Skip to content
پرانی پنشن کی بحالی کے لئے سرکاری ملازمین احتجاج کریں گے
نئی دہلی ،27جولائی ( آئی این ایس انڈیا)
مرکزی بجٹ میں حکومت نے اپنے ملازمین کو سخت پیغام دیا ہے کہ انہیں او پی ایس نہیں ملے گا۔ ملازمین کی تنظیموں نے، جنہوں نے کئی بار حکومت کو ڈیمانڈ لیٹر جمع کرائے تھے، اب پرانی پنشن کے معاملے پر ہمہ جہت لڑائی لڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اگلے مہینے مرکزی اور ریاستی ملازمین تنظیموں کی طرف سے کئی بڑے مظاہرے دیکھنے کو ملیں گے۔آل انڈیا ڈیفنس ایمپلائیز فیڈریشن کی قومی ایگزیکٹو کے اراکین، جنہوں نے پنشن کے معاملے پر 15 جولائی کو وزارت خزانہ کی کمیٹی کی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا، 2 اگست کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کریں گے۔
آل انڈیا اسٹیٹ گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن 13-14 اگست کو ملک گیر احتجاج کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ نیشنل مشن فار اولڈ پنشن اسکیم انڈیا نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر او پی ایس پر گزٹ جاری نہیں کیا گیا تو پارلیمنٹ کے محاصرے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔آپ کو بتاتے چلیں کہ پرانی پنشن بحالی، جس کے لیے مختلف مرکزی تنظیمیں طویل عرصے سے آواز اٹھا رہی تھیں، اس کا بجٹ میں ذکر تک نہیں کیا گیا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بھی اپنی بجٹ تقریر میں آٹھویں پے کمیشن کی تشکیل کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا۔ یہ وزیر خزانہ کا سرکاری ملازمین کو سخت پیغام تھا کہ انہیں صرف این پی ایس میں ہی رہنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ وہ قومی پنشن سسٹم کے حوالے سے سرکاری ملازمین کے تحفظات سے آگاہ ہیں۔ اس حوالے سے جلد حل کا اعلان کیا جائے گا۔ آل انڈیا ڈیفنس ایمپلائز فیڈریشن کے جنرل سکریٹری سی سری کمار کہتے ہیں، محنت کش طبقے کو او پی ایس کی ضرورت ہے۔
اس سے کم ان کے لیے قابل قبول نہیں۔ اے آئی ڈی ای ایف کی قومی ایگزیکٹو او پی ایس، آٹھویں تنخواہ کمیشن کی تشکیل اور دیگر مطالبات کو لے کر 2 اگست کو دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دے گی۔ اس کے علاوہ دفاعی شعبے کے 400 یونٹس پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے بعد دیگر ملازمین تنظیموں سے بات چیت کے بعد مزید تحریک کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔اوپی ایس کی جنگ اب تیزی سے آگے بڑھے گی۔
Like this:
Like Loading...