سے متعلق فلسفیانہ نکات سے بھی بھرپور شناسائی رکھتا ہے۔
جاوید اختر نے لفاظی کا سہارا لیا اور وہی گھسے پٹے سوال اٹھائے جن کی تکرار ملحدین صدیوں سے کرتے آرہے ہیں کہ ’’اگر خدا موجود ہے تو دنیا میں برائی کیوں ہے اور لوگ مظالم کا شکار کیوں ہیں؟‘‘ کوئی ان عقل کے اندھوں سے یہ پوچھے کہ نوع انسان کی دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت کی اساس ہی انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ اچھائی اور برائی کی پہچان کی بناپر اس کا اپنی آزاد مرضی اور اختیار سے اچھائی کو اپنانا ہے (الشمس (7-10:91۔اگر برائی نہ ہوتی تو انسان اپنی آزاد مرضی سے اچھائی اختیار کرنے کا اختیار کیسے استعمال کرتا؟اندھیرا ہی روشنی کو شناخت بخشتا ہے، ’شر‘ دیکھ کر ہی ’خیر‘ کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر ظلم اور گناہ نہ ہوتا تو پھر یہی دنیا جنّت بن جاتی۔ ان تمام سوالات کا تو دنیا اور انسانوں کے خالق و مالک نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے جواب دیا ہے۔
مباحثے کے دوران جاوید اختر کو شمائل ندوی صاحب سے کئی الفاظ کا مطلب اور مفہوم پوچھنا پڑا، جس سے اس کے سطحی علم اور دانش کی قلعی کھل گئی۔ شمائل ندوی ابھی نوجوان ہیں، عمر کے ساتھ جب ان کے مطالعے اور تجربے میں اضافہ ہوگا تو ان کے دلائل میں مزید پختگی، گہرائی اور گیرائی پیدا ہوگی۔ تاہم، اس مباحثے میں شمائل ندوی نے جاوید اختر جیسے گھاگ کو چاروںشانے چِت کردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا وجود مناظروں اور مباحثوں کا ہرگز محتاج نہیں۔ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو، جو لوگ نفرت کی حدوں کو چھوتے ہوئے شدید قسم کے تعصّب کا شکار ہوں، وہ تو شاید اپنے پیش روؤں کی طرح، ’میں نہ مانوں‘ کی ضد پر ہی قائم رہیں، ورنہ وہ لوگ جو تعصب کے بغیر عقل اور شعور کو استعمال کرتے ہوں، انھیں اپنے اردگرد ایسی بیسیوں ناقابلِ تردید شہادتیں مل جاتی ہیں، جو پکار پکار کر ایک قادرِ مطلق کے وجود کی گواہی دے رہی ہیں۔
وجودِ باری تعالیٰ کے منکر، ’فطرت‘(Nature)کو ہر چیز کا خالق قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز ’مادّے‘ (Matter)سے وجود میں آئی ہے اور اسی سے پوری کائنات بن گئی ہے، مگر ’مادے‘ میں زندگی کیسے پیدا ہوئی یا اسے زندگی کس نے بخشی؟ اس کا ملحدین کے یا اس پہلو پر کلام کرنے والے سائنس دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ سائنس دان خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’فطرت‘ (نیچر) شعور نہیں رکھتی، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود شعور سے محروم ’فطرت‘ کسی مخلوق کو شعور سے بہرہ مند کرسکتی ہے؟ اس کا جواب بھی ناں میں ہی ملتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’انسان کو شعور کس نے عطا کیا؟‘ اس کا جواب بھی سائنس دانوں کے پاس نہیں ہے۔ اِن سوالوں کے جواب خالقِ کائنات نے اپنے مبعوث کردہ انبیا و رُسل پر وحی کے ذریعے انسانوں تک پہنچادیے ہیں۔
انسان کی اپنی ساخت پر غور کریں تو ایک جہانِ حیرت کھل جاتا ہے۔ جوملحد ڈاکٹر دل، دماغ، جگر، گردے، آنکھ، کان یا زبان کی تمام کارکردگی (functions) سے آگاہ ہیں، ان سے پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ اعضا خود بخود وجود میں آگئے اور اپنے آپ سے انھوں نے اس قدر مشکل اور پیچیدہ فرائض انجام دینے شروع کردئیے‘‘۔ ایسا کہنا یا سوچنا بھی حد درجے کی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
انسان کا دماغ (Brain) اپنی جگہ ایک تخلیقی کرشمہ ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس میں ۶۸? ارب نیورون ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام 20واٹ کے بلب کی انرجی کے ساتھ ایسے حیرت انگیزفرائض سرانجام دیتا ہے جو شاید سُپر کمپیوٹرز بھی صحیح طور پر انجام نہ دے سکیں۔ انسان کے ’جگر ‘کو ڈاکٹر انسانی جسم کا ایک ششدر کردینے والا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ انسانی جسم کا یہ عضو پانچ سو مختلف انتہائی اہم اور پیچیدہ قسم کے کام (functions)کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کا کیمیکل پلانٹ ہے، جس میں اربوں سیل ہیں اور جسم کے لیے ضروری انرجی، شوگر، گلوکوز اور کولیسٹرول یہی پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک منٹ میں ڈیڑھ لٹر خون فلٹر کرتا ہے۔ اس کی حرکت (function) میں جس قدر پیچیدگی، اور جس قدر توازن ہے، اس کا مشاہدہ کرتے ہوئے ماہرین دنگ رہ جاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب کچھ ایک عظیم خالق اور منتظم کے حسنِ تخلیق کا کرشمہ ہے، جسے اس نے بجا طور پر لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین4:95) سے تعبیر کیا ہے۔
تاریخ کی گواہی: صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ خالق کی موجودگی کے منکروں نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، تو وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے۔ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبروریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور کتب خانوں کو نذرِآتش کردیا، مگر اس کے برعکس جب خدا کو ماننے والے فتح یاب ہوئے اور جب مکّہ ان کے قدموں میں تھا، تو اٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز گونجی؛ بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا:’’جائو آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمھیں معاف کرے‘‘۔(سیرۃ ابن ہشام)
فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔ وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظم عمر بن الخطابؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کے معاہدے میں تحریر کیا: ’’یہ وہ امان ہے جو اللہ کے غلام امیرالمومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی ہے۔ یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ اس طرح کہ ان کے گرجائوں میں نہ سکونت کی جائے، نہ ڈھائے جائیں، نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہیں کیا جائے گا… جو کچھ اس تحریر میں ہے، اس پر خدا کا، اس کے رسولؐ، خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے… 15 ہجری‘‘۔
قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمدفاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا، مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ بھلا یہ کن تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اسی خالق کائنات کے احکامات Divine guidence) (کا نتیجہ تھا، جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔
خالق کائنات کی طرف سے انسانوں کے لیے اُترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔ جانتے ہو اس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیئے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو، وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زدتمھارے عزیز واقارب پر یا تمھارے والدین پر یا تمھاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمھیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘۔ (المائدہ 5:8)
اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، تاریخ انسانی کے کسی بھی دور میں گزرے ہوئے کسی بھی فلسفی یا دانش ور مثلاً ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِمطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے؟ جی نہیں، آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی بھی مثال پیش نہیں کر سکتے، جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شخصیت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘، قانون کی نظر میں سب کے لیے برابری (Equality before law) کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔ (جاری) ذوالفقار احمد چیمہ
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 69