Skip to content
تکریمِ انسانیت
انسانیت کی عملی تفسیر
ازقلم: مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
09422724040
انسان کی عزت و توقیر کا تصور انسانی فطرت کا ایک بنیادی حصّہ ہے۔ ہر انسان کے اندر عزت کا ایک فطری تقاضا موجود ہوتا ہے، جو اس کی خود شناسی اور معاشرتی حیثیت کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ عزت کا یہ تقاضا انسان کے باطنی وقار کا ایک اظہار ہے، جو اسے اپنے اور دوسروں کے لئے احترام کرنے پر اکساتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا انسان کی عزت اور احترام کی تعلیم دی ہے، اور نبی کریمﷺ کے اخلاق و کردار میں یہ تعلیم اپنے اعلیٰ ترین درجے پر نظر آتی ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ کس طرح ہر شخص کو اس کے وقار اور عزت کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ آپﷺ کی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو انسانی وقار کو نمایاں کرتی ہیں۔
حدیث میں آپﷺ کے بارے میں کہا گیا ہے: ”کان اکرم الناس” یعنی ”آپﷺ سب سے زیادہ باوقار انسان تھے”۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے اندر انسانوں کی عزت کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا تھا۔ آپﷺ ہر کسی کے ساتھ نہایت احترام کے ساتھ پیش آتے تھے، چاہے وہ غریب ہو یا امیر، چھوٹا ہو یا بڑا، مسلم ہو یا غیر مسلم۔ رسول اللّٰہﷺ نے کبھی کسی کی تذلیل نہیں کی اور ہمیشہ لوگوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنے کی ترغیب دی۔ آپﷺ نے اپنے اصحاب کو بھی یہی تعلیم دی کہ وہ معاشرتی تعاملات میں ایک دوسرے کا احترام کریں اور کسی کی بھی بے عزتی سے گریز کریں۔ نبی کریمﷺ کا یہ طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک کامیاب اور خوشحال معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں افراد ایک دوسرے کے وقار کا احترام کرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کی زندگی میں ہمیں دوسروں کے ساتھ احترام اور رواداری برتنے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔
اس بات کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ انسانی وقار اور عزت اسلام کی بنیادوں میں شامل ہیں، اور نبی کریمﷺ کی سیرت اس بات کا بہترین نمونہ ہے کہ کس طرح انسانوں کو عزت و توقیر کے ساتھ جینا چاہیے۔ آپﷺ کی حیات طیبہﷺ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ کسی بھی فرد کو ذلیل کرنا یا اس کی تحقیر کرنا نہ صرف ایک اخلاقی خرابی ہے بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
تکریمِ انسانیت کا مطلب ہے انسانوں کی عزت اور احترام کرنا، ان کی بنیادی حقوق کا تحفّظ کرنا، اور ان کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنا۔ یہ تصور اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصّہ ہے، جس کا مقصد انسانی وقار کو برقرار رکھنا اور ہر فرد کو اس کے حقوق اور احترام کے ساتھ برتاؤ کرنا ہے۔ اس تصور کی جڑیں اسلامی تعلیمات، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں، اور اخلاقی و سماجی اقدار میں پائی جاتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں تکریمِ انسانیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ تکریمِ انسانیت ایک ایسی بنیاد ہے جس پر ایک پُرامن، انصاف پر مبنی اور متوازن معاشرہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا کو بہتر جگہ بنا سکتے ہیں جہاں ہر انسان عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
انسانیت کی عملی تفسیر میں درج ذیل پہلو اہم ہیں۔ ہر فرد کے ساتھ منصفانہ اور عادلانہ سلوک کرنا، چاہے وہ کسی بھی مذہب، قوم یا نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر انسان کی عزت و حرمت کو تسلیم کرنا اور اس کے حقوق کا خیال رکھنا، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔ اسلامی تعلیمات میں تمام انسانوں کو ایک ہی اصل سے پیدا کیا گیا ہے، لہذا سب کو برابر سمجھا جانا چاہیے اور ہر ایک کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کیا جانا چاہیے۔ انسانیت کی عملی تفسیر میں دوسروں کی مدد کرنا اور ان کی خدمت کو اہمیت دی گئی ہے۔ نبیٔ کریمﷺ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے جہاں انہوں نے اپنے عمل سے دوسروں کی خدمت کو فروغ دیا۔ معاشرت میں انسانیت کی تکریم اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ہم ایک دوسرے کے جذبات، خیالات اور اختلافات کا احترام کریں اور صبر و برداشت کا مظاہرہ کریں۔ انسانیت کی عملی تفسیر یہ ہے کہ ہر فرد اپنی زندگی میں ان اصولوں کو اپنائے اور ان پر عمل پیرا ہو تاکہ معاشرے میں امن و سکون اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔
قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک:
حضرت مصعب بن عمیرؓ کے بھائی حضرت عزیر بن عمیرؓ سے روایت ہے کہ میں جنگ بدر کے قیدیوں میں شامل تھا۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ میں انصار کے کچھ لوگوں کے پاس تھا۔ وہ جب صبح و شام کا کھانا نکالتے تھے تو خود کھجور کھاتے اور مجھے چپاتی کھلاتے۔ (طبرانی)۔ یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ہدایت دی تھی اور انصار صحابۂ نے اس کی عملی مثال قائم کی۔
میدان جہاد میں تکریم انسانیت کا بہترین نمونہ:
رسول اللّٰہﷺ جب کسی بڑے لشکر یا چھوٹے دستے پر کسی کو امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللّٰہ سے ڈرنے کی اور ان تمام مسلمانوں کے بارے میں، جو اس کے ساتھ ہیں، بھلائی کی تلقین کرتے، پھر فرماتے: ”اللّٰہ کے نام سے اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرو، جو اللّٰہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہیں ان سے لڑو، نہ خیانت کرو، نہ بد عہدی کرو، نہ مثلہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو اور جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے ٹکراؤ تو انہیں تین باتوں کی طرف بلاؤ، ان میں سے جسے وہ تسلیم کر لیں، (اسی کو) ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان (پر حملے) سے رک جاؤ، انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ مان لیں تو اسے ان (کی طرف) سے قبول کر لو اور (جنگ سے) رک جاؤ، پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آجانے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمّہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر انکار کریں تو انہیں بتاؤ کہ پھر وہ بادیہ نشیں مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللّٰہ کا وہی حکم نافذ ہوگا جو مومنوں پر نافذ ہوتا ہے اور غنیمت اور فے میں سے ان کے لیے کچھ نہ ہو گا مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ اگر وہ انکار کریں تو ان سے جزیے کا مطالبہ کرو، اگر وہ تسلیم کر لیں تو ان کی طرف سے قبول کر لو اور رک جاؤ اور اگر وہ انکار کریں تو اللّٰہ سے مدد مانگو اور ان سے لڑو اور جب تم کسی قلعے (میں رہنے) والوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللّٰہ اور اس کے نبی کا عہد و پیمان عطا کرو تو انہیں اللّٰہ اور اس کے نبی کا عہد و پیمان نہ دو بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے عہد و امان دو، کیونکہ یہ بات کہ تم لوگ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کر بیٹھو، اس کی نسبت ہلکی ہے کہ تم اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کا عہد و پیمان توڑ دو۔ اور جب تم قلعہ بند لوگوں کا محاصرہ کرو اور وہ تم سے چاہیں کہ تم انہیں اللّٰہ کے حکم پر (قلعے سے) نیچے اترنے دو تو انہیں اللّٰہ کے حکم پر نیچے نہ اترنے دو بلکہ اپنے حکم پر انہیں نیچے اتارو کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم ان کے بارے میں اللّٰہ کے صحیح حکم پر پہنچ پاتے ہو یا نہیں”۔ (صحیح مسلم: 1731)
اس روایت کے مطابق رسول اللّٰہﷺ نے لشکر اور امیر لشکر کو جنگ کی مکمل حکمت عملی بتلائی ہے جس میں اہل علاقہ کو اختیارات بھی دیئے گئے ہیں اور ان کو کسی بھی ایک کام یا اختیار پر مجبور کرنے کی بجائے با آسانی ان سے ان کی مرضی کے مطابق قبول کرنے کا حکم بھی دیا ہے ان کو عہد و پیمان کے مطابق امان دینے کے احکامات بھی جاری فرمائے ہیں جو کہ اسلام کا خاصہ ہیں اور یہ تکریمِ انسانیت کا عمدہ ترین درس ہے۔
قرآن و سنّت اور فقہاء میں احترام انسانیت کے اصول تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، جن کی روشنی میں اسلامی معاشرتی نظام قائم کیا گیا ہے۔ یہ اصول انسانیت کی عزت، حقوق اور فرائض پر مبنی ہیں۔ رحم دلی کے اصول یہ بیان کئے گئے ہیں کہ ”اللّٰہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا” (صحیح بخاری)۔ ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح بخاری)۔
انسانیت کی تکریم اسلامی تعلیمات میں ایک بنیادی اصول ہے، جسے اسلامی تعلیمات میں بڑے زور و شور سے بیان کیا گیا ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر میں اس کی تفصیلات ذرا مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن بنیادی اصول عموماً ایک جیسے ہیں:
اسلام میں انسانی جان کی حرمت کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن میں قتل ناحق کی مذمت کی گئی ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے، ”جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بغیر قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا” (سورۃ المائدہ: 32)۔
حقوق العباد:
انسانوں کے حقوق کی حفاظت اسلام کا اہم اصول ہے۔ اسلام میں حقوق العباد (انسانوں کے حقوق) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ یہ حقوق انسانی جان، مال، عزت، اور آزادی کی حفاظت پر مبنی ہوتے ہیں۔ فقہاء نے ان حقوق کی تفصیلات بیان کی ہیں اور ان کی پامالی پر مختلف سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ معاشرے میں انصاف اور عدل کو برقرار رکھا جا سکے۔
کسی کی جان لینے کی ممانعت ہے اور قتل کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی کا مال ناجائز طریقے سے لینا حرام ہے، چوری، دھوکہ دہی، اور فراڈ کے لئے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ کسی کی عزت و ناموس کو نقصان پہنچانا یا بدنام کرنا ممنوع ہے، اور اس کے لئے شرعی حدود مقرر ہیں۔ ہر انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی آزادی کو چھیننا یا اسے غلام بنانا جائز نہیں ہے۔ اسلام نے ان حقوق کے تحفّظ کے لئے مختلف قوانین اور سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ معاشرے میں امن و امان اور بھائی چارہ قائم رہے۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق، ان حقوق کی حفاظت اور ان کا احترام کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
تعاون و ہمدردی:
اسلامی اصولوں کے مطابق، تعاون و ہمدردی معاشرتی زندگی کا اہم جز ہیں، اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کرے اور ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے۔ قرآن اور حدیث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رحم دلی اور تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
قرآن میں تعاون اور ہمدردی کی کئی مقامات پر تعلیمات سے روشناس کرایا گیا ہے۔ سورۃ المائدہ آیت نمبر 2 میں فرمایا گیا: ”اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں مدد نہ کرو”۔ سورۃ الحجرات نمبر 10 میں کہا گیا کہ: ”مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہذا اپنے دو بھائیوں میں صلح کراؤ اور اللّٰہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے”۔
تعاون اور ہمدردی کے بارے میں پیغمبر محمدﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے”۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ”مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے، اللّٰہ اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔” (صحیح بخاری)۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: ”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا” (صحیح بخاری)۔
تعاون اور ہمدردی کے ذریعے معاشرے میں استحکام اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے مسلمانوں کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا انسان کی روحانی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ دوسروں کی مدد اور ہمدردی اللّٰہ کی رضا کا باعث بنتی ہے اور اس کے اجر کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ اصول نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اسلامی معاشرت کی خوبصورتی اور مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔
عدل و انصاف:
اسلام ہر انسان کے ساتھ عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کرنا اور ہر انسان کو اس کے حقوق دینا تکریم انسانیت کا حصّہ ہے۔ انسانیت کی تکریم کے تحت عدل و انصاف قائم کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اسلامی نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے، یہ اسلامی نظام کا بنیادی ستون ہے۔ اسلام میں عدل و انصاف کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن اور سنّت میں عدل کی تاکید کی گئی ہے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی کی مذمت کی گئی ہے۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ ”بے شک اللّٰہ تعالیٰ عدل کا اور احسان کا اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے” (سورۃ النحل: 90)۔ قرآن کریم میں عدل کی تاکید کے ضمن سورۃ النساء آیت نمبر 135 میں فرمایا گیا ہے کہ: ”اے ایمان والو! عدل کے علمبردار بنو اور اللّٰہ کے لئے گواہی دو خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو”۔ سورۃ المائدہ آیت نمبر 8 حکم دیا گیا کہ: ”اے ایمان والو! اللّٰہ کے لیے قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے”۔
حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کے درمیان عدل کرتا ہے وہ اللّٰہ اور اس کے رسول کے نزدیک بہت محبوب ہے”۔ اسلام نے انصاف کی فراہمی کو ہر شخص کا حق قرار دیا ہے۔ کسی بھی معاملے میں انصاف کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسلام نے معاشرتی عدل پر زور دیا ہے تاکہ معاشرے میں امن و امان قائم رہے اور ہر شخص کو اس کے حقوق مل سکیں۔ ظلم اور ناانصافی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور ظالموں کو سخت سزا کی دھمکی دی گئی ہے۔ ظلم کی ممانعت میں قرآن کہتا ہے، ”ظلم نہ کرو، بے شک اللّٰہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا” (سورہ البقرہ: آیت 190)۔
یہ اصول اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اسلام میں عدل و انصاف کی بنیاد پر ایک پُرامن اور متوازن معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں ہر شخص کے حقوق کا تحفّظ ہو اور کسی بھی قسم کی ناانصافی یا ظلم کی گنجائش نہ ہو۔
احترام انسانیت:
احترام انسانیت بھی اسلامی تعلیمات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اسلام نے اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی قوانین وضع کیے ہیں جو معاشرتی انصاف اور اخلاقی برتری کو فروغ دیتے ہیں۔ مثلاً غیر مسلموں کے حقوق، یتیموں اور مسکینوں کی مدد، اور عمومی اخلاقیات۔
اسلام نے غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔ ان کے جان، مال اور عزت کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمّہ داری ہے۔ قرآن اور حدیث میں یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو” (سورہ الانعام: 152)۔ ان کی کفالت اور دیکھ بھال کو مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے عمومی اخلاقیات، جیسے سچ بولنا، امانت داری، انصاف اور رحم دلی کو معاشرتی زندگی کا حصّہ بنایا ہے۔ یہ تمام قوانین اور اصول اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسلام احترام انسانیت کو بہت اہمیت دیتا ہے اور معاشرتی عدل و انصاف کو فروغ دیتا ہے۔
حقوق نسواں:
اسلام میں عورتوں کے حقوق کی بھی بڑی تاکید ہے۔ نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر معاملات میں عورتوں کے حقوق کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اسلام میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں عورت کی رضامندی لازمی ہے۔ کسی بھی قسم کا زور زبردستی قابل قبول نہیں ہے۔ عورت کو مہر کا حق دیا گیا ہے جو نکاح کا لازمی حصّہ ہے۔ اسلام میں طلاق کے قوانین واضح ہیں۔ عورت کو خلع کا حق دیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ نکاح کو ختم کر سکتی ہے اگر وہ اس نکاح سے خوش نہ ہو۔
خواتین کے احترام میں فرمایا گیا: ”تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہیں، اور میں تم سب میں اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہوں” (سنن ترمذی)۔ اسلام میں وراثت کے قوانین میں عورت کو حصّے داری دی گئی ہے۔ والدین، شوہر، اور بچوں کی وراثت میں عورت کا حق محفوظ ہے۔ اسلام نے عورتوں کی تعلیم کو بھی اہمیت دی ہے۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا کہ ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”۔ اسلام نے عورت کو کام کرنے اور معاشی طور پر خودمختار ہونے کا حق دیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ اس کی بہترین مثال ہیں، جو تجارت کیا کرتی تھیں۔ یہ تمام حقوق عورت کی عزت، وقار اور حقوق کی حفاظت کے لیے ہیں اور اسلامی معاشرتی نظام میں عورت کو بلند مقام عطا کرتے ہیں۔
احترامِ نفس:
قرآن اور حدیث میں احترام نفس اور ہر انسان کی عزت و احترام کا حکم دیا گیا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ اس اصول کی بنیاد اسلامی اخلاقیات کا بنیادی جز ہے۔ اسلامی تعلیمات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی انسان کو ظلم و زیادتی کا نشانہ نہ بنایا جائے اور ہر شخص کی عزت، حقوق اور وقار کا احترام کیا جائے۔ یہ اصول معاشرتی انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد ہے، جس کے ذریعے ایک مثالی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔
سورۃ الاسراء کی آیت 70 میں اللّٰہ تعالی فرماتے ہیں: ”اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی”۔ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ تمام انسانوں کو عزت بخشی گئی ہے، بغیر کسی تفریق کے۔ ایک دوسرے کی عزت کے سلسلے میں قرآن مجید میں دوسری جگہ فرمایا گیا کہ: ”اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے، شاید وہ ان سے بہتر ہوں” (سورۃ الحجرات:11)۔ اس کے علاؤہ، احادیث میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر انسان کی عزت اور حقوق کا احترام کیا جائے۔ حضرت محمدﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں”۔
حقوقِ انسانی:
اسلامی احکامات میں انسانی حقوق کا احترام اور ان کی حفاظت بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ زندگی، آزادی، اور عزت کی حفاظت کو اسلامی تعلیمات میں اہمیت دی گئی ہے، اور کسی بھی انسان کے ساتھ ظلم یا زیادتی کرنا سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں یہ اصول بنیادی ہیں اور ان کا مقصد ایک پُرامن، منصفانہ اور انسانی وقار کی حفاظت پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ہے۔
زندگی کے حق کے متعلق قرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ”جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی، اس نے پوری انسانیت کو بچایا” (سورۃ المائدہ 5:32)۔ آزادی کے حق میں اسلام نے ہر انسان کی آزادی کا احترام کیا ہے۔ کسی کو غیر قانونی طور پر قید کرنا، غلام بنانا، یا اس کی آزادی سلب کرنا منع ہے۔ قرآن اور حدیث میں بارہا اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ہر انسان کی عزت و وقار کا احترام کیا جائے۔ سورۃ الحجرات آیت نمبر 11 میں فرمایا گیا ہے، ”اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں”۔
مساوات:
قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام انسان ایک ہی جوڑے سے پیدا کیے گئے ہیں، اور ان میں کسی کی بھی نسل، رنگ یا زبان کی بنیاد پر برتری نہیں ہے (سورۃ الحجرات: 13)۔ اسلام میں تمام انسانوں کو برابر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اور کسی بھی قسم کی نسلی یا طبقاتی تفریق کو مسترد کیا گیا ہے۔ اسلام میں مساوات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن اور سنّت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تمام انسان اللّٰہ کے نزدیک برابر ہیں اور کسی بھی قسم کی نسلی یا طبقاتی تفریق کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ اصول نبی اکرمﷺ کے آخری خطبہ حج یعنی خطبہ حجۃ الوداع میں بھی بیان کیا گیا تھا، جہاں فرمایا گیا تھا کہ ”تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو عربی پر برتری ہے، مگر تقویٰ کے ذریعے” (صحیح بخاری)۔
یہ اصول اسلامی تعلیمات میں انسانیت کی قدر و قیمت اور اس کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، اور ان کی روشنی میں اسلامی معاشرت میں انسانوں کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کو فروغ دیا جاتا ہے۔
انسانیت کی تکریم کے فقہی اور قانونی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے مختلف زاویوں سے غور کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی فقہ اور بین الاقوامی قانون دونوں ہی انسانیت کی عزت و تکریم کو بنیادی اصولوں میں شمار کرتے ہیں۔
قانونی پہلو
بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدے:
انسانی حقوق کے تحفّظ کے لیے مختلف بین الاقوامی معاہدے موجود ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (1948ء) شامل ہے۔ یہ معاہدے تمام انسانوں کی مساوات، آزادی اور بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدے انسانیت کی تکریم اور حقوق کی حفاظت کے لیے اہم ستون ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کی بنیادی آزادیوں اور حقوق کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ ان معاہدوں میں سب سے نمایاں اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (1948ء) ہے۔
یہ اعلامیہ 10؍ دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا۔ یہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفّظ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اعلامیے میں کل 30؍ آرٹیکلز شامل ہیں جو ہر انسان کی آزادی، مساوات اور وقار کی ضمانت دیتے ہیں۔
ہر انسان کو زندہ رہنے اور اپنی زندگی کو محفوظ بنانے کا حق حاصل ہے۔ تمام انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں اور ان کو برابر کا حق اور وقار حاصل ہے۔ ہر شخص کو قانونی طور پر محفوظ کیا جانا چاہیے اور اس کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر انسان کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی اور اس کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔
دیگر اہم معاہدے:
بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری اور سیاسی حقوق (1966ء)، اس معاہدے کا مقصد شہریوں کے حقوق اور سیاسی آزادیوں کی حفاظت کرنا ہے، جیسے کہ ووٹنگ کا حق، آزادیٔ مذہب، اور انصاف تک رسائی۔ بین الاقوامی عہدنامہ برائے معاشی، سماجی، اور ثقافتی حقوق (1966ء)، یہ معاہدہ معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی حفاظت کرتا ہے، جیسے کہ ملازمت کا حق، معقول تنخواہ، صحت، اور تعلیم۔ نسلی امتیاز کے خاتمے کا بین الاقوامی معاہدہ (1965ء)، یہ معاہدہ نسلی امتیاز کے خاتمے اور مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے کا کنونشن (1979ء)، یہ معاہدہ خواتین کے حقوق کی حفاظت اور ان کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے ہے۔ بچّوں کے حقوق کا کنونشن (1989ء)، اس معاہدے کا مقصد بچّوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ ان معاہدوں کا مقصد عالمی سطح پر انسانیت کی تکریم اور احترام کو فروغ دینا ہے تاکہ ہر انسان اپنے حقوق اور آزادیوں کے ساتھ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
آئینی حقوق:
مختلف ممالک کے آئین میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، جیسے کہ آزادی اظہار، مذہب کی آزادی، اور مساوی حقوق۔ آئینی حقوق کسی بھی ملک کے شہریوں کے لئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جو آئین کے ذریعے ریاست کی طرف سے شہریوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔ آئین میں دی گئی ان ضمانتوں کا مقصد شہریوں کو ظلم و ستم، ناانصافی اور استحصال سے محفوظ رکھنا ہے۔
اکثر ممالک کے آئین میں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی دی جاتی ہے۔ یہ حق انہیں اپنی رائے، خیالات اور نظریات کو آزادانہ طور پر پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے، خواہ وہ زبانی ہو، تحریری ہو یا پھر میڈیا کے ذریعے۔ مختلف ممالک کے آئین میں مذہبی آزادی کا حق بھی دیا جاتا ہے، جس کے تحت ہر شہری کو اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ اس حق کے ذریعے مذہبی اقلیتوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ آئین میں عام طور پر تمام شہریوں کو مساوی حقوق دینے کی ضمانت دی جاتی ہے، جن میں قانون کے سامنے مساوات، جنس، نسل، مذہب یا زبان کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہ کرنے کا اصول شامل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد معاشرے میں انصاف اور برابری کو فروغ دینا ہے۔
یہ آئینی حقوق اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شہری کو معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی زندگی میں برابری کا حق حاصل ہو، اور انہیں کسی بھی قسم کے ظلم یا ناانصافی کا شکار نہ ہونا پڑے۔ ان حقوق کی پاسداری اور ان کا تحفّظ ریاست کی ذمّہ داری ہوتی ہے۔
انسداد تشدّد قوانین:
انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے تشدّد کے خلاف قوانین موجود ہیں، جن کا مقصد لوگوں کو جسمانی اور ذہنی تشدّد سے بچانا ہے۔ انسداد تشدّد قوانین کا مقصد معاشرے میں انسانی حقوق کی حفاظت اور ہر فرد کو جسمانی و ذہنی تشدّد سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ قوانین ریاستوں کے قانونی نظام میں ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں اور مختلف شکلوں میں پائے جاتے ہیں، جیسے کہ گھریلو تشدّد، جسمانی تشدّد، ذہنی تشدّد، اور جنسی تشدّد کے خلاف قوانین۔
یہ قوانین خاندان کے افراد کو آپس میں جسمانی یا ذہنی تشدّد سے بچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ مختلف ممالک میں گھریلو تشدّد کے شکار افراد، بالخصوص خواتین اور بچّوں، کے تحفّظ کے لیے خصوصی قوانین موجود ہیں۔ ان قوانین کے تحت متاثرین کو قانونی تحفّظ، مالی امداد اور سماجی حمایت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ قوانین کسی بھی شخص کے جسمانی استحصال کو روکنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت کسی بھی فرد پر غیر قانونی طریقے سے تشدّد کرنا یا اس کے جسم کو نقصان پہنچانا جرم تصور کیا جاتا ہے، اور مجرم کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ذہنی تشدّد، جیسے کہ دھمکیاں دینا، زبانی بدسلوکی کرنا، یا ذہنی دباؤ ڈالنا، کے خلاف بھی قوانین موجود ہیں۔ یہ قوانین افراد کو ذہنی استحصال سے محفوظ رکھتے ہیں اور اس قسم کے تشدّد کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کرتے ہیں۔ جنسی تشدّد کے خلاف قوانین کا مقصد افراد کو جنسی استحصال سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ قوانین ریپ، جنسی ہراسانی، اور دیگر جنسی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ انسداد تشدّد قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معاشرے میں ہر فرد کو تشدد اور ظلم سے محفوظ رہنے کا حق حاصل ہو، اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ اس طرح کے قوانین انسانی حقوق کی حفاظت اور انصاف کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
معاشرتی انصاف:
قانونی نظام میں معاشرتی انصاف کا تصور موجود ہے، جو معاشرے کے تمام افراد کو مساوی حقوق فراہم کرنے پر مبنی ہے۔
مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حقوق:
بین الاقوامی قوانین میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حقوق کی بھی وضاحت کی گئی ہے، تاکہ انہیں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انسانیت کی تکریم کے اسلامی اور قانونی پہلوؤں میں یہ اصول مشترک ہیں کہ ہر انسان کو بلا تفریق مذہب، نسل یا جنس کے، عزت و احترام اور بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اسلامی فقہ اور بین الاقوامی قانون دونوں ہی انسانیت کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کے لیے مختلف قوانین اور اصول وضع کرتے ہیں۔
قرآن و سنّت میں احترام انسانیت کے اصول نہایت جامع اور واضح ہیں۔ یہ اصول ہر انسان کی عزت و کرامت، عدل و انصاف، مہربانی، اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں انسانی حقوق کی حفاظت، مساوات، اور رحم دلی کی تاکید کی گئی ہے، جو ایک مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔
انسانی حقوق کی پامالی کے دور رس متعدد منفی اثرات ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی کے نتیجے میں معاشرتی تناؤ اور تصادم بڑھتے ہیں، جو سماجی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ حقوق کی خلاف ورزی مختلف گروپوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا کرتی ہے، جو معاشرتی تقسیم کا سبب بنتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسانوں کی بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی، جیسے صحت کی سہولتیں، ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی قانونی نظام کے مؤثر ہونے کو متاثر کرتی ہے، اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بین الاقوامی سطح پر تنقید اور پابندیاں لگ سکتی ہیں، جو ملک کی بین الاقوامی شہرت کو متاثر کرتی ہیں۔ انسانی حقوق کی حفاظت اور فروغ نہ صرف فرد کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے، بلکہ پورے سماج کی ترقی اور استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی سماجی بگاڑ اور عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ جب افراد یا گروہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرتی نظام سے مایوس ہو جاتے ہیں اور بغاوت کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی معاشی ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ جب افراد کو کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے، اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے، تو معیشت کی مجموعی پیداوار میں کمی آتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی افراد کی نفسیاتی حالت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ خوف، تناؤ، افسردگی، اور دیگر ذہنی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔
جب انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون کی بالادستی کمزور ہو چکی ہے۔ اس سے معاشرت میں انصاف کا نظام بگڑ جاتا ہے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی سے ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کا ردعمل اکثر سخت ہوتا ہے، جس سے سفارتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی سے ثقافتی اور سماجی اقدار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لوگوں کی شناخت، زبان، اور روایات خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ ان اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ہمیں ہر شخص کے ساتھ بھلائی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جو کمزور اور ناتوان ہیں۔ اپنے ماتحتوں اور ملازموں کے ساتھ مساوات اور انصاف برتیں، اور انہیں وہی حقوق دیں جو آپ اپنے لئے چاہتے ہیں۔ آپﷺ نے اپنے صحابۂ کرامؓ کو غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی اور انہیں یاد دلایا کہ یہ بھی انسان ہیں اور اللّٰہ کی مخلوق ہیں۔ جن لوگوں کو مشکل کام کرنا پڑتا ہے، ان کی مدد کریں اور ان کے کام میں تعاون کریں تاکہ ان پر بوجھ کم ہو۔ یہ تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے رویے میں انصاف، محبت، اور احترام کو فروغ دیں تاکہ ایک پُرامن اور خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔
مندرجہ بالا اقتباس انسانی اقدار اور اخلاقیات کی بقاء کے لئے نبی کریمﷺ کے پیغام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور موجودہ دور کی مادی اور غیر انسانی تہذیب کے خلاف ایک تنبیہ ہے۔
(09.08.2024)
مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،
تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔
masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...