Skip to content
ترکیہ، روس، چین، قطر سمیت کئی ممالک کی اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت
لندن، 31جولائی ( آئی این ایس انڈیا )
ترکیہ، روس، چین اور قطر سمیت کئی ملکوں نے فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کی مذمت کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قتل کے بعد غزہ میں جاری جنگ کا تنازع خطے میں پھیل سکتا ہے۔اسماعیل ہنیہ ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں وہ بدھ کی علی الصباح قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ان کی موت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب امریکہ، قطر اور مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل جاری تھا اور جلد کسی معاہدے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔
ہنیہ کے قتل کے بعد ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ ناصر کنعانی کے مطابق اسماعیل ہنیہ کی موت سے فلسطین اور مزاحمت سے ایران کا تعلق مزید مضبوط ہوگا۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی ایک بیان میں اسماعیل ہنیہ کی موت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایک بزدلانہ اقدام اور خطرناک پیش رفت ہے۔صدر عباس نے بیان میں فلسطینی عوام پر زور دیتے ہوئے انہیں اسرائیل کے خلاف متحد اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی تلقین کی ہے۔خبر رساں اسارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے صاحب زادے عبد السلام ہنیہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے والد چار بار قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے تھے۔
آج ان کو وہ موت ملی جس کی وہ خواہش رکھتے تھے۔قطر نے اسماعیل ہنیہ کی موت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قتل کو گھناؤنا جرم اور کشیدگی میں خطرناک اضافے کا سبب سمجھتا ہے۔قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کی بھی خلاف روزی ہے۔بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کا قتل اور اسرائیل کا غزہ میں مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنانا خطے کو افراتفری کی جانب دھکیل دے گا اور اس سے امن کے امکانات محدود ہو جائیں گے۔چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لی جیان نے ایک بیان میں حماس کے رہنما کی موت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کو اس واقعے پر شدید تشویش ہے۔
بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس واقعے سے ہو سکتا ہے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو۔ غزہ میں جلد از جلد جامع اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ حماس، الفتح سمیت 14 تنظیموں نے گزشتہ ہفتے چین میں ایک مذاکراتی عمل کے بعد اختلافات ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اسرائیل نے بیجنگ میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ جنگ کے بعد غزہ کی قومی مصالحتی حکومت میں حماس کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت قیام امن کی خواہش مند نہیں ہے۔
”خبر رساں ادارے ’انادولو‘ کی رپورٹ کے مطابق ترک وزارتِ خارجہ نے بیان میں متنبہ کیا کہ اگر عالمی برادری نے اسرائیل کو روکنے کے اقدامات نہ کیے تو خطے کو مزید بڑے تنازعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بیان کے مطابق ترکیہ فلسطینی عوام کے مقاصد کی حمایت جاری رکھے گا۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل فلسطینیوں کی خواہش کو ختم نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہنیہ کا قتل مسئلہ فلسطین کے مقصد کو متاثر کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس قتل کا مقصد غزہ کی عظیم مزاحمت اور ہمارے فلسطینی بچوں کی جائز جدوجہد کو متاثر کرنا اور انہیں خوف زدہ کرنا تھا لیکن صیہونیوں کی بربریت اپنے مقاصد حاصل نہیں کرے گی۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے تین روز قبل ہی فلسطینیوں کی مدد کے لیے اسرائیل میں داخل ہونے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ ترکیہ اسرائیل میں بھی اسی طرح داخل ہو سکتا ہے جس طرح وہ ماضی میں لیبیا اور ناگورنو کاراباخ میں داخل ہو چکا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی کابینہ میں شامل وزیر ثقافت عمیحائی اِلیاہو نے سوشل میڈیا پر عبرانی زبان میں ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا کو گندگی سے پاک کرنے کا یہی درست طریقہ ہے۔ مزید کوئی ’امن‘ یا ہتھیار ڈالنے کے معاہدے نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے سے امن آئے گا اور امن کی خواہش رکھنے والوں کے ساتھ رہنے والوں کو سکون اور تقویت ملے گی۔
Like this:
Like Loading...