Skip to content
وقف ترمیمی بل : اب ا ٓیا اونٹ پہاڑ کے نیچے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مودی اور شاہ کے لاکھ نوٹنکی کے باوجود بالآخر وقف بل میں ترمیم کے معاملے میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ مضبوط نہیں مجبور سرکار ہے اور یہ ’اونٹ اب پہاڑ کے نیچے ‘ آہی گیا ہے۔ عام طور پر اونٹ کو مسلمان جانور اور سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بی جے پی کا زعفرانی اونٹ تھا جو وقف بورڈ کے کھیت میں منہ مارنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا مگر اس کو منہ کی کھانی پڑی۔ مسلم پہاڑ کے نیچے آ نے کے بعد اسے پتہ چلا کہ وہ کس قدر بونہ ہے ۔اب وہ دن ہوا ہوگئے کہ جب ایوان پارلیمان میں خود حزب اقتدار ہنگامہ کھڑا کیا کرتا تھا اور پھر حزب اختلاف کو معطل کرکے اپنی من مانی کی جاتی تھی۔ فوجداری جیسے اہم قوانین میں ترمیم کے وقت 150؍ ارکان پارلیمان معطل تھے۔ اس کے باوجود بغیر کسی بحث و مباحثے کے قانون منظور ہوگیا لیکن اس بار ٹی ڈی پی کے صرف اتنا کہنے پر کہ اسے جے پی سی میں بھیجنے پر اسے اعتراض نہیں ہوگا متنازع بل ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔حکومت اگر چاہتی تو اسے پارلیمنٹ کی سیلیکٹ کمیٹی میں بھیج سکتی تھی جہاں ممکن ہے حزب اختلاف کے لوگ موجود ہی نہ ہوتے مگر ٹی ڈی پی نے بڑی ہوشیاری سے اسے جے پی سی میں بھجوادیا جہاں اس کے موقف کی حمایت کرنے والے حزب اختلاف کے ارکان بھی موجود ہوں گے ۔ اس طرح گویا جے پی سی کے اندر ٹی ڈی پی اور متحدہ حزب اختلاف ایک ساتھ بی جے پی کے سینے پر بیٹھ کر ٹی ڈی پی مونگ دلیں گے ۔
بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے اس سے پہلے کئی قوانین میں ترمیمات کو واپس لیا ہے مثلاً کسانوں کی زمیینوں سے متعلق قانونن میں ترمیمات پر اسے دس سال قبل پیچھے ہٹنا پڑا تھا ۔ آگے چل کر کسانوں کے متعلق قانون بھی واپس لیا گیا۔ ابھی بجٹ کے اندر جائیدادوں پر ٹیکس کے حوالے سے جو قانونی ترمیمات کی گئیں تھیں انہیں واپس لیا گیا مگر مسلمانوں کے بارے میں یہ اکڑ جاتے تھے ۔ اس بار ایک مسلم قانون کی بابت ان کو چاروں خانے چت ہونا پڑا۔ وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کے لیے وقف (ترمیمی) بل 2024 لوک سبھا میں اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے پیش کیامگر سماج وادی پارٹی، کانگریس اور ایم آئی ایم نے پارلیمنٹ میں وقف بل کی جم کر مخالفت کی ۔ اس موقع پر غیر متوقع طور پر جے ڈی یو نے اس بل کی مکمل حمایت کی مگر چراغ پاسوان کی ایک جے پی مخالفت پر اتر آئی کیونکہ انہوں نے ہر طور جے ڈی یو کی مخالفت میں کمر کس رکھی ہے ۔ جے ڈی یو اگر بل کی مخالفت کردیتی تو بعید نہیں کہ چراغ پاسوان حمایت میں آجاتے اس لیے ان کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا لیکن جب ٹی ڈی پی نے حمایت کرنے سے انکار کیا تو بی جے پی کے ہوش ٹھکانے آئے ۔ کمل مرجھا یا اور اس ترمیم کوجے پی سی کے حوالے کرنا پڑا۔
اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو کے مطابق وقف ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں ‘مسلمانوں اور غیر مسلموں کی نمائندگی’ کو یقینی بنائے گا۔ سوال یہ ہے مرکزی وزارت میں اور سرکاری ملازمتوں کے اندر غیرمسلمین کے ساتھ مسلمانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کا کام کب ہوگا ؟ اس بل میں ایک مرکزی پورٹل اور ڈیٹا بیس کے ذریعے وقف املاک کی رجسٹریشن اور کسی بھی جائیداد کو وقف جائیداد کے طور پر رجسٹر کرنے سے پہلے تمام متعلقہ افراد کو مناسب نوٹس کے ساتھ ریونیو قوانین کے مطابق میوٹیشن کے لیے تفصیلی طریقہ کار کی فراہمی کی تجویز ہے۔ اس کا مقصدظاہر ہے وقف کرنے والوں کے گھر پر ای ڈی کا چھاپہ مار کر انہیں روکنا ہوگا ۔ اس کے باوجود کرن رجیجو کا مضحکہ خیز دعویٰ ہےکہ مرکزی حکومت کی نیت صاف ہے۔
کرن رجیجو جب یہ کہتے ہیں کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے پسماندہ اور غریب طبقات کو انصاف فراہم کرنے کی خاطرہے تو یہ اعتراف بھی ہوجاتا ہے کہ ناانصافی ہو رہی ہے سوال یہ ہے ظلم کون کررہا ہے؟ اس بل کو پیش کرتے ہوئے رجیجو کو سچر کمیٹی کی مختلف سفارشات یاد آگئیں لیکن اس میں وقف کا ذکر موجود ہی نہیں ہے اور سچر کمیٹی کے بعد رنگناتھ کمیشن نے اصلاح حال کے لیے جو سفارشات پیش کیں انہیں تو موجودہ حکومت نے پوری طرح بھلا رکھا ہے۔ کرن رجیجو وقف بورڈ کے کام میں خامیوں کا افسوس ہے مگر ایسی بڑی خامیاں توہر سرکاری شعبے میں ہے ۔ الیکٹورل بانڈ کے معاملے میں رازداری کی کھل کر حما یت کرنے والی حکومت وقف بورڈ میں شفافیت کی بات کرے تو ہنسی آتی ہے۔ مسلم خواتین اور او بی سی کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے والوں نے راجیہ سبھا سے کسی خاتون رکن پارلیمان کو جے پی سی میں نامزد کرنے سے گریز کرکے اپنی منافقت خود ظاہر کردی ۔سابق وزیر قانون رجیجو کو افسوس ہے کہ وقف بورڈ سے متعلق 12 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ ملک بھر کی عدالتوں میں 5.1 کروڑ مقدمات فیصلے کے منتظر ہیں اور ان میں 30 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا مقدمات کی تعداد180,000 سے زیادہ ہے۔
وقف ترمیمی بل پر بحث کے اختتام پر کرن رجیجو نے دعویٰ کیا کہ مذہبی اداروں کی آزادی میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ کسی کے حقوق چھیننے کی بات بھول جائیں، یہ بل ان لوگوں کو حقوق دینے کے لیے لایا گیا ہے جنہیں محروم کیا گیا تھا ۔ اس کے برعکس ڈی ایم کے کی رکن پارلیمنٹ کنیموزی نے اس بل کو نہ صرف آئین کے خلاف بلکہ وفاقیت اور مذہبی اقلیتوں کے بھی خلاف بتایا ۔کانگریس کے عمران مسعود نے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعہ آئین کی دھجیاں اڑانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وقف بورڈ ہی سبھی مساجد کا انتظام دیکھتا ہے، اس کے پاس ملک میں آٹھ لاکھ ایکڑ کی جائیداد ہے۔ کوشش تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ وقف کی زمینوں کو قبضہ سے آزاد کرانے کے لیےا قدام کیا جائے مگر الٹا ہورہا ہے ۔این سی پی کی سپریا سولےنےبل ایوان سے پہلے میڈیامیں لیک ہونے پر افسو س کیا مگر جہاں مندر سے لے کر ایوان تک میں پانی لیک ہوجاتا ہوتو جس بل کا مقصد ہی ہندو انتہا پسندوں کو خوش کرنا ہے وہ میڈیا میں نہیں تو کہاں جائے؟
ایم آئی ایم کے بیرسٹراسد الدین اویسی نے اس بل کو آئین کی بنیادی روح پر حملہ قرار دیا ۔ انہوں نے بتایا ہندو تو پوری جائیداد اپنے بیٹے یا بیٹی کے نام کر سکتے ہیں لیکن ہم صرف ایک تہائی دے سکتے ہیں۔ اگر ہندو تنظیموں اور گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی میں دوسرے مذاہب کے لوگ شامل نہیں ہیں تو وقف میں کیوں؟ یہ بل ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق کرتا ہے۔ وقف جائیداد عوامی ملکیت نہیں ہے۔ یہ حکومت درگاہ اور دیگر جائیدادیں لینا چاہتی ہے۔ حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے انہوں نے مسلم خواتین کی مدد کے دعویٰ پر بلقیس بانو اور ذکیہ جعفری کی یاد دلائی اور الزام لگایا کہ یہ ملک کو تقسیم کر رنے والی مسلمان دشمن سرکارہے ۔حزب اختلاف کی طرف سے اس بل کی متحدہ اور کھل کر مخالفت پیغام دے رہی ہے کہ مسلمانوں کی بات کرنے پر ہندو رائے دہندگان ناراضی کا اندیشہ بہت حد تک دور ہوچکا ہے۔ حق کی آواز کو دبانے کے لیے اب سیاسی مفادات آڑے نہیں آئیں گے کیونکہ خود ایودھیا کے اندر بی جے پی کی ہار چکی ہے۔ ویسے یہ تو بس انگڑائی ہے آگے اور لڑائی ہے ۔
شاہ جی کا کہنا ہے کہ یہ وقف کا قانون عملاً ساقط ہوچکا ہے وہ تو صرف کاغذ صاف کررہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سرکار ہے یا صفائی کامگار ؟ اور جو شئے ختم ہوچکی ہے اس میں آخر ترمیم کی کیا ضرورت؟ دراصل یہ ضرورت سیاسی ہے۔ اس بار سرکار صدارتی خطاب میں ڈر کے مارے یونیفارم سیول کوڈ اور ون نیشن ون الیکشن کا شوشہ تو نہیں لا سکی ، اب ہندووں کو بیوقوف بناکر عنقریب منعقد ہونے والے تین ریاستوں کا انتخاب جیتنے کے لیے کوئی کوئی مسلم دشمنی کی حرکت لازمی تھی سو وقف میں ترمیم کا قانون لے آئے۔ یہ حکومت جس کے مندر سے لے کر ایوان تک ہر جگہ بارش کا ٹپکنے لگتا ہے اپنی کسی کارکردگی پر تو ووٹ مانگ ہی نہیں سکتی۔ ملک میں100 ؍اسمارٹ شہر بنانے والوں کا یہ حال ہے کہ دارالخلافہ دہلی کے اندر ذرا سی برسات میں آئی اے ایس کے امتحان کی تیاری کرنے والے خوشحال گھرانوں کے بچے ڈوب کر مرجاتے ہیں۔ اس کے لیے مسلم دشمنی کے سوا کوئی چارہ ٔ کار نہیں ہے۔ کبھی بابری مسجد ، کبھی تین طلاق، کبھی سی اے اے واین آر سی ، کبھی کشمیر کی دفع 370 اور اب وقف بل میں ترمیم ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم دشمنی کے گائے سے اتنا دودھ دوہا جاچکا ہے کہ اب خون آنے لگا مگر ان بیچاروں کو کوئی اور کام ہی نہیں آتا ۔ ان کی حالتِ زار پر غلام محمد قاصر کا یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
کروں گا کیا جورقابت میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
Like this:
Like Loading...
aap se guzarish hai ke waqf ke talluk se ek article likhe jis me kin sahebaan ne apni jaydaad waqf ki aur us se musalmaan ka kya fayda hua aur hota hai,aur sath me BJP ke napak iraade kaise is naye amendment ke zariye se mukammil hoge .