Skip to content
مغربی بنگال میں سیاسی تشدد کی نئی لہر، انتقامی سیاست کا آغاز
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
انتحابات کے بعد مغربی بنگال کی سیاست شدید کشیدگی اور سیاسی انتقام کے دور سے گزر رہی ہے۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درمیان محاذ آرائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور پر تشدد بھی ہوتی جارہی ہے اسی پس منظر میں گزشتہ دو دنوں کے دوران ترنمول کانگریس کے دو سینئر رہنماؤں، قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی اور رکنِ پارلیمان کلیان بنرجی، پر مبینہ حملوں نے پورے بنگال اور ملک کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ حزبِ اختلاف کے متعدد رہنماؤں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے جبکہ راہل گاندھی نے ابھیشیک بنرجی کے علاج کے لیے حیدرآباد میں سہولت فراہم کرنے کی پیش کش بھی کی ہے۔ انتخابات کے نتائج کے بعد مغربی بنگال میں مختلف مقامات پر تشدد اور بلڈوزر کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ قربانی پر پابندیوں کے ذریعے بھی بی جے پی کی جانب سے ایک خاص سیاسی پیغام دینے کی کوشش کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بڑے رہنماؤں پر کھلے عام حملے حزب اختلاف کو ایک واضح پیغام دینے کی کوشش سمجھے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلے ترنمول کانگریس کے اہم رہنما اور ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی پر مبینہ جان لیوا حملہ ہوا۔ وہ جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے سونارپور علاقے میں انتخابی تشدد سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کے قافلے کے وہاں پہنچتے ہی ایک مشتعل ہجوم جمع ہو گیا اور شدید نعرے بازی شروع ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتِ حال کشیدہ ہو گئی اور قافلے کو گھیر لیا گیا۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ اس دوران ابھیشیک بنرجی پر حملہ کیا گیا اور انہیں دھکے دیے گئے۔ اس واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں مبینہ حملہ آوروں کو دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اگر حکومت کارروائی نہ کرنا چاہے تو ایسے شواہد بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ واقعے کے بعد ترنمول کانگریس نے براہِ راست بی جے پی کارکنوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور دعویٰ کیا کہ یہ ایک منصوبہ بند کارروائی تھی جس کا مقصد اپوزیشن قیادت کو خوفزدہ اور خاموش کرنا تھا۔ پولیس نے ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر متعدد افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ابھیشیک بنرجی پر حملے کے صرف ایک دن بعد ترنمول کانگریس کے سینئر رکنِ پارلیمان کلیان بنرجی ہگلی ضلع کے چندی تلا پولیس اسٹیشن پہنچے۔ وہ اسمبلی انتخابات کے بعد ٹی ایم سی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ سیاسی کارروائیوں کے خلاف ایک یادداشت پیش کرنے جا رہے تھے۔ اسی دوران پولیس اسٹیشن کے باہر موجود ایک گروہ نے پولیس کی موجودگی میں پرتشدد احتجاج شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے سیاہ جھنڈے دکھائے اور سخت نعرے بازی کی جس سے ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔ کلیان بنرجی کا الزام ہے کہ ہجوم نے انہیں گھیر کر ان کے سر پر حملہ کیا جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں انہیں سر پر کپڑا رکھے ہوئے دیکھا گیا جبکہ حامی پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج کرتے رہے۔ کلیان بنرجی کا کہنا تھا کہ پورا واقعہ پولیس کی موجودگی میں پیش آیا لیکن حملہ آوروں کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی گئی۔ ان دونوں واقعات کے بعد ترنمول کانگریس نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ریاست میں اپوزیشن رہنماؤں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے ان حملوں کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زخمی کلیان بنرجی سے ملاقات کی اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب بڑے منتخب عوامی نمائندے بھی محفوظ نہیں تو عام کارکنوں کی صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر اس نوعیت کے حملے بی جے پی کے رہنماؤں پر ہوتے تو گودی میڈیا چوبیس گھنٹے یہی مناظر دکھاتا رہتا، مگر یہاں ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ جب کیمرے کے سامنے بڑے رہنماؤں پر حملہ ہو سکتا ہے تو عام اور بے سہارا لوگوں کی سلامتی کا کیا عالم ہوگا۔ اگر ٹی ایم سی کے بڑے رہنماؤں کو مارپیٹ اور دھمکیوں کے ذریعے گھروں تک محدود کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ عوام سے رابطہ نہیں کر سکیں گے، اور یہ بھی ایک سیاسی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔ ویسے بنگال میں برسوں سے سیاسی تشدد کی روایت موجود رہی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مختلف اضلاع سے تصادم، حملوں، گرفتاریوں اور ٹی ایم سی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ ٹی ایم سی، بی جے پی پر کارکنوں کو نشانہ بنانے، خوف و ہراس پھیلانے اور سیاسی انتقام لینے کے الزامات عائد کر رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ حملے محض الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت نہیں ہے۔ اگر ریاستی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت اور غیر جانبدارانہ اقدامات نہ کریں تو بنگال میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ پورے جمہوری عمل پر مرتب ہوں گے۔ فی الحال دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم عوامی حلقوں میں ان تحقیقات کے نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ آج پورے ملک کی نظریں مغربی بنگال پر مرکوز ہیں جہاں سیاسی درجۂ حرارت مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے۔
اب انڈیا اتحاد کو ایسے تشدد کے خلاف ایک متحدہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کو ایسے تشدد کا سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے ایسے مشکل وقت میں کسی ایک سیاسی جماعت کو جس پر حملے کیے جارہے ہیں تنہا چھوڑ دینا صحیح نہیں ہوگا بہتر ہوگا انڈیا اتحاد ایک جلسہ طلب کرے اسمیں ساری جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک حکمت عملی پر غور کیا جائے راہول گاندھی کو اس میں آگے بڑھ کر مثبت رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج ترنمل کانگریس پر برا وقت ہے کل کسی اور پارٹی پر برا وقت آ سکتا ہے اُسکے لیڈروں پر سرے عام راستے
پر حملے ہو سکتے ہیں ۔
Post Views: 64