Skip to content
مارکو روبیو: عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پچھلے ہفتے ہندوستان کااپنا پہلا چار روزہ دورہ کیا حالانکہ وہ اس سے پہلے 31؍ ممالک کا دورہ کرچکے مگر ہندوستان کا خیال نہیں کبھی نہیں آیا خیر دیر آید درست آید کی مصداق ؔدیر لگی آنے میں ان کو لیکن شکر ہے آئے تو‘۔ اس دورے کا مقصد امریکہ اور ہندوستان کے درمیان حالیہ سفارتی اور تجارتی کشیدگی کو کم کرنا تھا ۔ یہ سعی تعلقات کی کشیدگی کا اعتراف ہے۔ اس کشیدگی کی بنیادی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی کا امریکہ سے بڑی مقدار میں در آمدات کا وعدہ ہے۔ اس کو نبھانے کے نتیجے میں ہندوستان کا کسان اور بیروزگار جوان بے حد پریشان ہوجائے گاتومودی جی کو ان کے لیے بے چین ہونا پڑے گا۔ اس سے بے نیازامریکہ کا اصرار جاری ہے۔ اس کے علاوہ دیگر سبب ہندوستان کا آپریشن سیندور کے بعد ٹرمپ کے جنگ کو روکنے کے دعویٰ کا انکارہے۔ ٹرمپ اسے بار بار دوہراتے رہتے ہیں۔ امریکہ کو ہندوستان کے اندر اقلیتوں پر مظالم پر بھی تشویش ہے ۔ روبیو نے اپنے دورے کا آغاز کولکتہ میں واقع مشنریز آف چیریٹی سے کرکے اس حوالے ا یک اہم پیغام دیا ہے۔ دورے کا اختتام تاج محل کی سیاحت پر ہوا جو مسلمان بادشاہ کا تعمیر شدہ ساتواں عالمی عجوبہ ہے ۔ اس طرح دورے کو دونوں اقلیتوں کی موجودگی حکومتِ ہند کے لیے عبرت کی علامت ہے۔ اس چہار روزہ دورے پر غالب کا یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چاردن
دو سیاحت میں کٹ گئے دو بات چیت میں
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دراڑیں پاٹنے کی خاطر مارکو روبیو نے نہ صرف وزیرِ اعظم نریندر مودی سے انفرادی ملاقات کی بلکہ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں شریک ہوئے ۔ روبیو کا اجیت دوول سے تبادلۂ خیال بتاتا ہے کہ قومی سلامتی کے حوالے سے بھی گفت و شنید ہوئی ۔ امریکہ کے حوالے سے حکومت ہند کوہندوستانی مصنوعات پر عائد بلند ٹیرف پر تشویش ہے۔اس کے سبب ہندوستانی مال امریکہ میں مہنگا ہوجانے کے سبب ناقابلِ خرید ہوجاتا ہے۔ تجارت کے علاوہ سفارتی سطح پر چین اور پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے بڑھتے رابطے، اور خطے کی بدلتی جغرافیائی صورتحال نے بھی حکومتِ ہند کو بے چین کررکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ جس نے ہندوستانیوں کو رسوا کرنا اپنا شعار بنا رکھا ہے اور ہندوستانی نژاد لوگوں کو فوجی جہاز میں ہتھکڑیاں ڈال کر بھیجنے سے بھی پس و پیش نہیں کرتا تھا بلکہ صدر ٹرمپ نے ’ساری جہاں سے اچھا ہندوستاں‘ کو جہنم کا سوراخ تک کہہ دیا تھا آخر اچانک اتنا مہربان کیوں ہوگیا؟ مذکورہ بالا سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ وزیر خارجہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو قصر ابیض آنے کی دعوت بھی دے دی ہے؟ یہ وہی ٹرمپ ہیں جو مودی کا سیاسی کریئر ختم نہ کرنے کا احسان جتا چکے ہیں۔
ہند امریکہ محبت کی بظاہر دو وجوہات ہیں۔ اول تو صدر ٹرمپ کا نہایت ناکام چینی دورہ جس میں انہیں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا اور دوسرے پاکستان کا ابراہم اکارڈ پر دستخط سے تو دور اسرائیل کو تسلیم کرنے تک سے انکار ہے ۔ پاکستان کو امریکی دلال یا پٹھو کہنے والے ہندوستانی سیاسی رہنماوں اور گودی میڈیا کے لیے پاکستان کی جرأتمندی میں سامانِ عبرت ہے۔ امارات کے علاوہ جو پہلے سے اس معاہدے کا حصہ ہے سعودی عرب سمیت سارے عرب ممالک نے امریکی تجویز کو جوتے کی نوک پر ٹھکرا دیا۔ یوروپ کو یوکرین اور گرین لینڈ کے معاملے میں ٹرمپ ویسے ہی دور کرچکے ہیں ۔ اس طرح فی الحال امریکہ ایک عالمی تنہائی شکار ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرمپ نے آبنائے ہر مز کھلوانے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کے سامنے جھولی پھیلائی تو سبھی نے منہ پھیر لیا۔ ہندوستان اور اسرائیل بھی اسی طرح کی عالمی تنہائی کا شکار ہیں ۔ ایسے میں ان تینوں کےپاس ایک دوسرے سے چمٹ جانے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔فی الحال ایسا لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے پھر ایک بار ہندوستان کو چین کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور یہی مجبوری موجودہ قربت کے پس ِ پشت کار فرما ہے۔
مارکو روبیو کے اس دورے میں امریکی مجبوری کا احساس ہندوستانی حکمرانوں کو ہو گیا۔ یہی وجہ ہے امریکی وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ایک نہایت بااثر سینیٹر کا نئی دہلی نے جان بوجھ کر استقبال اور پروٹوکول کو محدود رکھ کر ایک سیاسی پیغام دیا ۔ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق پروٹوکول شخصیت کے عہدے اور دورے کی نوعیت کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔ مارکو روبیوکا یہ دورہ کسی سربراہِ مملکت یا سربراہِ حکومت کے طور پر نہیں بلکہ ایک پارلیمانی یا قانون ساز وفد کے رکن کی حیثیت سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کسی مرکزی وزیر کے بجائے وزارتِ خارجہ کے ایک پروٹوکول افسر نے کیا۔ اس طرح حکومت ِہند نےواشنگٹن کے اثر و رسوخ سے متاثر ہو کر اپنے طے شدہ سفارتی اصولوں میں غیر معمولی نرمی یا خصوصی رعایت نہیں دی ۔ اس دورے کے دوران روبیو نے دہلی کے علاوہ جے پور، کولکاتا اور آگرہ کا بھی دورہ کیا، لیکن کہیں بھی کسی وزیر اعلیٰ یا گورنر نے ان سے باضابطہ ملاقات نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق ان شہروں کا دورہ سرکاری نوعیت کے بجائے ثقافتی اور نجی سیاحت کے دائرے میں رکھا گیا تھا، اسی لیے ریاستی حکومتوں نے خود کو صرف سکیورٹی پروٹوکول تک محدود رکھا۔ اس سے زیادہ آو بھگت تو افغانی وزیر خارجہ امیر خان متقی کی ہوئی تھی۔
مارکو روبیو نے اپنے پہلے دورے میں تاج محل یا ہوا محل کی سیاحت کےلیے بھی وقت نکالااور وہاں تصویریں کھنچوائیں ۔ ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا یوزر نے روبیو کی تاج محل والی تصاویر پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر روبیو کو تاریخ اور فنِ تعمیر کی معلومات ہوتیں تو وہ اس مقام پر تصاویر کھنچوانے کی ہمت نہ کرتے۔ ایرانی سفارت خانے کے مطابق یہ تاریخی یادگار ایک بادشاہ کی اپنی ایرانی بیوی سے محبت کی علامت ہے، جسے ایرانی معماروں نے تخلیق کیا تھا۔ جبکہ آج انہی کی حکومت ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکیاں دے رہی ہے اور دوسری تہذیبوں کی توہین کر رہی ہے۔ گزشتہ سال امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنی اہلیہ اوشا وینس اور بچوں وویک، میرا بیل اور ایون کے ساتھ تاج محل کا دورہ کیا تھا۔اس سے قبل بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے پہلے صدارتی دور کے دوران خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ اس تاریخی یادگار کا دورہ کیا تھا۔اپنے دورے کے دوران ٹرمپ نے تاج محل کو ہندوستان کی ثقافتی عظمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ ہندوستانی ثقافت کے حسین اور متنوع حسن کی ایک لازوال گواہی ہے۔ شکریہ، ہندوستان!۔
تاج محل کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ یادگار مغل طرزِ تعمیر کا بہترین نمونہ سمجھی جاتی ہے، جس میں فارسی، ہندوستانی اور اسلامی طرزِ تعمیر کے عناصر کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔سن 1983 میں یونیسکو نے تاج محل کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا اور اسے "ہندوستان میں مسلم فنِ تعمیر کا نگینہ اور دنیا کے عالمی ورثے کے سب سے زیادہ سراہے جانے والے شاہکاروں میں سے ایک” قرار دیا تھا۔تاج محل ہندوستان کی آن۔ بان۔ شان ہے۔ یہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہے جس کا دیدار کرنے کے لئےدنیا بھر سے لوگ کرتے ہیں۔ روزانہ 20,000 لوگ یہاں آتے ہیں، جن میں تقریباً 2000 غیر ملکی سیاحہوتےہیں۔ ہندوستانیوں کے لیے ٹکٹ کی قیمت 50 روپے ہے، اور تاج محل کے اندر مقبرہ دیکھنے کے لیے اضافی 200 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ 20,000 کو 50 سے ضرب دینے سے 10 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اگر ان 20,000 میں سے آدھے لوگ مزار پر جائیں تو وہ 200 روپے اضافی ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 10,000 کو 200 سے ضرب کرنے سے 20 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اس طرح ہندوستانیوں سے حاصل ہونے والی کُل آمدنی ہوئی کل 30 لاکھ روپے ۔
مودی سرکار نے ایودھیا مندر اور کاشی وشوناتھ کاریڈور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بنایا لیکن کوئی غیر ملکی مہمان وہاں پھٹکنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتا ؟ ہر کوئی تاج محل جانا چاہتا ہے۔ ایسا کیوں ؟ اس پر ہندوتوا نوازوں کو غور کرنا چاہیے۔مارکو روبیو کےدورے کی سب سے بڑا اختلاف وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران روس کے ساتھ ہندوستان کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کے کھل کراظہار سے سامنے آیا۔ امریکہ طویل عرصے سے ہندوستان پر روس سے خام تیل کی خریداری کم کرنے اور دفاعی تعاون محدود بنانے کا دباو ڈال رہا ہے۔ جے شنکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی صرف اپنے قومی مفادات اور 140 کروڑ عوام کی ضروریات کے مطابق طے کی جاتی ہے۔اس بیان کو عالمی سفارتی حلقوں میں ہندوستان کے سخت اور خودمختار مؤقف کے طور پر دیکھا گیاجو سابقہ موقف سے مختلف تھا۔دورے کے اختتام پر کواڈ ممالک کی گروپ تصویر میں مارکو روبیو کی پوزیشن کو بھی ایک سفارتی اشارہ قرار دیا گیا ۔ اس طرح امریکہ کو نئی دہلی کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنے کی ضرورت کا اشارہ کیا گیا لیکن اس سے بہت زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں کیونکہ جیسے ہی امریکہ میں اِپسٹین فائل کھلتی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نرم پڑ جاتے ہیں۔
(۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 55