Skip to content
بنگلہ دیش: ایک ہفتے کا احتجاج 1200 طلبہ گرفتار، 173 ہلاک
ڈھاکہ، 23جولائی ( آئی این ایس انڈیا)
بنگلہ دیش میں گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے شرکا کو لگ بھگ 1200 کی تعداد میں گرفتار کیا گیا۔ یہ بات بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے منگل کے اپنی رپورٹ میں بتائے گئے اعدادوشمار میں بتائی ہے۔بنگلہ دیش میں یہ احتجاج یونیورسٹیوں کیے طلبہ کی طرف سے حکومت کی میرٹ کے برعکس ملازمتیں دینے کی پالیسی کے خلاف کیا گیا، طلبہ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت اپنی پسند کے افراد کے بچوں کو ملازمتوں میں بھی کوٹے سے نوازنے کے بجائے مواقع میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر دے۔ تاکہ بہتر لوگ سرکاری شعبے میں آسکیں۔
لیکن اس بارے میں طلبہ کے پر امن انداز سے شروع ہونے والے احتجاج کو پر تشدد ہونے کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس دوران کم از کم 173 بنگلہ دیشی جاں بحق ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر تعداد طلبہ کی ہے۔ ان میں کچھ سرکاری پولیس کے افسران اور اہلکار بھی ہلاک ہو گئے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار سے محروم کرنے کیاس فیصلے کے بعد ہونے والے طلبہ احتجاج کی مثال حسینہ واجد کے پندرہ سالہ دور اقتدار میں موجود نہیں ہے۔شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں اگرچہ اپوززیشن رہنماوں، اور سابق ارکان اسمبلی کو پھانسی دینے کی روایت بھی ڈال دی گئی لیکن پڑھے لکھے نوجوانوں اوریونیورسٹیوں کے طلبہ پر اس قدر بے رحمی کے ساتھ فائرنگ اور ان کی ہلاکتوں کی مثال نہیں تھی۔
اسی تناظر میں ‘ اے ایف پی ‘ نے یہ رپورٹ مرتب کی ہے کہ طلبہ کی غیر معمولی تعداد کو محض چند دنوں میں حراست میں لیا گیا۔ یہ تعداد ‘ اے ایف پی ‘ نے 1200 رپورٹ کی ہے۔پیر کے روز طلبہ نے اپنے احتجاج کو 48 گھنٹوں کے لیے معطل کر دیا ہے۔ مگر طلبہ احتجاج کی قیادت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کے خون کے بدلے میں اصلاحات نہیں چاہتے۔جمعرات کے روز سے جنوبی ایشیا کے اس ملک میں کرفیو جاری ہے، جس کی وجہ سے نقل و حرکت کے علاوہ اطلاعات کا بہاؤ اور اطلاعات تک رسائی ممکن نہیں رہی ہے۔تاہم سپریم کورٹ نے اتوار کے روز حسینہ واجد کے نافذ کردہ کوٹہ سسٹم کو ختم کر دیا ہے۔ حسینہ واجد حکومت نے اس عدالتی فیصلے سے فائدہ اٹھا لیا تو سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت کے لیے بڑی اچھی فیس سیونگ ثابت ہو سکتی ہے۔
مگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ کے امن و امان کے لیے چوکس رہنے کا اعلان کے بعد منگل کے روز بھی فوج تعینات رہی۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 200 افراد کو نارائن گنج کے وسطی اضلاع سے گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 80 افراد کو بوگرا کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ 168 افراد کو صنعتی شہر غازی پور سے پکڑا گیا ہے، 75 افراد کو رنگ پور نامی شہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ڈھاکہ کے دیہی اور صنعتی علاقے سے بھی 80 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت ڈھاکہ سے 532 افرادکو گرفتار کیا گیا ہے۔یہ ساری تعداد 1195 بنتی ہے۔
Like this:
Like Loading...