Skip to content
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
محبت واخوت اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی رشتۂ انسانی کا اٹوٹ حصہ ہے اس کے بغیر انسانی زندگی ادھوری اور نامکمل ہے،وہ انسان درحقیقت انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے جس کا دل انسانی محبت وخیرخواہی سے خالی ہیں ،فطری طور پر انسانوں میں ایک دوسرے سے محبت و انس پایا جاتا ہے اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر بستیاں بساکر بستے ہیں اور خوشی وغم میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک بھی ہوتے ہیں ،اسلام نے بھی جہاں اپنے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کے بے مثال اصول بتائے ہیں وہیں انسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی وخیرخواہی کی تعلیم بھی دی ہے اور اسے انسانی زندگی کے سکون وچین کا ایک اہم ذریعہ بتایا ہے وہیں اہل ایمان کو ایک دوسرے کا اسلامی بھائی قرار دیا ہے ، رشتہ ٔ اسلامی کو اہم ترین رشتہ قرار دیا ہے اور اس کے ذریعہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا اسلامی بھائی بتاتا ہے اور آپس میں اخوت کی تعلیم دیتا ہے ،جاہلیت کی تمام نفرتوں کو پیروں تلے روندتا ہے، کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی مال وزر کا مالک ہو یا کتنی ہی بڑی کرسی واقتدار پر قابض ہو یا پھر کتنی ہی طاقت وقوت رکھتا ہو ،اس کے بر عکس ایک دوسرا مسلمان چاہے کتنا ہی غریب ونادار ہو، یا کتنا ہی کمزور ولاغر ہو یا پھر معمولی سے عہدہ سے محروم کیوں نہ ہو ،یہ دونوں اسلام کی نظر میں برابر اور احکامات الٰہی کے پابند ہیں،بحیثیت مسلمان ہونے میں ان میں کسی بھی قسم کا امتیاز وفرق نہیں،اس کی عمدہ مثال اور ایک مساویانہ جھلک اسلام کی دو اہم ترین اور بنیادی عبادات نماز اور حج میں صاف طور پر نظر آتی ہیں، اسلام گرچہ خوبیوں کا مجموعہ اور کمالات کا سر چشمہ ہے ،لیکن بہت سی قوموں نے صرف اس کے مساوات ،عادلانہ نظام اور منظم جماعتی اتحاد کو دیکھ کر داخل اسلام ہوئے ہیں۔
قرآن مجید میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بتا تے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ فَأَصْلِحُوْا بَیْْنَ أَخَوَیْْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ(الحجرات:۱۰)’’(یاد رکھو )سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں،(کبھی اگر ان میں بتقاضائے انسانی اختلاف رونما ہوجائے تو )اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘، مسلمانوں کا آپسی رشتہ خونی رشتہ سے بڑھ کر ہے ،خونی رشتہ آدمی کو نسب کا پتہ دیتا ہے اور ایمانی رشتہ آدمی کو خدا سے ملاتا ہے اور جن لوگوں میں محض خدا سے تعلق کی وجہ سے تعلق پیدا ہوا ہے وہ سب تعلقات پر بھاری ہے اور ایمانی رشتے کی بنیادوں پر تعلق خدا کا عظیم انعام ہے ،قرآن مجید میں اسی نعمت کو یاد دلاتے ہوے آپس میں مل جل کر اور اتحاد واتفاق کے ساتھ رہنے کی تلقین کی گئی ،قرآن مجید میں ارشاد ہے :وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَلاَ تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ کُنْتُمْ أَعْدَائً فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ إِخْوَانًا وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا(اٰل عمران:۱۰۳)’’(اے مسلمانوں!) تم سب مل کر اللہ کی رسی (دین اسلام کے احکامات اور رسول اللہ ؐ کی تعلیمات کو) مضبوطی سے پکڑ لو اور (آپس میں ) پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ کی (الفت والی) اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیداکی،پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچالیا ‘‘،ا س نعمت کی شکر گزاری یہ ہے کہ مسلمان آپسی محبت وتعلق کو برقرار اور اُسے مزید مستحکم کرنے کی کوشش کرتے رہیں،مسلمانوں کی آپسی محبت اور ان کے تعلق کے استحکام کی ڈور احکام اسلام اور تعلیم نبوی ؐ سے وابستگی میں ہے ،شرعی اصول وقوانین کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد کو برقرار رکھنا ناممکن ہے اسی کو قرآن مجید میں ’’اللہ کی رسی ‘‘ کہا گیا ہے،نہ یہ کہ صرف احکام شرعیہ پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونا ہے بلکہ ایک دوسرے کو خیر خواہانہ طریقے پر اچھائی کا حکم کرتے ہوئے فروعی اختلاف سے بچتے ہوئے برائی سے روکنے کی سعی بھی کرتے رہنا ہے ،کیونکہ مسلمان ایک دوسرے کا خیر خواہ تو ضرور ہے لیکن شر خواہ ہر گز نہیں ،اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھائی کو انتہائی خیر خواہانہ طریقہ پر خیر وبھلائی کی طرف بلائیں اور نہایت مخلصانہ انداز میں اسے شر وبُرائی سے روکنے کی فکر کریں ،قرآن مجید میں مسلمان مرد وعورت کو ایک دوسرے کے مددگار،خیر خواہ اور دوست بتایا ہے ،ارشاد ہے:وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَر(توبہ:۷۱)’’مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (باہم) ایک دوسرے کے دوست ہیں ،(وہ لوگ آپس میںایک دوسرے کو )نیک کام کرنے کو کہتے ہیں اور بُرے کام سے منع کرتے ہیں ‘‘ ،قرآن مجید کے علاوہ احادیث مبارکہ میں رسول اللہ ؐ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بھائی بند ،دوست ومددگار ، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک اور جسم واحد کی طرح فرمایا گیا ہے،رسول اللہ ؐ کاارشادہے کہ المسلم اخواالمسلم(بخاری:۲۴۴۲)’’ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے‘‘ ،مسلمانوں میں آپسی محبت ومؤدت ہے وہ دیگر قوموں کے لئے ایک مثال ہے کیونکہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہوں ان کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ جسم واحد جیسا ہوتا ہے،وہ ایک دوسرے سے ایسی محبت والفت اور ایسا مستحکم تعلق رکھتے ہیں جس کی مثال حدیث شریف میں جسم واحد سے دی گئی ہے، االلہ تعالیٰ نے جسم کی بناوٹ کچھ اس طرح بنائی ہے کہ اس کا ہر عضو دوسرے عضو کے درد وتکلیف کو محسوس کرتا ہے اور اس کے اثر سے متأثر ہوتا ہے ،رسول اللہ ؐ نے اسی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:تری المؤمنین فی تراحمھم وتوادھم وتعاطفھم کمثل الجسد اذااشتکیٰ عضواً تداعیٰ لہ سائرالجسد بالسھر والحمیٰ(بخاری:۵۶۶۵) ’’ایمان والوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کھانے،محبت کرنے اور شفقت ومہربانی کرنے میں تم جسم انسانی کی طرح دیکھوگے کہ جب اس کے کسی عضو کو بھی تکلیف ہوتی ہے تو جسم کے باقی سارے اعضا بھی بخار اور بے خوابی میں اس کے شریک ِ حال ہوجاتے ہیں‘‘ایک دوسری حدیث میں رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو آپس کے تعلق اور اتحاد ی قوت کو مضبوط کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا آپسی تعلق اور ان کے درمیان رشتۂ اخوت اس طرح مضبوط ومستحکم ہونا چاہیے جس طرح عمارت کے تمام اجزا ایک دوسرے سے مل کر عمارت کو مستحکم اور مضبوط کرتے ہیں ، پھر آپؐ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کے انگلیوں میں ڈال کر سمجھایا کہ مسلمانوں کا اتحاد اس درجہ مضبوط ہونا چاہیے اسی اتحادی قوت میں ان کی کامیابی، ترقی اور بقا مضمر ہے ، ارشاد فرمایا:ان المؤ من للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضا ثم شبک بین اصابعہ(بخاری:۴۸۱) ’’ایمان والوں کا تعلق دوسرے ایمان والوں سے ایک مضبوط عمارت کے اجزاء جیسا ہونا چاہیے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مضبوطی کا ذریعہ بنتے ہیں ،پھر آپ ؐ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر اشارہ کیا ( اور بتایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم مل کر ایک ایسی مضبوط دیوار بن جانا چاہیے جس کی اینٹیںباہم ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوں اور ان میں کوئی خلا نہ ہو) ۔
مسلمان جب اس طرح ایک دوسرے سے محبت والفت کا مظاہرہ کریں گے ، ایک دوسرے کے درد ورنج میں شریک ہوں گے ا ور حالات میں ایک دوسرے کا بازو اور سہارا بن کر ساتھ دیں گے تو اس کے نتیجہ میں ان کی قوت وطاقت دوبالا ہوگی ،وہ غیروں کے لئے پتھر کی چٹان ثابت ہوں گے اور کسی کو ان سے آنکھ ملانے کی ہمت تک نہ ہوگی،اگر بالفرض مزاجوں میں تفاوت کی بناپر ان میں کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیںمحبت ومؤدت ، ایثار وقربانی اور ہوش وخرد کے ساتھ اسے حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ قرآن مجید میں اہل ایمان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے حق میںبڑے رحم دل ہیں ، ارشاد ہے: رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ(الفتح:۲۹)’’ (مسلمان کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ)آپس میں رحم دل ہیں‘‘ رحم دلی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے قصور معاف کر دئے جائیں،عفو ودرگزر سے کام لیا جائے اور خامیوں پر نہیں خوبیوں پر نظر رکھی جائے ،اگر کسی وجہ سے ان میں کے دوگروہ میں نزاع پیدا ہوجائے تو اسے نہایت سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے اور صلح صفائی کے ذریعہ معاملہ رفع دفع کرنا چاہیے ،اس سے ایک طرف جہاں محبت میں اضافہ ہوتا ہے تو وہیں دوسری طرف آدمی کے قد میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور وہ خدا کی رحمت اور بندگان خدا کی محبت کا مستحق ہوجاتا ہے ،قرآن مجید میں اہل ایمان کو یہی بتایا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جھگڑا ہونے پر دونوں فریق میں کس طرح صلح صفائی کی جائے ارشاد ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ فَأَصْلِحُوْا بَیْْنَ أَخَوَیْْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (الجرات:۱۰)’’یاد رکھو ) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرادیا کرواور اللہ سے ڈر تے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘ ۔
قرآن مجید اور احادیث رسولؐ کے اس قدر مرتب ،منظم ،واضح اور تاکیدی احکامات نیز رسول اللہ ؐ کا بے مثال اسوہ سامنے رہنے کے باوجود ہم لوگ متحد کم اور منتشر زیادہ ہوتے جارہے ہیں،مسلم ممالک سے لے کر مسلم محلوں اسی طرح مسلم تنظیموں سے لے کر مسلم جماعتوں تک کا یہی حال ہے کہ وہ روز بروز اپنی اتحادی قوت کھوتے جارہے ہیں ،ان کی جمعیت پارہ پارہ ہوتی جارہی ہے،ان کا وجود بارعب ہونے کے بجائے بے رعب ہوتا جارہا ہے اور وہ غیروں کے لئے مثال بننے کے بجائے عبرت بنتے جارہے ہیں،ایسا نہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اتحاد کی قوت وطاقت سے نا واقف ہے بلکہ سب اتحاد وجماعت کی قوت سے بخوبی واقف ہیں اور آپس کی نااتفاقی سے سنجیدہ قسم کے لوگ بڑی بے چینی محسوس کر رہے ہیں ،ان کی دور بینی نگاہیں انجام تک کو دیکھ رہی ہیں ،چنانچہ وہ انجام بد سے بچنے اور رحمت خدا وندی کے حصول کے لئے آپس میں اتحاد بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں ، اس سلسلہ میں بڑی عمدہ کوششیں اور تدبیریں بھی اختیار کر رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے بڑی خوش آیند بات بھی ہے اور دل کو مسرور کرنے والی خبر بھی ہے ،لیکن ملاپ کی تمام تر کوششوں ،اتحاد کے فلک شگاف نعروں اور بڑے بڑے جلسے جلوسو ں کے باوجود ہم متحد اور منظم ہوتے دکھائی نہیں دیتے ،آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟آخر تمام کوششیں مکمل ناکام تو نہیں لیکن مکمل کامیاب بھی نہیں ہوپا رہی ہیں، آخر اس کا حل کیا ہے ؟ کیا ہم نے کبھی اس زاویہ سے سوچا بھی ہے ؟ قرآ ن وحدیث ،سیرت نبوی ؐ وسیرت صحابہ ؓ میں ہمارے ان مسائل کا حل موجود ہے اور ان بند دروازوں کی کنجیاں موجود ہیں، مسلمانوں میں اتحاد کی کوششو ں کے باوجود نا اتفاقی اور اس میں ناکامی کی اہم ترین وجہ ان کی انا پرستی اور للہیت، تواضع وانکساری اور ایثار وقربانی کا فقدان ہے ، جب کوئی قوم انا پرستی کے سیاہ بادل میں گھر جاتی ہے تو پھر وہ عقل کی روشنی سے محروم ہوجاتی ہے ، جب انا پرستی کی دیواریں ان کے درمیان کھڑی ہو نے لگتی ہیں تو پھر یہ ٹکڑیوں میں بٹ جاتے ہیں اور ان کا اتحاد پارہ پارہ ہوکر رہ جاتا ہے ، تعلیمات نبوی ؐ میں نہایت وضاحت کے ساتھ بتایا گیا کہ آدمی کا ہر کام چھوٹا ہو یا بڑا وہ صرف للہیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے ،اس میں معمولی سی بھی انانیت کا دخل نہ ہو ،کیونکہ انانیت دراصل نفس پرستی ہے اورنفس پرستی انسان کے اعمال کے لئے ایک خطرناک قسم کازہر ہے جو اس کے سارے اعمال کو مردہ بنادیتا ہے،آج ہمارے درمیان جو اختلافات رونما ہو رہے ہیں درحقیقت ان میں نفس پرستی کا بڑا دخل ہے اور رب کی مرضی وخواہش کا فقدان ہے، حالانکہ دین میں سارے اعمال کی قبولیت کا مدار ہی ربانی خواہشات پر ہے ،جس کے عمل میں اخلاص وللہیت کی کمی ہوگی وہ قبولیت کی بلندی کو پہنچ نہ پائے گا ، خدا اور رسول خداؐ کی نظر میں وہی عمل قابل قبول اور پسندیدہ ہے جس میں اخلاص وللہیت کی حرارت پائی جاتی ہے، رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے :ان احب الاعمال الی اللہ تعالیٰ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ (ابوداؤد :۴۵۹۹)’’ اللہ تعالیٰ کو بند وں کے اعمال میں سب سے زیادہ محبوب وہ محبت ہے جو اللہ کے لئے ہو،اور وہ بغض وعداوت ہے جو اللہ کے لئے ہو‘‘ایک حدیث میں آپ ؐ نے اللہ کے لئے محبت کرنے اور اسی کے لئے عداوت رکھنے والوں کو قیامت کے دن عرش کے سایہ کی خوشخبری سنائی ہے ،ارشاد فرمایاکہ: ان اللہ تعالیٰ یقول یوم القیامۃ این المتحابون بجلالی الیوم اظلھم فی ظلی یوم لاظل الاظلی(مسلم:۷۶۱۳)’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کہاں ہیں میرے وہ بندے جو میری عظمت وجلال کی وجہ سے آپس میں محبت والفت رکھتے تھے؟ آج جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ،میں اپنے ان بندوں کو اپنے سایہ میں جگہ دوں گا‘‘ ، قرون اولیٰ میں اور اس کے بعد سے لے کر ماضی قریب تک ہمارے اکابر کے درمیان جو کچھ اختلافات ہوئے دراصل یہ سب کے سب افضلیت ،مستحب ،منفعت آخرت اور اللہ ورسول کی محبت ہی کے خاطر تھے ،ان کے اس اختلاف میں کسی بھی قسم کی بڑائی کو دخل نہ تھا، ان کے اختلافات للہ ہونے کا بین ثبوت یہ ہے کہ باوجود اختلافات کے وہ ایک دوسرے کا حد درجہ احترام کرتے تھے ،عملی اعتبار سے ان کے مقابلہ میں اپنے کو کمتر جانتے تھے، اختلافات کے باوجود انہوں نے آپسی رواداری،ایمانی اخوت اور اسلامی تعلق کا جو اظہار کیا اس کی مثال تاریخ میں ملنی مشکل ہے ۔
اتحاد کے لئے دوسری اہم چیز تواضع وانکساری ہے ،اگر ہر ایک اپنے کو اپنی نگاہ میں چھوٹا سمجھنے لگے تو یقینا غرور کی وجہ سے آپس میں جو دیوار حائل ہوگئی تھی وہ تواضع کی قوت سے زمین دوز ہوجائے گی ، تواضع وخاکساری انسان کا خاص جوہر ہے ،اس کی پہچان اور اس کا قیمتی لباس ہے،اسلامی تعلیمات اور نبویؐ سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام میں تواضع کی کس درجہ اہمیت ہے ،خود رسول اللہ ؐ محبوب خدا ہونے اور معراج سے مشرف ہونے کے باوجود انتہائی متواضعانہ اور نہایت سادہ زندگی گزار تے تھے،آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ان اللہ اوحی الیی ان تواضعوا حتی لا یبغیٰ احد علی احد ولا یفخر احد علی احد( ابوداؤد:۴۸۹۵)’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی اور حکم بھیجا کہ میں تواضع وخاکساری اختیار کروں ،جس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ کوئی کسی پر ظلم وزیادتی نہ کرے اور کوئی کسی کے مقابلہ میں فخر نہ کرے‘‘ایک حدیث میں آپؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے ،اپنے کو چھوٹا بناکر پیش کرتا ہے اور ہمیشہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو ادنیٰ سمجھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اسے بلندیاں عطا فرماتے ہیں ،ارشاد فرمایا:من تواضع للہ رفعہ اللہ(شعب الایمان:۷۷۹۰)’’جس نے اللہ کے لئے یعنی اس کا حکم سمجھ کر اور اس کی رضا کی خاطر تواضع وخاکساری کو اپنا شعار بنائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بلندی پر فائز کرے گا‘‘ ،آج مزاجوں میں تواضع وانکساری وخاکساری نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ ہم جڑنے کے بجائے ٹکڑیوں میں بٹتے چلے جارہے ہیں ، خواہ اپنی نظروں میں بڑے ہوں لیکن دوسروں کی نظروں سے گرتے جارہے ہیں ،اسی کا نتیجہ ہے کہ ذلت ورسوائی ،پستی وغلامی ہمارا مقدر بن چکی ہے اور ہم غیروں کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ گئے ہیں۔
اتحاد کے لئے تیسری اہم چیز ایثار وقربانی ہے بلکہ یہ اتحاد ملت کی شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے،مسلمان ایثار وقربانی کا پیکر ہوتا ہے ،وہ خود تو تکلیف برداشت کرتا ہے لیکن اس سے اپنے بھائی کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی ،رسول اللہ ؐ نے وہ ایثار کا مظاہرہ فرمایا کہ جس کی تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ،خود بھوکے رہتے مگر دوسروں کو کھلایا کرتے تھے ،خود معمولی لباس پہنتے مگر دوسروں کو عمدہ لباس عطاکرتے اور خود مفلس رہ کر دوسروں کو مالامال کرتے تھے، آپ ؐ کی صحبت بابرکت کے نتیجہ میں صحابہؓ پر بھی یہی رنگ چڑھ گیا تھا ،قرآن مجید میں ان کی اسی نمایاں صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ارشاد ہے: وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌَ (الحشر:۹)’’اگر چہ خود تنگی میں کیوں نہ ہو مگر دوسروں کے معاملہ میں ایثار سے کام لیتے ہیں‘‘،صحابہؓ کی اس صفت کو بتا کر مسلمانوں کو ترغیب دی جارہی ہے اور اس طرز کو اختیار کرنے کی انہیں تربیت دی جارہی ہے،ایثار وقربانی ایسا زبردست عمل اور ایسی قوت ہے جس کے ذریعہ بڑے بڑے دشمن کو دوست بنایا جاسکتا ہے ،ایثار وقربانی کے بغیر اتحاد کا تصور خیالی ہی ہے،ہم لوگ ایثار وقربانی کے جذبہ سے عاری ہوچکے ہیں ،ہم اپنے آبا واجداد کی یہ میراث کھو چکے ہیں ،ہمارا طرز عمل لوگوں کو ہم سے برگشتہ کر رہا ہے ،ہم قربانی دینے کے بجائے دوسروں سے قربانی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، عالم اسلام کی عبقری شخصیت ،مؤرخ اسلام ، مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے بڑے درد وسوز کے ساتھ اپنے خطابات میں امت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ،ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے بڑے درد کے ساتھ ارشاد فرمایا’’بھائیو ! دوتین باتیں ہیں جو عرض کرتا ہوں ،ایک تو اس ناچاقی اور نا اتفاقی سے بچئے اور خدا کے لئے اس کو دور کیجئے ،اور اللہ کی خوشی کے لئے مل جائیے اور یہ کہہ کر اپنے بھائی کے پاس جائیے کہ کوئی مجبوری نہیں ہے،ابھی دس برس آپ سے اور لڑ سکتا ہوں مقدمہ بھی لڑ سکتا ہوں اور جسمانی طور پر بھی لڑسکتا ہوں لیکن محض خدا اور رسولؐ کی خوشی کے لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے ،ایثار کر کے اپنا حق معاف کرتا ہوں اور آپ سے ملتا ہوں ،اور باقی اب آگے جو کچھ بھی ہو، ( اس کے بعد آگے بڑی اہم بات ارشاد فرمائی ) جو لوگ ایسا کریں گے میں سمجھتا ہوں کہ یہ انہیں بڑی بڑی نفل نمازوں سے اور ممکن ہے کہ نفلی حج سے بھی زیادہ ثواب ملے،اس لئے کہ یہ نفس کے خلاف کرتا ہے اور نفس کے خلاف میں اللہ تعالیٰ کی جو رضا اور ثواب ہے ،وہ نفس کی لذت کے ساتھ نہیں (خطبات علی میاں ؒ :۴؍ ۳۷۱)، غرض جب تک امت مسلمہ اپنے اندر للہیت ،تواضع وانکساری اور ایثار وقربانی کا جذبہ پیدا نہیں کرے گی ،ان کی اتحاد واتفاق کے لئے لگائی گئی آواز صرف بازگشت بن کر رہ جائے گی ،کوئی اس پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور دنیا کے سامنے رسوائیوں کا جو سلسلہ ہے وہ بڑھتا ہی جائے گا اور ہم یوں ہی ذلیل وخوار ہوتے رہیں گے۔
Like this:
Like Loading...