Skip to content
خاتون کے پیٹ سے نکلا ڈیڑھ کلو کا ٹیومر، ڈاکٹر رہ گئے دنگ
اندور، 31جولائی ( آئی این ایس انڈیا )
میڈیکل سائنس اور علاج کی نئی تکنیکوں کے باوجود اب مریض مختلف قسم کے ٹیومر کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اندور کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل ایک 41 سالہ خاتون جو پیٹ میں درد میں مبتلا تھی، اس کے پیٹ سے چھوٹا نہیں بلکہ ڈیڑھ کلو وزنی ٹیومر نکالا گیا ہے۔ ٹیومر کی جسامت دیکھ کر آپریشن کرنے والے ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب تک دنیا میں پیٹ میں صرف 15 سینٹی میٹر سے 700 گرام تک کے ٹیومر ہی پائے گئے ہیں۔ جبکہ یہ ٹیومر تقریباً 23 سینٹی میٹر لمبا اور ڈیڑھ کلو وزنی ہے۔
اندور کی ایک 41 سالہ خاتون مریضہ پچھلے کچھ دنوں سے پیٹ میں درد کی شکایت لے کر انڈیکس اسپتال پہنچی تھی۔ پیٹ میں درد کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئی اور اس کے کھانا پینا بھی کم ہو گیا۔ ڈاکٹر انیتا انانی نے اس خاتون مریض کے سونوگرافی، ایم آر آئی، خون سمیت مختلف ٹیسٹ کیے تو موصول ہونے والی رپورٹس سے معلوم ہوا کہ مریض کے پیٹ میں 21 بائی 19 بائی 12 سینٹی میٹر کا ٹیومر تھا جو گردے کے قریب واقع تھا اور خون کی ایک موٹی نس سے چپکا ہوا ہے جو دل کو براہ راست خون فراہم کرتی ہے۔
اس ٹیومرکو نکالنے کے لیے تقریباً 3 گھنٹے کے آپریشن کے بعد مریض کے پیٹ سے بغیر کسی خون کی کمی کے 23 سینٹی میٹر ٹیومر نکالا گیا۔ آپریشن کے دوران ڈاکٹروں نے مریض کے گردے اور خون کی موٹی نالی کو بھی پھٹنے سے بچا لیا۔ اب مریض آپریشن کے بعد مکمل طور پر صحت مند ہے۔ اس کیس کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ڈاکٹر انیتا انانی مہیشوری نے کہا کہ عام طور پر 1 فیصد سے بھی کم مریضوں کے جسم کے پیٹ سے متعلق حصے میں ٹیومر پائے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 سال کی سرجری کے دوران اس طرح کے پیچیدہ ٹیومر شاذ و نادر ہی ملیں ہیں۔ جسم کے اس حصے میں 1 فیصد سے بھی کم مریضوں میں براڈ لیگامینٹ فائبرائیڈ ٹیومر پایا جاتا ہے، تاہم یہ نایاب ترین 23 سینٹی میٹر اور 1.5 کلو کا بینائن ٹیومر خاتون مریضہ کی بیماری کی وجہ بنا، جس کا آپریشن کیا گیا۔
Like this:
Like Loading...