Skip to content
کملا ہیرس کی انتخابی مہم، ایک ہفتے کے دوران 20 کروڑ ڈالر جمع ہوگئے
میری صدارتی مہم کی طاقت عوام ہیں: کاملا ہیرس
واشنگٹن،29جولائی ( آئی این ایس انڈیا)
امریکی نائب صدر کملا ہیرس کی انتخابی مہم چلانے والے عملے نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی اُمیدوار بننے کے بعد سے ایک ہفتے میں 20 کروڑ ڈالر اکٹھے کیے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق کملا ہیرس کے عملے کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ اس مہم میں 170،000 نئے رضاکاروں کو شامل کیا گیا ہے۔کملا ہیرس کی انتخابی مہم کی ڈپٹی منیجر روب فلہرٹی نے ایکس پر لکھا کہ ’جس ہفتے ہم نے (مہم کا) آغاز کیا کمیلا ہیرس نے 20 کروڑ ڈالر اکٹھے کر لیے ہیں جن میں سے 66 فیصد رقم نئے عطیہ دہندگان کی جانب سے ملی ہے۔
ہم نے 170،000 نئے رضاکاروں کو سائن اپ کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم نے جولائی کے اوائل میں کہا تھا کہ انہوں نے دوسری سہ ماہی میں 33 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اکٹھے کیے، جو کہ جو بائیڈن کی انتخابی مہم اور ان کے ڈیموکریٹک اتحادیوں کے اسی عرصے میں جمع کیے گئے 26 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے عملے کے پاس جون کے آخر میں 28 کروڑ 49 لاکھ ڈالر نقد تھے جبکہ ڈیموکریٹک کی مہم کے پاس اس وقت 24 کروڑ ڈالر نقد تھے۔
کملا ہیرس کی بطور ڈیموکریٹک پارٹی امیدوار کی نامزدگی کو سابق اسپیکر نینسی پلوسی سمیت بہت سارے ہیوی ویئٹس نے آگے بڑھایا اور بڑے پیمانے پر ووٹروں نے مہم کے لیے عطیات سے اُن کی حمایت کی۔صدر جو بائیڈن کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد نامزدگی حاصل کرنے والی کملا ہیرس نے الیکشن میں ڈیموکریٹس کی جیت کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔جو بائیڈن کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی سے دستبرداری کے اعلان کے بعد انتخابی کارکنوں سے اپنی پہلی تقریر میں کملا ہیرس نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ماضی میں ہر قسم کے مجرموں کا مقابلہ کر چکی ہیں۔
امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینا ایک مشکل مرحلہ ہوگا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ نئی صدارتی مہم ریپبلکن امیدوار کے ’بے دریغ جھوٹ‘ پر غالب ہو گی۔امریکی ریاست میساچیوسٹس میں ایک فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے کہا کہ اس انتخابی دوڑ میں ’ہم کمزور پارٹی ہیں لیکن اس مہم کو لوگوں کی طاقت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ میرے متعلق بے دریغ جھوٹ کا سہار لے رہا ہے۔
اور جو کچھ وہ خود اور ان کا ساتھی کہہ رہا ہے وہ سراسر عجیب ہے۔خیال رہے کہ امریکہ کی نائب صدر بننے سے قبل کملا ہیرس کیلیفورنیا ریاست کی چیف پراسیکیوٹر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔کملا ہیرس کو ایک ایسے حریف کا سامنا ہے جو 2016 میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی دوبارہ منتخب ہونے کی مہم چلاتے آئے ہیں۔جو بائیڈن کے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کے بعد سابق صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما جیسی اہم شخصیات نے کملا ہیرس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
نائب صدر کاملا ہیرس نے ڈیموکریٹس کی جانب سے ممکنہ صدارتی نامزدگی کے بعد عطیات جمع کرنے کی اپنی پہلی مہم میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکیوں کی آزادیاں چھیننے کے لیے پرعزم ہیں۔اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ہیرس ہفتے کے روز میساچوسٹس کے شہر پٹس فیلڈ گئیں جہاں کلونیئل تھیٹر میں جمع ہونے والے سینکڑوں حاضرین سے انہیں 14 لاکھ ڈالر سے زیادہ کے عطیات ملنے کی توقع تھی۔ان کی انتخابی مہم نے کہا کہ اس تقریب میں مقررہ ہدف سے 10 لاکھ ڈالر زیادہ ملیں گے۔
انہوں نے اپنے حامیوں کے ایک پرجوش گروپ سے کہا کہ وہ اس صدارتی دوڑ میں ایک کمزور حیثیت میں شامل ہوئیں تھیں اور انتخابی مہم میں بڑھتے ہوئے جوش و خروش سے انہیں یہ اعتماد ملا ہے کہ وہ ٹرمپ کو شکست دے سکتی ہیں۔ہیرس کا کہنا تھا کہ میں قوم کو آگے لے جانے کے لیے لڑوں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے ملک کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ہیرس نے ٹرمپ اور نائب صدارت کے لیے ان کے انتخابی ساتھی سینیٹر جے ڈی وینس کی جانب سے اپنی ذات اور دیگر ڈیموکریٹس پر کیے گئے حملوں پر بھی طنز کیا۔
امریکی نائب صدر کا اشارہ وینس کے 2021 کے ایک انٹرویو کی طرف تھا جس میں انہوں نے ہیرس سمیت کچھ بے اولاد معروف ڈیموکریٹس کو بے اولاد بلیاں قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ میں ان کا کوئی اسٹیک نہیں ہے۔ہیرس کا کہنا تھا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ میرے کچھ ریکارڈ کے بارے میں سفید جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ اور ان کے انتخابی ساتھی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض جھوٹ ہے۔ آپ نے انہیں جس خانے میں رکھا ہوا ہے، وہ درست ہے۔ہیرس کا ری پبلکن پارٹی کی جانب سے بعض افراد کو ٹکٹ جاری کرنے کو حیران کن کہنا اور ٹرمپ اور وینس کے کچھ پر جوش خطابات کو قابلِ اعتراض کہنا ان کی انتخابی مہم کا ایک حصہ دکھائی دیتا ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں ہیرس کی انتخابی مہم نے سوشل میڈیا پر خواتین کے تولیدی حقوق کے بارے میں وینس کے موقف کو حیران کن اور غیر شائستہ قرار دیا تھا۔اسی دوران ٹرمپ فلم سائلنس آف دی لیمبس کے افسانوی جنونی قاتل ہنی بال لیکٹر کو اپنی انتخابی تقاریر کا موضوع بناتے رہے ہیں۔منیسوٹا کے ڈیموکریٹ گورنر ٹم والز نے، جو نائب صدر کے عہدے کے لیے کاملا ہیرس کی شارٹ لسٹ میں شامل ہیں، اس ہفتے کے شروع میں ایم ایس این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریپبلیکز امیداوروں کی مہم خواتین سے نفرت پر مرکوز ہے۔
عطیات جمع کرنے والے حامیوں میں موسیقار جیمز ٹیلر اور سینیٹر الزبتھ وارن اور سینیٹر ایدمارکی، سابق گورنر ڈیول پیٹرک اور ایوان کے رکن رچی نیل سمیت اہم ڈیموکریٹ شخصیات شامل ہیں۔ہیرس نے بائیڈن کی جانب سے صدارتی دوڑ سے نکلنے کے بعد پہلے 48 گھنٹوں میں 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے عطیات اکھٹے کیے اور ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اکھٹے ہونے والے عطیات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
Like this:
Like Loading...