Skip to content
مجاہدین آزادی ہی ملک کے حقیقی ہیرو .
ِ آزادی تو یاد ہے مگر تاریخ رقم کرنے والے فراموش
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
’’ ہیرو،حریت اور ہِیرا ‘‘ لوگوں کی نظروں میں نہایت قیمتی ہوتے ہیں اور اپنے اندر ایک غیر معمولی وزن اور طاقت رکھتے ہیں ،’’ہیرا‘‘ نہایت قیمتی پتھر ہوتا ہے جسے انگریزی میں Diamond اور عربی میں الماس کہاجاتا ہے ،یہ دنیا کا مہنگا ،خوبصورت اور انتہائی قیمتی پتھر ہوتا ہے، جس کی قیمت سونے کی قیمت سے بھی سینکڑوں گنا زیادہ ہوتی ہے،لوگ اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،اسے انگوٹھی میں جڑتے ہیں، اپنے گلے کا ہار بناتے ہیں اور نہایت اہتمام سے اس کی حفاظت کرتے ہیں،’’ ہیرو‘‘ ،Heroانگریزی لفظ ہے جو اعلیٰ کردار، متعددخصوصیات کے حامل ،اولوالعزم ،جواں مرد اور بہادر شخص کے لئے بولاجاتا ہے،غیر معمولی خصوصیات کا حامل شخص لوگوں کی نظر میں ہیرو کہلاتا ہے،معاشرہ میں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے ،لوگ اس کی دل وجان سے عزت کرتے ہیں اور خصوصا معاشرہ میں اس کی مثال دے کر نوجوانوں کو اس کی تقلید کی تلقین کی جاتی ہے،’’حُریت‘‘ یہ عربی لفظ ہے جس کے معنیٰ آزادی اور خود مختاری کے آتے ہیں ،آزادی غلامی کی زد ہے، انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار کے لئے آزادی بہت بڑی نعمت ہے، کہاجاتا ہے کہ غلامی کے محل سے آزادی کی جھونپڑی بہتر ہے،اللہ تعالیٰ نے بھی ہر انسان کو آزاد بناکر پیدا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مزاج میں آزادی رکھتا ہے اور دوسروں کی غلامی کو ہر گز پسند نہیں کرتا ، تاریخ انسانی گواہ ہے کہ مختلف قبائل ہمیشہ ہی سے آزادی کے لئے ایک دوسرے کے دست وگریباں رہا کرتے تھے اور بعض قبائل کے درمیان آزادی کی خاطر بڑی طویل ترین جنگیں بھی ہوئی ہیں جنہیں تاریخ کی طویل ترین جنگیں کہاجاتا ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان ان خوش نصیب ملکوں میں سے ایک ہے جسے آزادی کی نعمت حاصل ہے ،نیز ہمارا ملک ان ممالک میں سے ایک ہے جس کے سر پر جمہوریت کا تاج سجا ہوا ہے،تاریخ ہند کا ادنیٰ طالب علم اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو ہمارا ملک طویل ترین جدجہد ،بے مثال قربانیوں اور لاکھوں باشندگان کی شہادت کے بعد انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ہے ، ہم ہندوستانیوں کو جو آزادی کی نعمت ملی ہے یہ اتفاقی اور آنا فانا نہیں ملی ہے بلکہ اس کے پیچھے عظیم منصوبے اور ہمارے بزرگوں کی متحدہ قربانیاں کارفرماتھیں ، یقینا آزادی داستان ایک طویل ترین داستان ہے، یہ اُن لوگوں کی داستان ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ لُٹا کر وطن عزیز کو سنوارا ہے ،جنہوں نے جان دے کر ملک کو جاندار کیا ہے،جنہوں نے سرخ کفن پہن کر اپنے ملک کو آزادی کا خوبصورت لباس پہنایا ہے اور جنہوں نے اپنی زمین میں پیوند خاک ہوکر ملک کی آبیاری کی ہے ، یقینا ہر سال پندرہ اگست آتی ہے او ان کی یاد دلاتی ہے، ملک کے ان سچے ہیرؤں کو ہم سے جدا ہوکر اور وطن کی سرزمین میں پیوند خاک ہوکر طویل عرصہ بیت چکا ہے مگر ان کی وطن عزیز کے لئے کی جانے والی غیر معمولی قربانیاں ہر ہندوستانی کے دل میں پیوست ہیں ،وہ اپنے عظیم اور ناقابل فراموش کار ناموں کی وجہ سے ہر ایک کی یادوں میں بسے ہوئے ہیں ، یقینا یہ ہم ہندوستانیوں کے عظیم محسن ہیں ان کے احسان کو ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے ،یہ ہمارے ملک کے حقیقی ہیرو اور ہماری آنکھوں کے تارے ہیں ، ان ہی کے کارناموں اور مثالی قربانیوں سے ہمارا سر اونچا اور سینہ چوڑا ہے ،ہر ہندوستانی بڑے فخر کے ساتھ ان کا نام لیتا ہے اور ان کے گزرجانے کے باوجود ان کی روحوں کو عظمت کے ساتھ سلام پیش کرتا ہے ،پندرہ اگست کو ملک کے طول وعرض میں جہاں کہیں جشن اور آزادی کی تقریبات منائی جاتی ہیں دراصل انہیں کی مرہون منت ہیں اور حقیقت میں انہیں کی یاد میں منائی جاتی ہیں اور نئی نسل کو ان کے جانبازی کے قصے سنانے اور بتانے اور ملک وملت کے لئے اپنے اندر ان جیسا جذبہ پروان چڑھانے کے لئے منائی جاتی ہیں ،ان لوگوں کے اندر ایک خاص وصف تھا جسے ہم سب کو اپنانے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ انہوں نے مذہب ومشرب سے بالاتر ہوکر صرف وطن عزیز کی محبت وچاہت میں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا لگاکر ،فولادی دیوار بن کر ،مضبوط زنجیر بن کر، وسائل کی قلت کے باوجود مگر بھر پور عزم وحوصلہ کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا تھا ،ان کے ارادوں کے سامنے طاقتور ترین اور جدید وسائل سے لیس فوج نے ہار مان کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئی تھی اور بالآخر وہ دن آیا کہ ان غاصبوں کو اپنے ہی منہ پر خاک ڈال کر سمندر پار جانا پڑا تھا جہاں سے وہ گھس کر بڑی مکاری کے ساتھ آئے تھے،آزادی کے ان سچے ہیرؤں نے ملک کی آزادی کے لئے قربان ہوکر جاتے ہوئے ہمیں یہ پیغام دیا کہ جس طریقہ سے ہم نے یک جان ،یکسو اور ایک ہوکر دشمنوں کو بھگایا ہے اور اس ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈالا ہے اگر تم اس کی آزادی وشادابی کو برقرا ر رکھنا چاہتے ہو تو تم کو بھی اسی راہ پر قائم رہنا ہوگا ،ملک کی خاطر شخصی مفادات کو قربان کرنا ہوگا،مذہب ومشرب سے بالاتر ہوکر کام کرنا ہوگا،ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہوئے عظمت ومحبت کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر ،کندھے سے کندھا لگا کر اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنا ہوگا ،اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم میں کے کسی کا حق ضائع نہ ہونے پائے ، حقوق کا تحفظ دراصل ایک دوسرے کا تحفظ اور ملک کا تحفظ ہے اور اس کے لئے دستور کاتحفظ ضروری ہے، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی دستور کے مطابق ہونی چاہئے کیونکہ آزادی کے بعد دستور ہی ہمارا محافظ ہے اور اسی کے مطابق چلنے ہی میں ہماری بھلائی ہے ،یاد رکھنا کہ اگر دستور کمزور ہوگیا تو ملک اور اس کی یکتا کمزور ہوگئی اور جب ملک کمزور ہوتا ہے تو پھر بڑی بڑی شخصیتیں مل کر بھی ملک کو طاقت فراہم نہیں کر سکتی ،اس لئے ملک کی ترقی ،استحکام اور پیار ومحبت کی فضا برقرار رکھنے کے لئے پانچ چیزیں ضروری ہیں (۱) دستور کا تحفظ(۲) مذاہب کا احترام(۳) انصاف کا ترازو(۴) انسانی پیار و محبت(۵) تعصبیت سے پاک سیاست وقیادت۔
مجاہدین آزادی کو ہم ہندوستانی اپنے سب سے بڑے ہیرو مانتے ہیں وہ اس لئے کہ انہوں نے عظیم الشان قربانیاں دے کر اس ملک سے غلامی کا طوق نکال کر اس کے سر پر آزادی کا تاج سجایا ہے ، یہ ہماری نظر میں ہیرے اور ڈائمنڈ سے بھی زیادہ قیمتی ہیں ، روپئے پیسوں سے ایک نہیں سینکڑوں ہیرے خریدے جا سکتے ہیں مگر یہ ایسے ہیرے ہیں جن کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ، انہوں نے اپنی جان کی قیمت لگا کر ملک کو آزادی دلا ئی ہے اب بھلا ان کی قیمت کون لگا سکتا ہے ،آزادی انسان کے لئے بہت بڑی دولت ہے ،بسا اوقات دولت سے بھی آزادی خریدی نہیں جا سکتی ہے مگر ان جیالوں اور سر فروشوں نے اپنی جان دے کر ہم کو آزادی دلا ئی ہے ،ہمارا ملک اور اس ملک کا ہر باشندہ اور آئندہ اس ملک میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ان کا شکر گزار رہے گا کہ ان کی بدولت انہیں آزادی دولت اور نعمت نصیب ہوئی ہے ، مگر یہ بھی ایک سچی حقیقت ہے کہ ان محسنوں کا زبان سے شکریہ ادا کردینا کافی نہیں ہے،ان کے نام پر جلسے منعقد کردینا کافی نہیں ہے،ان کے نام سے ادارے بنالینا کافی نہیں ہے اور ان کے بڑے بڑے مجسمے لگا دینا کافی نہیں ہے بلکہ ان سے حقیقی اور سچی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ انہوں نے جس راہ پر چل کر ملک کو آزاد کرایا تھا اور دشمنوں سے پنجہ آزمائی کی تھی اور انہیں ملک چھوڑ نے پر مجبور کیا تھا اسے اپنا یا جائے اور ملک کی آزاد فضا کو برقرا ر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ،ان طریقوں کو اختیار کیا جائے جن سے محبت کی فضا قائم رہتی ہے اور آپسی محبت پروان چڑھتی ہے ،جس طرح ان لوگوں نے مل جل کر ملک کو آزاد کرایا تھا ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک کی ترقی اور استحکام کی فکر کرنا ہوگا ،انہوں نے اپنے عملی کردار سے بتایا ہے کہ دھاگے مل کر مضبوط رسی بنتی ہے ،ہوائیں آپس میں مل کر طوفان بنتی ہیں ،پانی کے قطرات ایک دوسرے سے مل کر بادل بن کر برستے ہیں اور لہریں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر طوفان بن کر ساحل سے ٹکراتی ہیں ،اسی طرح ملک کے ہر شہری کو بحیثیت شہری متحد ہونا پڑے گا اور اسی اتحاد میں ان کی سلامتی ،کامیابی اور ملک کی ترقی مضمر ہے،جس طرح کشتی کا ایک معمولی سوراخ پوری کشتی کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے اسی طرح آپسی نا اتفاقی ،دشمنی ،تعصبیت ،خود غرضی اور شخصی مفادات ملک کی کامیابی ،بلندی اور سکون کی بربادی کے لئے اس کشتی کے سوراخ سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں جس کا اندازہ کرنا اس وقت ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے،ہمارے ہیرؤں نے زبان وعمل سے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ ہم سے سچی محبت رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنا سمجھیں ،ان میں سے ہر ایک کے درد کو اپنا درد سمجھیں ،ہر کام اتفاق رائے سے کریں ، طاقت وقوت کے زور پرکوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے محبت کی فضا مکدر ہوتی ہے اور یاد رکھیں اگر تم نے تعصبیت کی عینک پہن کر ہمیں الگ الگ کرنے کی کوشش کی تو ہماریں روحیں تمہارا پیچھا کریں گی پھرتمہیں کہیں بھی اور کسی وقت بھی چین نصیب نہ ہوگا۔
آزادی کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اچھی جانتے ہیں کہ سونے کی چڑیا (ہندوستان) کو چرانے کا ارادہ لے کر جب مکار انگریزوں نے تاجر بن کر اس ملک میں قدم رکھا اور اپنی مکاریوں سے یہاں پر اپنا تسلط قائم کرلیا اور پھر دھیرے دھیرے اسے غلام بناکر اپنی گرفت مضبوط کرلی تو تو سب سے پہلے جن شخصیتوں نے ان مکاروں سے مقابلہ کیا ان میں نمایاں نام نواب سراج الدولہ مرحوم کا آتا ہے،اس مجاہد آزادی نے تقریبا پچاس سال تک ان بھیڑیوں سے مقابلہ کیا ،اس کے بعد اس تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے شیر میسور بلکہ شیر ہند سلطان ٹیپو شہیدؒ نے سری رنگا پٹنم کے میدان میں انگریزوں سے جم کر مقابلہ کیا بالآخر ملک کی آزادی کے لئے جان کا نذرانہ پیش کردیا اور جاتے جاتے تمام باشندگان کو بتایا کہ وطن کی محبت اسے کہتے ہیں ، اس کے بعد اٹھارویں صدی کے پہلے نصف میں امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی قیادت میں جد وجہد آزادی کی کوششیں شروع ہوئی ، حضرت شاہ صاحب ؒ نے صاف لفظوں میں فرمایا تھا ’’ملک وملت کی فلاح صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ دور حاضر کے تمام نظام کی دھجیاں بکھیر دی جائیں‘‘، شیر میسور وشیر ہند سلطان ٹیپو شہید ؒ کی شہادت کے بعد تو انگریزوں کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ،ٹیپوؒ کی لاش خون میں لت پت دیکھ کر انگریز خوشی سے جھوم اٹھے اور کہنے لگے کہ ’’ آج ہندوستان ہمارا ہے‘‘،اس کے بعد ان بھیڑیوں نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر مرحوم کو بھی قید کردیا اور لال قلعہ پر یونین جیک لہرا دیا اور ۱۸۰۳ ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم کردی،اس کے بعد بڑی قوت کے ساتھ علمائے کرام نے آزادی کا نعرہ لگا یا ،امام حریت ،محدث جلیل حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے اپنے فتوی کے ذریعہ انگریزوں سے جہاد کو فرض قرار دیا، اس فتوی نے پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑکادی،جگہ جگہ آزادی کے شعلے بھڑکنے لگے ،مدارس کے علماء ،خانقاہوں کے مشائخ میدان عمل میں کود پڑے جس سے انگریزوں کی نیندیں حرام ہوگئی ،۱۸۳۱ء میں عظیم مجاہد مولانا سید احمد شہیدؒ اور مولانا سید اسماعیل شہیدؒ نے بالاکوٹ کے میدان میں انگریزوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا،اس کے بعد تو آزادی کی لہر ایک طوفان بن گئی چنانچہ اکابر دیوبند کے شیخ سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ،حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند،فقیہ العصر مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سر پرست دارلعلوم دیوبند اور ان حضرات کے رفقا نے مل کر شاملی پر قبضہ کرلیا، اس کے بعد تو مسلمانوں نے علماء ہند کی قیادت میں جہد مسلسل کے ذریعہ ہر جگہ آزادی کی تحریک شروع کرتے ہوئے جد وجہد شروع کردی ،۱۸۵۷ء کی تحریک میں بے شمار علماء نے اپنی جانبازی کے جوہر دکھائے اور مغرور انگریز وں کے غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ،اس تحریک میں جن نامور علماء نے شرکت کی ان میں نمایاں نام بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، عالمِ ربانی فقیہ ہند مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سرپرست دارالعلوم دیوبند ،مولانا مملوک علی دیوبندی،حافظ ضامن شہیدؒاورمولانا جعفر تھا نیسری ؒ کا آتا ہے ، تاریخ تحریک آزادی کے صفحات گواہ ہیں کہ جب ۱۸۵۶ میں دہلی میں آزادی کے سلسلہ میں ایک بہت بڑی کانفرنس رکھی گئی تھی جس میں اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء شریک تھے ،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بانی دار العلوم دیوبند حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتویؒ نے فرمایا تھا کہ :اے ساتھیوں ! کیا تم کو معلوم نہیں کہ انگریز تمہارے سر پر کھڑا ہے اور اپنی حکومت کا جال پورے ہندوستان میں بچھا رکھا ہے ،اس سے لڑائی کے لئے تیار ہوجاؤ ، مجمع میں کسی نے کھڑے ہوکر کہا کہ ہم تعداد میں بھی کم ہیں اور آلات حرب بھی ہمارے پاس بہت کم ہے ،اس پر حجۃ الاسلام ؒ جلال میں آگے اور فرمایا: کیا ہماری تعداد غازیان بدر سے بھی کم ہے؟ ،یہ سننا تھا کہ سامعین میں ایک ولولہ پیدا ہوا، وطن کو آزادی دلانے کا جذبہ سر چڑھ کر بولنے لگا ،سبھوں نے کہا ہم مرجائیں گے مگر انگریز کو ہندوستان میں کسی بھی قیمت پر رہنے نہیں دیں گے،جنگ آزادی کے لئے کئی محاز بنائے گئے اور بے جگری کے ساتھ انگریزوں کا مقابلہ کیا گیا، انگریز افسروں نے اس تحریک میں شریک علماء اور جانباز محبان وطن پر انتقامی کاروائیوں کا آغاز کیا اور ان آزادی کے دیوانوں کے ساتھ ظلم وبربریت کا وہ دل ہلا دینے والا برتاو کیا جسے دیکھ کر درندے بھی شرمانے لگے۔
عظیم مجاہد آزادی تحریک ریشمی رومال کے بانی اور دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے جمعیۃ علماء کے قیام سے قبل ۱۸۷۱ء میں اپنے استاذ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے مشورہ سے ’’ثمرۃ الترتیب‘‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کا مقصد ملک کی آزادی کے لئے افراد تیار کرنا تھا،پھر ایک عظیم تحریک’’ جمعیۃ الانصار‘‘ بنائی ،اس کے تحت شیخ الہند ؒ نے اپنے شاگرد رشید شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ اور دیگر شاگردوں کے ساتھ مل کر پوری قوت کے ساتھ ملک میں آزادی کی تحریک چلائی،شیخ الہند نے ’’تحریک رشیمی رومال‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا جس میں ملک کے تمام نامور سیاسی لیڈران شامل تھے ،بد قسمتی سے اس تحریک کا پردہ فاش ہوا اور شیخ الہندؒ،شیخ الاسلامؒ اور ان کے رفقا ئے کرام کوحجاز سے گرفتار کرکے مالٹا کے قید خانے میں قید کردیا گیا جہاں سے ۱۹۲۰ء میں ان حضرات کی رہائی عمل میں آئی،مالٹا کے قید خانے سے آزادی ملنے کے بعد تحریک آزادی کو ایک نیا انداز دیا گیا،اس موقع پر اس سفر میں تنہا چلنے کے بجائے برادران وطن کو بھی شامل کیا گیا ۱۸۸۸ء میں علمائے کرام نے آزادی کے حصول کے لئے کانگرس میں شمولیت کی حمایت کی ،ساتھ ہی ایک ایسی جماعت کے وجود کو ضروری سمجھا جس کا مقصد اسلامی عقائد وروایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کی دینی رہنمائی کر سکے ، ۱۹۱۹ء میں علمائے کرام نے ’’ جمعیۃ علماء ہند‘‘ کے نام سے ایک باضابطہ دستوری جماعت قائم کی،جب مشترک پلیٹ فارم کو تحریک آزادی کی بنیاد قرار دیا تو مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ نے نوجوان بیرسٹر مسٹر موہن داس کرم چند گاندھی کا نام مشترک لیڈر کی حیثیت سے پیش کیا اور انہیں مہاتما گاندھی کا لقب دیا گیا، انتخاب کے بعد کئی سال تک گاندھی جی کے ملک میں دورے مسلمانوں کے اخرجات سے ہوتے رہے۔
اسی طرح تحریک ریشمی رومال کے بانی حضرت شیخ الہندؒ نے۱۹۲۰ء میں ’’ترک موٰلات‘‘ (حکومت برطانیہ کے ساتھ عدم تعاون) کا فتویٰ دیا بعد میں گاندھی جی کی تجویز پر ۱۹۲۲ء میں بند کردیا گیا ،اس تحریک میں تیس ہزار مجاہدین جیل گئے جن میں زیادہ تر تعداد علمائے کرام ہی کی تھی،شیخ الاسلام ؒ نے ۱۹۲۱ء میں خلافت کانفرنس کراچی کے اجلاس میں برطانیہ حکومت کی اعانت اور ملازمت کے حرام ہونے کا فتویٰ دیا جس کی پاداش میں آپؒ کو اور آپ کے رفقا کو دوسال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی،۱۹۲۹ء میں گاندھی جی کی ڈنڈی مارچ اور نمک سازی کی تحریک میں دیگر قومی کارکنوں کے ساتھ جمعیۃ علماء کے اکابر مولانا ابوالکلام آزادؒ،مولانا حفظ الرحمن ؒ، مولانا سید محمد میاں ؒ اور مولانا بشیر احمد بھٹا اور کارکنان جمعیۃ بھی گرفتار ہوئے ،۱۹۳۰ء میں سول نافرمانی تحریک میں مفتی اعظم مفتی کفایت اللہؒ اور مولانا سعید احمد دہلویؒ کو قانون تحفظ عامہ اور بغاوت کے جرم میں گرفتا کیا گیا ،جمعیۃ علماء کے پہلے ڈکٹیٹر مفتی کفایت اللہؒ نے ۱۹۳۱ء کو ایک لاکھ افراد لے کر نکلے اور گرفتار ہوئے،دوسرے ڈکٹیٹر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کو دیوبند سے دہلی کے درمیان گرفتار کیا گیااس کے بعد مولانا سعید احمد دہلویؒ ،مولانا حفظ الرحمن ؒ، مولانا سید محمد میاںؒ اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ ڈکٹیٹر منتخب ہوتے رہے اور گرفتاریاں دیتے رہے ،اس تحریک میں تقریبا تیس ہزار مسلمان گرفتار ہوئے،۱۹۴۲ء کو جمعیۃ علماء کی کانفرنس میں شیخ الاسلام ؒ نے پوری قوت کے ساتھ آزادی کا مسئلہ اٹھایا جس کی پاداش میں آپؒ کو گرفتار کیا گیا،بالآخر ہزاروں علماء ومشائخین ،لاکھوں باشندگان ہند جن میں تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے اور خصوصاً مسلمانان ہند جنہوں نے مثالی جرأت وہمت اور غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تھا اور وطن عزیز کی خاطر اپنے گھر اجاڑے تھے،بچوں کو یتیم،بیوی کو بیوہ اور ماں باپ کو تنہا چھوڑاتھا مگر ان کی ایک ہی تمنا تھی کہ وطن عزیز پر آزادی کاسورج طلوع ہوجائے اور پھر وہ دن آیا جس کا ہندوستانیوں کو شدت سے انتظار تھا پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو ملک کے افق پر آزادی کا سوج روشن ہوا جس نے لاکھوں باشندگان کے چہروں پر خوشیاں بکھیردی ۔
حقیقت نگاہی سے تحریک آزادی کی صحیح تصویر پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے آزادی کیلئے جگانے والے ،مایوس اور شکستہ دلوں کو بیدار کرنے والے، جسم ِ ناتواں میں توانائی ڈالنے والے اور قوم کو وطن پرستی کا پاٹ پڑھاکر سفاک وچالاک اور ظالم وغاصب قوم سے لڑنے کا حوصلہ دلانے والے کوئی اور نہیں بلکہ مسلم بادشاہ،مسلمان قائدین، علمائے ربانین اور مسلمانان ہند ہی تھے ،غرض ان ہی حضرات نے تحریک آزادی کا آغاز بھی کیا اور تقریبا ً نصف صدی تک تن تنہا اس تحریک کو جاری بھی رکھا اور اس طویل مدت میں کبھی بھی انگریزوں کو تخت غاصب پر چین سے بیٹھنے نہیں دیا ، مگر افسوس سد افسوس اس قدر غیر معمولی قربانیوں اور ملک کے لئے مخلصانہ تعاون اور خون جگر سے اس سرزمین کی آبیاری کرنے کے باوجود بعض متعصبین ،شدد پسند جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو اس وقت بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں جو دراصل انہیں مجاہدین کے مرہون منت ہیں ان مخلص مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو فراموش کر رہے ہیں اور ان کانام تاریخ آزادی کی لسٹ سے ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ،اس کے ذریعہ آنے والی نسلوں کو غلط پیغام دے کر انہیں بھی اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں ،اس گھناونی ت کے ذریعہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور آپسی پیار ومحبت کی فضا کو مکدر کرنا چاہتے ہیں اور مذہب ومشرب میں انہیں بانٹ کر اپنی سیاسی روٹی سیکھنا چاہتے ہیں اور طویل وقت تک کسی دوسرے کو اپنی جگہ دینا نہیں چاہتے ہیں،اس طرح کا مزاج رکھنے والے لوگ صرف تاریخ کے دشمن ،امن ومحبت کے قاتل ،ملک کی ترقی میں حائل ،نسلوں کی بربادی کے قائل ہی نہیں بلکہ ان عظیم رہنماؤں اور ملک کے ان حقیقی ہیرؤن سے بھی دشمنی رکھنے والے ہیں جنہوں نے تعصبیت سے دور ہوکر محبت کی سواری کرتے ہوئے ملک کو آزادی دلائی تھی،ہمارے ہیرو کوئی معمولی نہیں ہیں کہ جن کے نام تاریخ سے نکال کر انہیں بھلادیا جائے ،حقیقت یہ ہے کہ اُن کو تاریخ پر ناز نہیں ہے بلکہ تاریخ کو ان پر ناز ہے ،تاریخ مٹانے سے یہ مٹنے والے نہیں ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گواہی وطن عزیز کا ہر ذرہ ذرہ دے رہا اور جب تک دنیا قائم رہے گی دیتا رہے گا ،سچ تو یہ ہے کہ ؎
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
Like this:
Like Loading...