Skip to content
شہیدؒ ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ
ــــــــــــــــــــــــــــ
شہادت اللّٰہ کے شیروں کا فن ہے
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی
حماس نے شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ اس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہانیہ "تہران میں ایک غدارانہ صیہونی فضائی حملے میں شہید کئے گئے”۔ یہ صرف اسماعیل ہانیہ کی شہادت نہیں ہے، یہ ایران پر بھی حملہ ہے، یہ حملہ ایران کی انٹیلیجنس اور سیکیوررٹی کی بھی ناکامی ہے، اسماعیل ہانیہ ایران کے مہمان تھے اور ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے تھے۔
جب کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ شہید حماس رہنما کا "خون کبھی ضائع نہیں ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی علاقائی سالمیت، عزت، وقار اور فخر کا دفاع کرے گا، اور دہشت گرد قابضین کو اپنے بزدلانہ عمل پر پچھتانا پڑے گا”۔ جب کہ اسرائیل کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ لیکن یہ یہ بات ساری دنیا کے سامنے عیاں ہے کہ یہ بزدلانہ کارروائی اسرائیلی مکار و بزدل ایجنٹوں کا سیاہ کارنامہ ہے، جنہوں نے رات کے اندھیرے میں براہِ راست ان پر ایک میزائل داغا گیا۔
گزشتہ 35؍ سالوں میں اسرائیلی ایجنسی موساد نے فلسطین کے عظیم مجاہدین کو شہید کیا ہے، 1988ء میں الفتح کے لیڈر ابوجہاد کو تیونس میں اور 2004ء میں حماس کے بانی شیخ احمد یسین شہیدؒ کو غزہ میں شہید کیا گیا، اور اب اسماعیل ہانیہ کو فضائی گائیڈڈ پراجیکٹائل میزائل سے شہید کردیا گیا ہے کیونکہ اسماعیل ہانیہ نے قضیہ فلسطین کو عالمی سطح پر اُجاگر کیا، اسرائیل کے غاصبانہ کردار کو دنیا کے سامنے رکھا۔ اسماعیل ہانیہ فلسطینی جماعت کی بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کا ایک محاذ تھے۔ اسماعیل ہانیہ نے حماس کی لڑنے کی صلاحیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
راہِ مقاومت کے مستقل اور فلسطینی مقاومت کے بہادر، اسلامی مزاحمت تحریک حماس کے رہنما، شہیدِ القدس 61؍ سالہ اسمعیل عبد السلام ہانیہ ایک ممتاز، دانشمند، مستقل مزاج رہنما اور فاتح مجاہد کے روپ میں نظر آئے، جنہوں نے فلسطینی مزاحمت اور جہاد میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اسی لئے ان کی شہادت کو ایک عظیم فتح کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایران کے صدر مسعود پژشکیان نے کہا "کل میں نے ان کا فاتحانہ ہاتھ بلند کیا تھا اور آج مجھے ان کو اپنے کندھوں پر دفن کرنا پڑا”۔
10؍ اپریل 2024ء کو اسرائیل کے فضائی حملے میں اسماعیل ہانیہ کے تین بیٹے حازم، عامر اور محمد اس وقت مارے گئے جب اسرائیلی فضائیہ نے اس کار کو نشانہ بنایا جس میں وہ سفر کر رہے تھے۔ اس حملے میں اسماعیل ہانیہ نے اپنے چار پوتے پوتیوں کو، جن میں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا تھا، بھی کھو دیا ہے۔ اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے خاندان کو "شہداء فلسطین کا گلدستہ” کہا جانا غلط نہ ہوگا۔
تہران میں شہیدؒ اسمعیل ہانیہ پر راکٹوں سے حملوں کو "انتہائی خطرناک واقعات کا سلسلہ” قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ واقعات نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسمعیل ہانیہ کے شہادت سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔ حملے کے بعد خطے میں مزید افراتفری اور کشیدگی پیدا ہونے کی توقع ہے، جو نیتن یاہو کے سیاسی مقاصد کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت روکنے کی وجہ سے اسرائیلی سیکیورٹی اور فوجی شخصیات مایوس ہو رہی تھیں۔ دراصل اب ایک سے زیادہ اسرائیل بن گئے ہیں، ایک نتن یاہو کا اسرائیل ہے اور دوسرا وہ اسرائیل جو نتن یاہو پر مکمل طور پر بھروسہ کھو چکا ہے۔ اسمعیل ہانیہ پر حملے کی وجہ سے یہ مایوسی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔
نیتن یاہو غزہ میں جاری تنازعے کو ختم کرنے کے خلاف تھے۔ ان حملوں کے بعد تنازعہ اور کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نیتن یاہو کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں اسرائیلیوں نے فلسطینی قیدیوں کو اذیت دینے اور جنسی زیادتی کرنے کے حق میں مظاہرے کیے تھے۔ یہ مظاہرے بھی خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ حملوں کے بعد خطے میں افراتفری اور تکلیف پیدا ہو رہی ہے، جس سے نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مسائل کو مؤخر کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اسرائیل اس بات کو سمجھتا ہے کہ اسے بین الاقوامی برادری سے تحفّظ حاصل ہے، بالکل اسی طرح جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو بغیر حفاظتی کپڑوں کے کھولنے سے مکھیوں کا حملہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ نیتن یاہو شاید یہ بھول گئے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیوں کے نتائج کس قدر مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ مجرم اور دہشت گرد صیہونی رژیم بین الاقوامی تحفّظات کے باوجود اپنے اقدامات کی نتائج کے لیے حساس رہے۔
اسمعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد خطے میں مزید تشویش اور افراتفری پیدا ہوتی ہے، تو یہ اسرائیلی عوام کی سلامتی اور زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس نوعیت کی کارروائیاں اکثر پُرتشدد ردّعمل، مزاحمت، اور نئے تنازعات کو جنم دیتی ہیں، جو کہ اسرائیلیوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کر سکتی ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حماس کے رہنما کی موت کی مذمت کی اور کہا کہ بیجنگ کو "شدید تشویش ہے کہ یہ واقعہ علاقے کی صورت حال میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے”۔ یہ نکات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں اسمعیل ہانیہ پر حملے خطے میں مزید کشیدگی اور افراتفری کا سبب بن سکتے ہیں، اور کیسے نیتن یاہو کو اس کا سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے۔
اسماعیل ہانیہ 1962ء میں غزہ کے شہر کے مغرب میں شطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے، انہوں نے 16؍ سال کی عمر میں اپنی کزن امل ہانیہ سے نکاح کیا جن سے ان کے 13؍ بچے ہوئے، جن میں 8؍ بیٹے اور 5؍ بیٹیاں شامل ہیں۔ یہ انہوں نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے 1987ء میں عربی ادب میں ڈگری حاصل کی پھر 2009ء میں اسلامی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کی۔
اسماعیل ہانیہ فلسطین کے سابق وزیر اعظم، حماس کے سیاسی سربراہ اور حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین تھے، 2017ء میں انہیں خالد مشعال کی جگہ حماس کا سیاسی سربراہ مقرر کیا گیا، وہ 2023ء سے قطر میں قیام پذیر تھے۔ اسماعیل ہانیہ 1988ء میں حماس کے قیام کے وقت ایک نوجوان بانی رکن کی حیثیت سے شامل تھے، 1997ء میں وہ حماس کے روحانی رہنما شیخ احمد یاسین کے پرسنل سیکرٹری بن گئے، 1988ء میں پہلے انتفادہ میں شرکت کرنے پر اسماعیل ہانیہ کو اسرائیل نے 6؍ ماہ قید میں رکھا۔
1989ء میں دوبارہ گرفتاری کے بعد 1992ء میں اسماعیل ہانیہ کو لبنان ڈی پورٹ کیا گیا جس کے اگلے سال اوسلو معاہدے کے بعد اسماعیل ہانیہ کی غزہ واپسی ہوئی۔ 2006ء میں فلسطین کے الیکشن میں حماس کی اکثریت کے بعد اسماعیل ہانیہ کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیرآعظم مقرر کیا گیا، حماس فتح اختلافات کے باعث یہ حکومت زیادہ دیر نہ چل سکی لیکن غزہ میں حماس کی حکمرانی برقرار رہی اور اسماعیل ہانیہ ہی اس کے سربراہ تھے۔
1994ء میں انہوں نے انٹرویو میں کہا تھا کہ "یاسین فلسطینی نوجوانوں کے لیے ایک ماڈل ہیں” اور مزید فرمایا تھا کہ "ہم نے ان سے اسلام سے محبت اور اس اسلام کے لیے قربانیاں دینا سیکھا اور ان ظالموں اور جابروں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنا سیکھا”۔
تہران میں جنازے کی تقریب کے بعد، حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی جسد خاکی کو کل دوحہ منتقل کیا جائے گا۔ انہیں جمعہ کو قطری دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا جائے گا۔ اسلامی امت، مزاحمت کی جبهہ، فلسطین کی بہادر اور فخر سے بھرپور قوم، اور خاص طور پر شہید اسماعیل ہانیہ اور ان کے ہمراہ شہید ہونے والے ایک محافظ کے خاندان اور اہل خانہ کو تعزیت پیش کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قربانیوں اور جہاد کو شرفِ قبولیت بخشے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے۔ آمین ثمّ آمین یا ربّ العالمین
(31.07.2024)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
Like this:
Like Loading...