Skip to content
بی جے پی رہنما کا متنازعہ بیان، مجھے مسلم محلہ سے ڈر لگتا ہے!
گیا؍پٹنہ، یکم اگست (آئی این ایس انڈیا )
گیا میں بی جے پی کے ایک رہنماء نے مسلمانوں کے تعلق سے متنازع بیان دیا ہے۔ شہر گیا میں واقع ایک مسلم اکثریتی محلہ کریم گنج کو بی جے پی رہنماء نے روہنگیا مسلمانوں کی پناہ گاہ قرار دینے کے ساتھ کہا کہ انہیں کریم گنج سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں چھ انچ چھوٹا نہ کردیا جائے۔ وہ کریم گنج سے متصل علاقے میں رہتے ہیں، ڈر لگتا ہے کہ فتویٰ جاری نہ ہوجائے اور اسکے بعد اس کا قتل ہوجائے۔ دراصل بی جے پی رہنماء ایڈوکیٹ مکیش سنگھ نگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر چنتا دیوی کے ایک بیان پر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ڈپٹی میئر چنتا دیوی نے بی جے پی کے گیا رکن اسمبلی و ریاستی وزیر ڈاکٹر پریم کمار کے ایک بیان کہ کارپوریشن میں بد قسمتی سے خراب لوگ جیت آکر آگئے ہیں، اس بیان کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ جہاں ملیں گے نگر ایم ایل اے کو لہرا دیں گے’ نذر آتش کردیں گے۔ اس بیان کی مخالفت میں آج بی جے پی رہنماؤں نے پریس کانفرنس کیا تھا اور اس پریس کانفرنس میں نگر نگم کے کاونسلروں کی لڑائی کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا، ایک مسلم محلے کے باشندوں کو روہنگیا مسلمان قرار دیا گیا اور اُنہیں تشدد کرنے والا بتایا گیا۔دراصل بی جے پی رہنما کریم گنج پر اس لیے حملہ آور ہیں کیونکہ اس مسلم وارڈ 26 نیو کریم گنج سے سابق ڈپٹی میئر موہن شریواستو اس بار ضمنی انتخاب میں جیتے ہیں۔ اُنہیں اپنے روایتی وارڈ 11 سے شکست ہونے کے بعد وارڈ 26 کے کاؤنسلر ابرار احمد عرف بھولا میاں نے استعفیٰ پیش کر ضمنی انتخاب میں موہن شریواستو کو امیدوار بنا کر جیت سے ہمکنار کرایا تھا، ابرار احمد عرف بھولا میاں کی شبیہہ بھی ایک دبنگ شخص کے طور پر رہی ہے۔ بھولا میاں کا مسلم وارڈ 25 اور 26 پر اچھی پکڑ ہے اور یہاں ان وارڈوں سے کئی بار وہ بلا مقابلہ جیت درج کر چکے ہیں، اس بار بھی اُنہوں نے وارڈ 26 سے بلا مقابلہ جیت درج کیا تھا جبکہ وارڈ 25 سے انکی اہلیہ وارڈ کاؤنسلر ہیں۔ابرار احمد نے اپنے وارڈ میں استعفیٰ دے کر موہن شریواستو کو کاؤنسلر بنوایا تھا، لیکن اب بی جے کے رہنماؤں کی جانب سے میونسپل کارپوریشن کے عوامی نمائندوں اور وزیر کے درمیان کی لڑائی کو فرقہ وارانہ رخ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Like this:
Like Loading...