Skip to content
اسمٰعیل ہانیہ کا خون بیت المقدس کی سپرد
ازقلم::ابن عطاءاللہ بنارسی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
مجاہدین فلسطین کا سپہ سالار اپنے خاندان کے شہیدوں کے بعد آج خود بھی اپنی جان، جانِ جاناں کو سپرد کرگیا، اور عالمِ اسلام کے تمام زندہ دل مؤمنین اور حریت پسندوں کو یہ پیغام دے گیا:
”مرنے والو! آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کفِ قاتل میں ہے“
تل ابیب سے لیکر واشنگٹن تک اور لندن سے لیکر پیرس تک تمام دشمنانِ بیت المقدس کا متحدہ جشن و سرود یہ بتلارہاہے کہ مجاہدین فلسطین کی گردنیں دشمنوں کی نگاہوں میں کس قدر اونچی، انکے بازو کس قدر مضبوط اور انکے اقدام کتنے با مقصد ہیں! اسمعیل ہانیہ کے خون کی قیمت کا اندازہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھے خون فروشوں کی طرب انگیزیوں سے خوب لگایا جاسکتا ہے!
اس شہادت نے ایک حیرت خیز اور عبرت آمیز انکشاف یہ بھی کیاہے کہ اس جنگ میں ایران کا کردار مشکوک تھا اور آج بھی مشکوک ہے، بلکہ یہ شک یقین میں بدلتا نظر آرہاہے کہ حزب اللہ اور دیگر شیعی جماعتوں کی چیخ و پکار محض درپردہ پلاننگ کا حصہ ہے! اور اب لحظہ لحظہ تمام کھلے اور چھپے دشمنان میدان کار زار میں جمع ہورہے ہیں؛
یہ شہادت اسلامی دنیا کے سوئے ہوئے حکمرانوں کو بیدار کرنے کے لئے یہ صدا بھی لگا گئی کہ تمہاری بزدلی اور انتشار کا خمیازہ بیت المقدس کے جاں نثاروں کو بھگتنا پڑ رہاہے، ابھی بھی وقت ہے خواب غفلت سے بیدار ہوجاؤ!
یہ شہادت یہ اعلان بھی کررہی ہے کہ دشمنانِ اسلام، ایک اسمعیل ہانیہ کو شہید کرکے کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں، فلسطین کی خاک سے ابھی ہزاروں اسمعیل ہانیہ نمودار ہونے والے ہیں، شہادت مومن کے سر کا تاج ہے، شہادت اہل ایمان کے لئے طرۂ افتخار ہے، شہادت اہل ایمان کو جلا بخشتی ہے، انکے لہو کو گرم اور انکے ولولے کو برانگیختہ کرتی ہے، اسمعیل ہانیہ کی روح یہ اعلان کررہی ہے کہ بیت المقدس کے دشمنان خوش نہ ہوں، وہ اپنی گردنوں کی فکر کریں اسلئے کہ جنگ ابھی جاری ہے؛
ابن عطاءاللہ بنارسی/24محرم 1446ھ
Like this:
Like Loading...