Skip to content
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع پھر سے سر کیوں اُٹھا رہا ہے؟
دبئی،29جولائی ( آئی این ایس انڈیا)
اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک تباہ کن راکٹ حملے نے ان خدشات کو ہَوا دی ہے کہ اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ ایک مکمل جنگ کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اگرچہ دونوں فریقین نے اس سے قبل یہ واضح کیا تھا کہ وہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں تاہم اس حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تیار ہیں۔فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر حملہ کرنے اور غزہ جنگ کو ہَوا دینے کے ایک دن بعد حزب اللہ نے 8 اکتوبر کو فائرنگ کا تبادلہ شروع کیا۔حماس کی اتحادی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد اُن فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے جو غزہ میں اسرائیلی بمباری کی زد میں ہیں۔
غزہ جنگ نے پورے خطے میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ حزب اللہ کو وسیع پیمانے پر ایران کے حمایت یافتہ نیٹ ورک کا سب سے طاقتور رکن سمجھا جاتا ہے، جسے مزاحمت کا محور کہا جاتا ہے۔حزب اللہ نے بارہا کہا ہے کہ جب تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہوتی وہ اسرائیل پر اپنے حملے نہیں روکے گی۔اسرائیل طویل عرصے سے حزب اللہ کو اپنی سرحدوں پر سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ اس کے ہتھیاروں میں اضافے اور شام میں قدم جمانے پر وہ پریشانی سے دوچار ہے۔
حزب اللہ کے نظریے کو اسرائیل کے ساتھ تنازع سے سمجھا جا سکتا ہے۔اس کی بنیاد 1982 میں ایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیلی افواج سے لڑنے کے لیے رکھی تھی جس نے اسی سال لبنان پر حملہ کیا تھا اور کئی برسوں تک گوریلا جنگ جاری رکھی جس کی وجہ سے اسرائیل کو 2000 میں جنوبی لبنان سے دستبردار ہونا پڑا۔حزب اللہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر قائم ہونے والی ایک ناجائز ریاست سمجھتی ہے اور اسے ختم ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔حالیہ تنازع نے پہلے ہی دونوں اطراف کو نقصان پہنچایا ہے۔
سکیورٹی اور طبی ذرائع اور حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں لبنان میں حزب اللہ کے تقریباً 350 عسکریت پسند اور 100 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ڈاکٹرز، بچے اور صحافی شامل ہیں۔اسرائیلی فوج نے سنیچر کے راکٹ حملے کے بعد کہا کہ حزب اللہ کے حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں میں اکتوبر سے اب تک کم از کم 17 فوجیوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔ سرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دسمبر میں خبردار کیا تھا کہ اگر حزب اللہ نے وسیع پیمانے پر جنگ شروع کی تو بیروت کو ’غزہ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
حزب اللہ نے پہلے اشارہ دیا ہے کہ وہ تنازع کو وسیع کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے تاہم یہ بھی کہا کہ وہ خود پر مسلط ہونے والی کسی بھی جنگ سے لڑنے کے لیے تیار ہے۔حزب اللہ کے نائب رہنما شیخ نعیم قاسم نے جون میں الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’تنازع کو وسعت دینے کے لیے اسرائیل کے کسی بھی اقدام کا نتیجہ اسرائیل میں تباہی اور نقل مکانی ہو گا۔
Like this:
Like Loading...