Skip to content
غصہ نہ کیا کرو !
غصہ اور غضب بہت سی برائیوں کو جنم دیتا ہے
ترتیب و اضافہ: عبدالعزیز
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: ’’ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘۔ اس نے یہ درخواست کئی بار کی۔ اللہ کے رسولؐ نے ہر بار جواب میں فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘۔
بار بار ایک ہی جواب دینے کا ایک واضح مطلب ہے کہ غصہ انتہائی خراب اور نقصان دہ چیز ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ مسائل کی نفسیات اور کردار سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی واقف تھے، اس لئے بھی آپ اپنی نصیحت کو بار بار دہرا رہے تھے تاکہ وہ غصہ ترک کردے۔
ایک حدیث کا ٹکڑا ہے: ’’جو اپنا غصہ پی جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنا غضب ہٹا لیتا ہے‘‘۔
دوسری حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ غصہ کو قابو میں رکھنے سے انسان کس قدر فائدے میں رہتا ہے۔ غصہ کو ترک نہ کرنے سے کس درجہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں یہ بات ایک غصہ ور شخص اچھی طرح جانتا ہے۔ غصہ کے عالم میں کتنی بڑی لڑائیاں ہوجاتی ہیں، کتنے خاندان برباد و تباہ ہوجاتے ہیں۔ روپے پیسے کا بھی زیاں ہوتا ہے۔ غصہ ور کے ہاتھ کچھ نہیں آتا اور کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔
ترمذی نے یہی روایت حضرت ابوحصینؓ سے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! مجھے کچھ سکھائیے (لیکن) زیادہ لمبی بات نہ ہو، شاید میں اسے سمجھ سکوں‘‘۔ (ترمذی ہی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے)۔ آپؐ نے فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘۔ اس نے متعدد بار وہی سوال دہرایا اور آپؐ نے یہی ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو‘‘۔
اس جامع اور مختصر نصیحت سے معلوم ہوتا ہے کہ غضب و غصہ بہت سی برائیوں کا سبب ہے اور اس سے پرہیز کرنا بہت سی بھلائیوں کا سبب ہے۔
مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ’’اللہ تعالیٰ کے غضب سے مجھے کیا چیز دور کرسکتی ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا:’’غصہ نہ کیا کرو‘‘۔
حضرت جعفرؒ بن محمد کہتے ہیں کہ غضب و غصہ تمام برائیوں کی کنجی ہے۔
حضرت عبدؒاللہ ابن مبارک سے گزارش کی گئی کہ وہ حسن اخلاق کو ایک لفظ میں بیان کر دیں۔ آپؒ نے فرمایا: ’’غصہ کا ترک کرنا‘‘۔
مروزی نے حضرت العلاءؓ بن شخیر کی روایت نقل کی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سامنے سے آیا اور دریافت کیا: ’’یا رسولؐ اللہ!کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’حسن اخلاق‘‘۔ پھر اس نے بائیں طرف سے آکر یہی سوال کیا، آپؐ نے فرمایا: ’’حسن اخلاق‘‘۔ پھر اس نے پیچھے کی طرف سے آکر یہی سوال دہرایا۔ آپؐ نے اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ’’تم سمجھتے کیوں نہیں؟ حسن اخلاق یہ ہے کہ اگر ہوسکے تو غصہ نہ کرو‘‘۔
اس حدیث میں غصہ نہ کرنے سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایسے اسباب اختیار کرو جو حسن اخلاق کا ذریعہ بنیں جیسے سخاوت، مہربانی، بردباری، حیا و شرم، انکساری، لوگوں کو ایذا نہ پہنچانا، درگزر سے کام لینا، خندہ پیشانی سے ملنا اور غصہ پی جانا وغیرہ، کیونکہ اگر یہ بہترین اخلاق انسان میں پیدا ہوجائیں تو اسے غصہ پر قابو حاصل رہے گا۔
یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ غصہ آنے پر غصہ کے مطابق عمل نہ کرو بلکہ اپنے نفس کو قابو میں کرنے کی کوشش کرو اور اسے اپنے آپ پر سوار نہ ہونے دو، یہاں تک کہ غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی برائیوں سے بچ جاؤ۔
قرآن کریم میں اس کا اشارہ ملتا ہے: ’’اور اگر غصہ آجائے تو در گزر کر جاتے ہیں‘‘ (الشوریٰ:37) ۔
’’ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور کو معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں‘‘ (آل عمران: 134)۔
صحیحین میں حضرت سلیمانؓ بن صرد کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص اپنے ساتھی کو برا بھلا کہنے لگا، اس کا چہرہ غصہ سے سرخ ہورہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر وہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھ لیتا تو اس کا غصہ کافور ہوجاتا۔
ترمذی میں حضرت ابو سعیدؓ خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ میں فرمایا: ’’غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ (غصہ کی حالت میں) اس کی آنکھیں سرخ اور رگیں پھول جاتی ہیں جس پر ایسی حالت طاری ہو وہ زمین پر بیٹھ یا لیٹ جائے۔
ابو داؤد میں حضرت ابوذرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم میں سے کسی پر غصہ طاری ہو تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اگر تب بھی غصہ نہیں جاتا تو لیٹ جائے‘‘۔
اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں انسان (غصہ میں) انتقام لینے کیلئے زیادہ تیار ہوتا ہے، بیٹھنے کی حالت میں اس سے کم اور لیٹنے کی حالت میں سب سے کم۔ اس لئے آپؐ نے حالت انتقام سے دور رہنے کی ہدایت فرمائی۔
یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے زمانے کے بارے میں فرمائی ہے کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہوگا اور بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، یعنی برائی میں پڑنے سے نسبتاً دور ہوگا۔
مسند احمد میں حضرت عبدؓاللہ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو خاموش ہوجائے‘‘۔ یہ جملہ آپؐ نے تین بار فرمایا۔
خاموشی غصہ و غضب کی زبردست دوا ہے کیونکہ جو شخص غیظ و غضب کی حالت میں ہوتا ہے اس کے منہ سے گالی وغیرہ ایسی باتیں نکل جاتی ہیں جن پر بعد میں پچھتانا پڑتا ہے اور جس سے بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اگر خاموشی اختیار کرے تو اس ساری برائی سے بچ جائے۔
حضرت مؤرق عجلی ؒ فرماتے ہیں کہ نہ اتنا غصہ کرنا چاہئے اور نہ غصہ کی حالت میں بولنا چاہئے جس پر بعد میں پچھتانا پڑے۔
ایک دن حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز پر غصہ طاری ہوگیا تو ان کے صاحب زادے عبدالملک نے عرض کیا: امیر المومنین! آپ کو اللہ تعالیٰ نے جتنے فضل و کرم سے نوازا ہے اس کے بعد بھی اس قدر غصہ میں آجاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: عبدالملک! کیا تمہیں غصہ نہیں آتا؟ انھوں نے عرض کیا: میرے پیٹ کی کشادگی کا پھر کیا فائدہ ہوگا اگر اس میں غصہ نہ سما جائے؟
ابوداؤد میں جناب عروہؒ بن محمد سعدی کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے ایسی باتیں کہیں کہ انھیں غصہ آگیا۔ انھوں نے اٹھ کر وضو کیا اور کہا: میرے والد نے میرے دادا حضرت عطیہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غضب شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے، لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرلے۔
ابو نعیم نے ابومسلم خولانی کی روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے حضرت معاویہؓ سے کوئی ایسی بات کہی جس سے ان کو غصہ آگیا۔ اس وقت حضرت معاوؓیہ منبر پر تھے تو وہ اتر کر چلے گئے اور غسل کرکے پھر آئے اور کہاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’غضب شیطان کا حصہ ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور پانی آگ کو بجھاتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی کو غصہ آجائے تو وہ غسل کرلے‘‘۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ پہلوان وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔
ایسی ہی روایت مسلم میں حضرت عبدؓاللہ ابن مسعود سے بھی ہے۔
ابو داؤد و ترمذی و ابن ماجہ میں حضرت معاذ بن انس جہنیؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غصہ پی گیا جبکہ وہ غصہ کے مطابق اقدام کر سکتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سب کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جو حور چاہے منتخب کرلے۔
مسند احمد میں حضرت عبدؓاللہ ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے نے غصے کے اس گھونٹ سے زیادہ … جسے اس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے پی لیا تھا … اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ کوئی اور گھونٹ نہیں پیا۔
حضرت عبدؓاللہ ابن عباسؓ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غصہ کا گھونٹ پینے والے کا دل ایمان سے بھر دے گا۔
ابن ابی الدنیا کی روایت ہے کہ کوئی شخص حضرت سلمانؓ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپؓ نے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو۔ اس نے کہا، آپ نے مجھے غصہ نہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اور کبھی ایسی حالت ہوتی ہے کہ مجھے اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا۔ آپؓ نے فرمایا: تب اگر غصہ آبھی جائے تو اپنی زبان اور ہاتھ کو قابو میں رکھو۔
حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کا قول ہے کہ جو نفس کی خواہش، غصہ اور لالچ سے بچ گیا وہ کامیاب ہوگیا۔
حضرت حسنؒ کہتے ہیں کہ جو رغبت و شوق، خوف اور ڈر، شہوت اور غضب کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے اسے اللہ تعالیٰ شیطان سے محفوظ فرما دے گا اور جہنم اس پر حرام کر دے گا۔
یہی چاروں چیزیں ہر برائی کی جڑ ہیں۔
رغبت و شوق کسی چیز کے حاصل کرنے کی طرف دل کو مائل کرتے ہیں اور پھر اس کیلئے ہر طریقہ جائز و ناجائز اختیار کیا جاتا ہے۔ کبھی وہ چیز خود حرام و ناجائز ہوتی ہے۔ اسی طرح جس چیز سے ڈر ہوتا ہے اسے دفع کرنے کیلئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیا کیا جاتا ہے۔
شہوت انسان کو لذت پرستی کی طرف مائل کرتی ہے اور اکثر حرام چیزوں مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی، کفرو شرک، نفاق و بدعت اور جادو ٹونے کی طرف لے جاتی ہے۔
غضب میں دل جوشِ انتقام میں کھول اٹھتا ہے اور اس کی وجہ سے قتل، مار پیٹ اور ظلم جیسے افعال اور گالی گلوج، الزام تراشی، بیوی کو طلاق دینے جیسے ناروا اقوال سرزد ہوجاتے ہیں۔
مومن کو شہوت کا دائرہ جائز و مباح حد تک محدود رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور صرف نیک مقاصد کیلئے غصہ ہونے کی اجاز ت دی گئی ہے:
’’ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انھیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا‘‘ (التوبہ:15)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس وقت غضبناک ہوتے تھے جب اللہ تعالیٰ کی حرمات کی پردہ دری کی جائے۔ کبھی اپنی ذات کیلئے آپؐ نے انتقام نہیں لیا نہ کسی عورت یا خادم تک کو مارا پیٹا۔
حضرت انسؓ نے بچپن میں دس برس تک آپؐ کی خدمت فرمائی۔ آپؐ نے ان سے کبھی اُف تک نہیں کہا نہ کبھی یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا یا فلاں کام کیں نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ گھر کے لوگوں میں سے بھی اگر کوئی (حضرت انسؓ) کو کچھ کہتا تو فرماتے، چھوڑ دو، اگر اللہ تعالیٰ کو ایسا منظور ہوتا تو ضرور ہوگیا ہوتا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا: ’آپؐ کا اخلاق قرآن (کا عملی نمونہ) تھا‘‘ یعنی قرآن کے حکم کے مطابق خوش اور ناراض ہوتے تھے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اگر کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپؐ کو ناپسند ہو تو ہم ناگواری آپؐ کے چہرے سے محسوس کرتے تھے۔
جب حضرت عبدؓاللہ ابن مسعود نے انھیں بتایا کہ ایک آدمی (مال غنیمت کی تقسیم کے تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بارے میں) یہ کہہ رہا تھا کہ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کیلئے نہیں کی گئی تو آپؐ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور اس غصے کی حالت میں بھی اس سے زیاہ نہیں فرمایا کہ ’’موسیٰؑ کو اس سے بھی زیاہ اذیت دی گئی تھی اور انھوں نے صبر کیا تھا‘‘۔
لیکن جب آپؐ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہو تو اس پر آپؐ غصہ فرماتے تھے اور سکوت اختیار نہیں کرتے تھے بلکہ بول اٹھتے تھے۔ ایک با جب حضرت عائشہؓ کے گھر تشریف لے گئے تو وہاں آپؐ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب والوں میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو یہ تصویریں بناتے ہیں‘‘۔
جب آپؐ سے ایک امام کے بارے میں یہ شکایت کی گئی کہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں جس سے مقتدیوں کو پریشانی ہوتی ہے تو آپؐ سخت غضب ناک ہوئے اور نماز جماعت کو ہلکا کرنے کی ہدایت فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی تھی کہ ’’اے اللہ؛ میں تجھ سے غضب اور خوشی میں حق بات مانگتا ہوں‘‘ اور یہ بہت اہم بات ہے کیونکہ اکثر لوگ جوشِ غضب میں نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں۔
طبرانی میں حضرت انسؓ کی روایت میں ہے کہ تین باتیں ایمان کے اخلاق و اوصاف میں ہیں۔ جب غصہ آئے تو یہ باطل تک نہ پہنچا دے اور جب خوشی ہوتو ہ خوشی حق کے دائرے سے باہر تک نہ پہنچا دے اور جو چیز مقدر میں نہ ہو اس کے پانے کی کوشش نہ کرے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ہم سے پہلے کسی زمانے میں دو آدمی تھے۔ ایک شخص عبادت گزار تھا اور دوسرا گناہ گار۔ عبادت گزار اسے نصیحت کیا کرتا تھا لیکن وہ مانتا نہیں تھا۔ ایک دن (عبادت گزار نے) اسے کوئی ایسا گناہ کرتے دیکھا جو اسے بہت بڑا لگا تو یہ کہہ پڑا؛ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے معاف نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ دعویٰ برا لگا اور اس گناہ گار کو بخش دیا اور عبادت گزار کا عمل ساقط کر دیا۔
حضرت ابوہریرہؓ لوگوں کو غصہ میں اس طرح کی بات کہنے سے ڈرایا کرتے تھے، یہ غصہ و غضب اللہ تعالیٰ کیلئے تھا تب بھی اس نے غصہ کی حالت میں ایسی بات کہہ دی جو جائز نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ پر ایسی بات قطعی بنانے کی کوشش کی جس کے بارے میں اسے علم نہیں تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کا عمل ضائع کر دیا۔ اب جو خود اپنی ذات کیلئے غصہ ہوکر کوئی ناجائز بات کہہ دے اس کا حشر کیا ہوگا؟
مسلم میں حضرت عمرانؓ بن حصین کی روایت ہے کہ وہ لوگ کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر سوار تھی، اونٹنی بگڑ گئی تو اس نے اس پر لعنت بھیجی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا ’’اونٹنی سے سامان اتار کر اسے چھوڑ دو‘‘۔
ایک دوسری روایت میں ایسے ہی واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری سے اتر جاؤ، ہمارے ساتھ کئی ملعون چیز نہیں جاسکتی۔ آپؐ نے فرمایا کہ خود اپنے آپ ک، اپنی اولاد کو اور اپنے مال کو بد دعا نہ دو، ہوسکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دعا قبول کرنے کا وقت ہو اور تمہاری بد دعا قبول کرلے۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ غصہ میں بھی بد دعا نہیں کرنی چاہئے۔ مجاہدؒ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا گیا:
’’اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی‘‘ (یونس:11)۔
آپؐ نے فرمایا: یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو خفا ہوتے ہیں تو اپنے گھر والوں اور مال و دولت کو بد دعا دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت بھیج۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت بھیج۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ دعا جلد قبول کرلیتا تو اسے موت دے دیتا۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ غصہ کی حالت میں بد دعا نظر انداز کر دی جاتی ہے تاہم کبھی قبولیت کی ساعت میں پڑجائے تو قبول بھی ہوجاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ’’جب غصہ آجائے تو چپ ہوجائے‘‘۔ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ غصہ کی حالت میں بھی جو بات منہ سے نکل جائے اس پر مواخذہ ہوگا، اس لئے ایسی حالت میں سکوت ہی اختیار کرنا چاہئے اور غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
عطاءؒ ابن ابی رباح کہتے ہیں کہ علماء آخری عمر کے اس غصہ سے بہت خائف رہتے ہیں جو ساری عمر کی کمائی برباد کر دے۔
البتہ مرض، سفر اور روزہ وغیرہ میں اگر کسی جائز بات پر بشری تقاضوں سے غصہ میں کچھ بول پڑے تو اس کی پریشان حالی کے پیش نظر کسی حد تک نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...