Skip to content
اوقاف کا تحفظ ہماری شرعی، ملی اور سماجی ذمہ داری۔مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی .
مسجد طیبہ زکریا کالونی سعد پورہ مظفر پور کی افتتاحی تقریب سے بصیرت افروز خطاب .
مظفرپور 9/اگست (پریس ریلیز)
اوقاف ملت کا قیمتی اثاثہ ہے ،مساجد مزارات ،خانقاہیں،قبرستان،مدارس اسلامیہ وغیرہ اوقاف کی زمینوں پر قائم ہیں ،شریعت کا حکم ہے کہ ان کی آمدات کو واقف کی منشاء کے مطابق ہی خرچ کرنا ہے ،اس کے انتظامی امور کا سربراہ متولی ہوگا ،زبانی اور دستاویزی سبھی قسم کے اوقاف پر ہے شریعت کا یہ قانون نافذ ہوگا ،واقف کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے ،
کوئی بھی ان کاموں کے لیے اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد وقف کرسکتا ہے ان دنوں حکومت ہند کی بری نظر اوقاف پر ہے اور وہ پرانے وقف ایکٹ میں چوالیس ترمیم کرکے وقف کی مذہبی اور شرعی حیثیت کو ختم کرنا چاہتی ہے ،اس مقصد سے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جاچکا ہے اور حزب مخالف کی مخالفت کی وجہ کر جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے سپرد غور وخوض کے لیے کیا گیا ہے
ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی اور امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمّد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کیا ،وہ نو تعمیر شدہ مسجد طیبہ زکریا کالونی سعد پورہ مظفر پور کی افتتاحی تقریب سے جمعہ سے قبل خطاب فرمارہے تھے ،مفتی صاحب نے فرمایا کہ اوقاف کا تحفظ ہماری شرعی ،ملی اور سماجی ذمہ داری ہے ۔
مسلمانوں کو اس کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا جاہیے ۔مسلم پرسنل لا بورڈ کے قائدین تحفظ کی اس تحریک کو جس طرح آگے بڑھائیں ،ہمیں ہر قدم پر ان کا ساتھ دینا چاہیے مفتی صاحب نے فرمایا کہ مسجد کا نسبی اور مذہبی رشتہ کعبتہ اللہ سے ہے، نمازیوں کے واسطے سے کعبہ کی تجلیات اور انوار و برکات گاؤں اور محلہ کی مسجد تک پہنچتی ہیں ۔
اور نمازی ان برکات کو لے کر اپنے گھر جاتا ہے اس لئے مسجد سے رشتہ کو مضبوط کیجیے اور پنج وقتہ باجماعت نماز کا اہتمام کیجئے انہوں نے کہا کہ مسجد کو ایمانی دعوت ،اصلاحی تحریک وغیرہ کا مرکز بنایۓ اس سے مسجد کی طرف رجوع عام ہوگا ۔مفتی صاحب کے بیان کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوۓ تھے جن میں علماء اور حفاظ کی بھی کافی تعداد تھی ۔مفتی صاحب کی دعا پر اس افتتاحی تقریب کا جمعہ کی نماز کے بعد اختتام ہوا ۔
Like this:
Like Loading...