Skip to content
کشیدگی کے دوران، تہران اور بیروت میں حملے مددگار نہیں ہیں: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن ، یکم اگست (آئی این ایس انڈیا )
اسرائیلی حملہ جس سے بیروت میں حزب اللہ کے ایک کمانڈر ہلاک ہوئے اور تہران میں حماس کے سیاسی رہنما کی ہلاکت ہوئی، اس سے علاقائی کشیدگی میں مدد نہیں ملتی تاہم کسی وسیع تر تنازعے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ یہ بات وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز کہی۔ دوسری جانب محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو یقین ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی سے جب ان حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ 24، 48 گھنٹوں کے دوران آنے والی یہ رپورٹیں یقینی طور پر درجہ حرارت (گرما گرمی) میں کمی لانے میں مددگار نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم واضح طور پر(کشیدگی میں) اضافے کے بارے میں فکر مند ہیں۔کربی نے ایسی کسی ہمہ گیر جنگ کے فوری خطرے کو کم قرار دیا جس کا خطے کو 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرد حملے اور غزہ میں اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کے بعد سے خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا در اصل یہ حیال نہیں ہے کہ کشیدگی میں اضافہ ناگزیر ہے اور اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ کوئی اضافہ عنقریب ہونے والا ہے۔لیکن انہوں نے کہا کہ واشنگٹن پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔کربی نے کہاکہ ایسا نہیں ہے کہ ہم خدشات کو قطعی طور پر مسترد کر رہے ہیں۔ ہم ان کا انتہائی غور سے جائزہ لے رہے ہیں، اور یہ صدر کی ایک اہم تشویش رہی ہے،اسرائیل کے دو دیرینہ دشمنوں پر یہ حملے، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے غزہ میں جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے مقصد سے صدر جو بائیڈن کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں بات چیت کے بعد، ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں کیے گئے ہیں۔حماس نے تہران میں اپنے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے لیے اسرائیلی حملے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔وہیں اسرائیل نے اس حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک پر کوئی حملہ ہوا تو وہ اس کا بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔
Like this:
Like Loading...