Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی -حیات وخدمات
(ایک روزہ تفہیم ختم نبوت ورکشاب حلقہ بندلہ گوڑہ کے موقع سے خصوصی تحریر)
مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
ادارہ علم وعرفان ، وادی مصطفی شاہین، نگر
استاذحدیث دار العلوم دیودرگ
ہر زمانے میں فتنے جنم لیتے رہے ہیں ، صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعین اور علماء عظام نے ہردورمیں ان فتنوں کا بھرپور تعاقب کیا ہے ، اور ان کا قلع قمع کئے بغیرچین نہیں لیا، انہیں فتنوں میں خصوصا وہ فتنے شامل ہیں جو دعوی مہدویت ، مسحیت بلکہ دعوی نبوت سے متعلق رہے ہیں، حضرات صحابہ کرام نے سب سے پہلے مدعی نبوت مسلیمہ کذاب کے فتنہ کی سرکوبی کے لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں جنگ یمامہ میں اس کا مقابلہ کیا،مسیلمہ کذاب مارا گیااور لیکن تقریبا ۱۲ سو صحابہ کرام نے جام شہادت نوش کیا،اسی طرح اسود عنسی ، طلیحہ اسدی ، محمد جونپوری اور مرزا غلام احمد قادیانی او ر شکیل بن حنیف جیسے کذاب بھی انہیں مدعیان مہدویت، ومسیحیت اور نبوت میں شامل رہے ہیں، ہر دو ر میں ان کذابوں ، مکاروں اور عیاروں کا علما ء نے خوب مقابلہ کیا ، ، محمد جونبوری نے جب دعوی مہدویت کیا، اس وقت عظیم عالم دین علامہ محمد طاہر پٹنی ، عظیم کتابوں کے مصنف( مجمع بحار الانوار، الموضوعات الکبیر) وغیرہ نے ان کا تعاقب کیا، بلکہ اپنی پگڑی نکال کر رکھ دی کہ جب تک اس فتنہ کی سرکوبی نہ کی جائے گی اس پگڑی کو نہیں پہنوں گا، اس وقت سن ۹۸۰ھ میں اکبر نے گجرات فتح کیا تو اس نے علامہ صاحب کی پگڑی باندھی، اس فتنہ کے سدباب میں اپنی معیت ورفاقت کا وعدہ کیا،اس کے بعد یہ فتنہ کمزور پڑ گیا، پھر جب دوبارہ مرزا عزیز حاکم گجرات سبکدوش ہوا ، جس کو اکبر نے متعین کیا تھا،تو ان کا پھر زوربڑھ گیا،پھر علامہ پٹنی نے دوبارہ اپنی پگڑی اتاری دی اور دار الحکومت اکبر سے ملاقات کے لئے قصد کیا، اجین میں انہیں مہدویوں کی جماعت نے پیچھا کرکے انہیں شہید کردیا۔
پھر جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدویت، مسحیت اورنبوت کا دعوی کیا توپھر اس کے دفاع کے لئے علماء کرام سرگرم عمل ہوئے جن میں علامہ عطاء اللہ شاہ بخاری،علامہ محمد علی مونگیری اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی خدمات نہایت نمایاں رہی ہیں، بلکہ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا یہ جملہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت وصیانت کے کاز کی اہمیت کو بتلاتا ہے ، جب انہوں نے مقدمہ بہاولپور جیت لیا اور لوگوں نے ان کی تعریف وتوصیف میں مبالغہ آرائی سے کام لیاتو اس وقت فرمایا: ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا ہے ، حالانکہ ہم پر یہ بات کھل گئی کہ ’’گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے ، اگر ہم عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ نہ کرسکیں‘‘۔
موجودہ دور کا عظیم فتنہ شکیل بن حنیف کا فتنہ ہے ، جس کا کئی محاذوں پر علماء کرام کی بڑی تعداد میں تعاقب کیا ہوا ہے ، بلکہ بقول مولانا مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب کے یہ شخص قادیانی سے زیادہ مکار ، عیار، شاطر ، چال باز اور مکر وفریب سے کام لینے والا ہے ، قادیانی کے متبعین جاہل لوگ تھے، اس کے متبعین کی بڑی تعداد میں دعوت وتبلیغ سے منسلک اور یونیورسٹیوں کے کے بڑے بڑے ڈگریوں کے حامل طلباء، اساتذہ اور ذہین وفطین پروفیسرس ہیں۔اس فتنہ شکیل بن حنیف نے ہندوستان میںہر جگہ اپنے بال وپر پھیلا رکھے ہیں، اس فتنے کا ا س زمانے میں خوب تعاقب اگر کسی نے کیا ہے ، اس فتنہ کی ساری پرتیں کھولی اوراس کو واشگاف کرنے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ، شکیل بن حنیف کا سار کچا چھٹا کھول کر اس کی حقیقت کو بروئے کار لانے اور اس کے کذب دجل کی تمام پرتوں سے پردہ اٹھانے کا بیڑا دیگر علماء کے ساتھ کسی نے اٹھا رکھا ہے تو حضرت مولانا مفتی اسعدقاسم سنبھلی کی ہے۔بلکہ مفتی صاحب کو ’’فاتح شکیل بن حنیف‘‘ کے لقب سے ملقب کیا جاتا ہے ۔
نام ونسب اور حصول تعلیم
حضرت مولانا مفتی اسعد قاسم صاحب کا نام نامی اسم گرامی ’’اسعد قاسم ‘‘ ہے ، والد محترم کانام ’’ محمد یوسف، مفتی صاحب کی ولادت موضع خواجہ سرائے ، ضلع سنبھل اتردپردیش ہے ، سن ولادت ، ۱۵؍۰۷؍۱۹۶۹ ہے ، دار العلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی ، وہیں سے سن ۱۹۹۲،۱۹۹۳ء میں دار الافتاء دار العلوم دیوبند سے تکمیل افتاء کیا، ابھی اس وقت مدرسہ شاہ ولی اللہ مرادآباد کے ناظم اعلی ہیں، کئی ایک کتابوں کے مصنف، مقرر، باکمال خطیب اور خصوصا فتنوں کے حوالہ سے خوب مطالعہ اور درک حاصل ہے ۔مفتی صاحب دار العلوم دیوبند کے ممتاز فاضل ہونے کے ساتھ عربی ادب میں حضرت مولانا وحید الزمان کیرانوی ؒ، فقیہ الامت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور عظیم مفسر حضرت مولانا عارف صاحب سنبھلی ندوی ؒ سے خصوصی استفادہ کیا ہے ، جس کی وجہ سے انہیں بیک وقت تفسیر وتاریخ، فقہ وفتاوی اورعربی زبان وادب میں رسوخ حاصل ہے ، اردو بھی بہت شستہ لکھتے ہیں اور عربی زبان پر خوب درک ہے ، ان کے بہار آفرین قلم سے کئی کتابیں منظر عام پر آئیں ، اہل علم سے داد تحسین حاصل کیں۔اس کے علاوہ انہوںنے سلوک واحسان کی کی تعلیم عظیم مربی محی السنہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئی نور اللہ مرقدہ سے حاصل کی، بلکہ حضرت کے آخری بیرونی سفر بنگلہ دیش میں علماء ، طلبہ اور عوام کے درمیان ترجمانی کے فرائض بھی انجام دئے ،اب اس وقت وہ حضرت ہی کے جانشیں عارف باللہ حضرت حکیم کلیم اللہ صاحب دامت برکاتہم کے دامن سے وابستہ ہیں۔
فتنوں کا تعاقب امام مہدی پر کتاب کی تصنیف(امام مہدی شخصیت وحقیقت)
مفتی صاحب نے اولا جس وقت دار العلوم دیوبند میں افتاء کے طالب علم تھے ، تمرین افتاء کے دوران حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب رحمہ اللہ ، صدر مفتی دار العلوم دیوبند نے مفتی صاحب کو ایک استفتاء کے جواب کامکلف بنایا تھا، وہ خط جھانسی سے آیا تھا اور مرسل کا دعوی تھا کہ وہ ’’امام مہدی ‘‘ ہے؛ اس لئے تمام علماء دیوبند کو پہلی فرصت میں اس پر ایمان لاناچاہئے، تاکہ امت مسلمہ دوبارہ عروج واقبال کے جادے پر گامزن ہوجائے، چنانچہ اس وقت مفتی صاحب فتاوی نویسی کے عام طرز سے ہٹ کر عصری اسلوب میں اس کا مفصل جواب لکھا اور ہر ہر زاویہ سے بحث کر کے موصوف کو اس دعوے سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی ، لیکن مسلسل تحریری خط وکتابت اور فہمائش کے بعد وہ صاحب دعوی مہدویت سے دستبردار نہیں ہوئے تو مفتی صاحب کی تکذیبی گستاخیوں پر انہوں نے اللہ کے حضور مقدمہ چلانے کی دھمکی دی، یہ مراسلت کا سلسلہ کئی ماہ جاری رہا، اس طرح مفتی صاحب کو مہدویت اوراس موضوع سے خصوصی مناسبت ہوگئی، پھر مفتی صاحب نے اس موضوع پر مستقل کتاب تحریر کرنے کی ٹھانی ، جس میں امام مہدی کی شخصیت وحقیقت، منکرین مہدی کے دلائل کا تعاقب اوراس ضمن کے دوسرے ناقص تصورات پر بحث ہو، اس طرح مفتی صاحب کی مشہور زمانہ کتاب ’’امام مہدی شخصیت وحقیقت ‘‘ منظر عام پر آئی۔
امام مہدی شخصیت وحقیقت
یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے ، پہلے باب میں حضرات شیعہ، قادیانی امت، مہدوی گروہ، مولانا وحید الدین خان ، مولانا شمس نوید عثمانی اور مولانا سید ابو الاعلی مودودی کے تصورات مہدی پر بحث کرکے ان کی بنیادی غلطیوں کو واضح کیا گیا، اس لئے کہ تین طبقوں نے امام کو تجدید وخلافت کے منصب سے اٹھا کر نبوت والوہیت کے مقام تک پہنچا دیا، جب کہ آخری تین حضرات نے احادیث ورویات کا بالکل مطالعہ نہیں کیا اور مسئلے کو صرف اپنے ذوق اور مزاج سے حل کرنے کی سعی کی۔اس طرح پانچ ابواب میں ان فرق کا خوب تجزیہ کیا گیا، ہر دوفکر کے حامل لوگوں کو قرآن وحدیث اور اسلاف امت کی تحریروں کی روشنی میں خوب واضح انداز میں ان کی فکری کجی کو واضح کیا گیا۔
اس کتاب کو علمی حلقوںمیں خوب پذیرائی حاصل ہوئی، رسائل ومجلات نے اس کتاب پر عمدہ تبصرہ لکھے ، علماء نے قدر وتحسین کی نگاہ سے دیکھا، دینی حلقوں نے اسے خوب پڑھا، بلکہ ایک معروف ادیب نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اسلامی کتب خانہ اس موضوع پر ایسی جامع ومکمل کتاب سے خالی ہے ، اس لئے کہ باطل طاقتوں کے غلبہ کی بناء پر آج امت کا علمی معیار گھٹ چکا ہے ، اس لئے مہدی کی حقیقت، غلط تصورات کی تردید، منکرین کے موقف کاجائزہ اور ان کی علامات کو دور حاضر پر منطبق کرنے کی بہت زیادہ ضرورت تھی، گرچہ چیدہ تحریری اکابرین علماء دیوبند کی موجود تھی، جو مدلل بھی تھیں مفصل بھی، لیکن موضوع کا عصری طرز پر احاطہ اس کتاب نے کیا۔
شکیل بن حنیف کا تعاقب
پھر مفتی صاحب کو کچھ لوگوں نے شکیل بن حنیف کے فتنہ سے آگاہ کیا کہ ایک شخص ہے جو اپنے مہدی ہونے کا دعوی کررہا ہے ، جس کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہوچکی ہے ، وہ اس وقت دہلی میں مقیم پذیر ہے (جس وقت شکیل بن حنیف دہلی میں مقیم تھا) اس حوالے سے بروقت نوٹس لیں، اس کا تعاقب کریں، اس طرح مفتی صاحب نے امام مہدی کی بہت سی علامتوں میں سے پندرہ علامتوں کو منتخب کر کے شکیل کو ہر کسوٹی پر پرکھا، اور اس کی تمام تحریفات کا پردہ چاک کیا، جن کے ذریعہ وہ سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلا کر ، ان کو جھانسے میں لانے، فریب میں پھانس کر کفر کے دلدل میں ڈالنا چاہتا تھا ، اس کتاب کا نام ’’مہدی کذاب شکیل بن حنیف ‘‘ رکھا، جس میں صاف اور واضح طور پر احادیث کی روشنی میں یہ بتلایا کہ امام مہدی کی کوئی ایک علامت بھی اس شکیل کذاب پر فٹ نہیں ہوتی، اس کا دعوی سراسر کذب وجھوٹ اور فراڈ اور فریب پر مبنی ہے۔
پھر اس کے بعد مفتی صاحب یہ سونچ کر اس شخص کو زیادہ اہمیت دیں تو اس کا بے جار تعارف ہوجائے گا، کئی سال تک خاموشی اختیار کی، پھرمفتی صاحب کو مہاراشٹرا کے ایک غیرت مند مسلمان نے شکیل کی کتاب’’ مہدی علیہ السلام کی آمد کی پیشن گوئیاں‘‘ روانہ کی، جس میں اس نے صاف اور واضح طور پر اپنے شیطانی مشن کی تفصیلات درج کی تھیں ، پھر مفتی صاحب نے سخت نوٹس لیا، اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے ’’مہدیٔ کذاب شکیل بن حنیف‘‘ نامی رسالہ تحریر فرمایا،اس کتابی اور تحریر ی یلغار کے بعد دو تین سال تک وہ مکمل خاموش رہا، لیکن اس کتاب نے خوب پذیرائی حاصل کی، شکیل بن حنیف کی حقیقت کوکھول کر رکھ دیا، پھر شکیل کو احساس ہوا کہ یہ کتاب اس کے راہ کا روڑا اور سنگ گراں ثابت ہورہی ہے ، اس نے مقابلہ کا ارادہ کیا اور گالیوں کے زور پر کچھ بل دکھاتا رہا، لیکن مفتی صاحب نے اس کے ہفوات اور بکواس کی دھجیاں اڑا کر اور پے درپے حملوں کے ذریعے اسے سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیا، بلکہ مفتی صاحب نے اسے مناظر اور مباہلے کا چیلنج دے یا، لیکن وہ مقابلہ کیا کرتا ، بلکہ دریدہ دہنی پر اتار آکر مفتی صاحب کو ’’سفیانی‘‘ کا لقب دے دیا ، پھر اس طرح مفتی صاحب کی پانچویں قسط کے بعد ایسا خاموش ہوگیا کہ ۔پھر دوبارہ مقابلے کی جراء ت نہ کرسکا۔
اس طرح یہ پانچ کتابیں اور تحریریں منظر عام پر آئیں
۱۔ مہدی کذاب -شکیل بن حنیف
۲-شکیل کے اعتراضات کا علمی محاسبہ
۳-مناظرے سے انکار کے بعد شکیل کو مباہلے کا چیلنج
۴-مناظرہ سم فرار کے بعد سرعام مبابلے سے انکار – شکیل کی تیسری شکست
۵-مناظرہ سے انکار ، مبابلے سے فرار اور ذلت آمیز شکست کے بعد کشیل کی خانہ تلاشی ۔
یہ کتابیں نٹ پر دستیاب ہیں۔
اس طرح مفتی صاحب نے نہ صرف تحریری مقابلہ کیا، بلکہ دوسری طرف مختلف کی مختلف ریاستوں، بھیونڈی، ممبئی، حیدرآباد،نظام آباد اور انگول وغیرہ کا سفر کر کے ان اجلاس وکانفرس سے بھی خطاب کیا، مولانا ابرار الحق شاکر صاحب صدر حلقہ تحفظ ختم نبوت حلقہ بندلہ گوڑہ نے خود بتایا کہ میں نے متعدد دفعہ ممبی، گجرات جامعہ ڈابھیل، بہار پٹنہ امارت شرعیہ وغیرہ میں مفتی صاحب کی رفاقت اور معیت میں سفر کر کے اس فتنہ کے تعاقب کے لئے کام کیا ہے ، ملکی سطح پر کئی جگہوںپر اس فتنہ کے حوالہ سے خطابات اور شعور بیداری کا کام ہوا ہے ۔
اس فتنے کی کی صحیح واقفیت اوراس کے حقیقت کو واشگاف کرنے کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے ’’ ایک روزہ تفہیم ختم نبوت ورکشاب‘‘ حلقہ بنڈلہ گوڑہ کے نام سے جو ورکشاب منعقد کیا ہے ، مفتی صاحب اور ہمارے حیدرآباد کے دیگر اکابرین حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب ،مفتی جمال الدین صاحب قاسمی، مولانا ارشد صاحب قاسمی اور مولانا انصاراللہ صاحب قاسمی کے علاوہ حلقہ بندلہ گوڑہ کے ذمہ داران کے پرمغز خطابات اور ان کی موجودگی میں یہ ایک روزہ ورکشاب منعقد ہوگا، جس میں تمام ہی فتنوں سے آگاہی ہوگی، جن میں خصوصا ، مدعیان نبوت کا فتنہ، فتنہ قادیانیت، فتنہ گوہر شاہی، انجنیئر محمد علی مرزا ، فتنہ غامدیت ، فیاض بھیا کا فتہ، فتنہ شکیل بن حنیف اور دیگر ملحدانہ فتنوں کے سد باب کے حوالہ سے مفصل اور مکمل کلام کیا جائے گا، بڑے پیمانے پر شرکت کر کے مفتی صاحب کے تجربہ اور دیگر علماء کے فتنوں کے حوالہ سے مستند ومدلل گفتگو سے فائدہ اٹھا ئیں ، اس اجلاس میں شرکت کر کے اس اجلاس کو کامیاب بنائیں۔
Post Views: 29
Like this:
Like Loading...