Skip to content
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کا مذہبی بنیاد پر تفریق سے گریز پر زور
ڈھاکہ ،12اگست ( آئی این ایس انڈیا)
بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے طالب علم کی والدہ سے تعزیت کرتے ہوئے مذہبی اتحاد کی اپیل کی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق محمد یونس کا ہفتے کو کہنا تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کریں۔نوبل انعام یافتہ 84 سالہ محمد یونس یورپ سے واپس آئے ہیں تاکہ وہ بنگلہ دیش میں ایک عارضی انتظامیہ کی قیادت کر سکیں، جسے بد نظمی کے خاتمے اور جمہوری اصلاحات کو نافذ کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہے۔
شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک کی ہندو اقلیت کے خلاف متعدد حملوں کی وجہ سے اندرون ملک خوف میں بھی اضافہ ہوا ہے۔محمد یونس نے شمالی شہر رنگ پور میں گزشتہ ماہ کی بد امنی کے دوران ہلاک ہونے والے پہلے طالب علم ابو سعید کی یاد تازہ کرتے ہوئے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے۔اس موقع پر محمد یونس کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابو سعید اب ہر گھر میں موجود ہے اور جس طرح وہ کھڑے تھے، ہمیں بھی وہی کرنا ہے۔
ان کے بقول ابو سعید کے بنگلہ دیش میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔خیال رہے کہ 25 سالہ ابو سعید کو گزشتہ ماہ 26 جولائی کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف ہونے والے طالب علموں کے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔محمد یونس کی آمد کے موقع پر ابو سعید کی والدہ ان سے لپٹ گئیں جو ملک کا انتظام سنبھالنے والی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ ان سے ملنے آئے تھے۔
بنگلہ دیشی طلبہ کا احتجاج جون 2024 میں ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد شروع ہوا تھا جس میں عدالت نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق کوٹہ سسٹم کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔بنگلہ دیش میں 50 فی صد سے زائد سرکاری ملازمتیں کوٹہ سسٹم کے تحت دی جاتی تھیں جس میں 30 فی صد کوٹہ 1971 میں بنگلہ دیش بنانے کی تحریک میں حصہ لینے والوں کی اولادوں کے لیے مختص تھا۔
حکومت کے ناقدین کا الزام تھا کہ حکمران جماعت عوامی لیگ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں نافذ کوٹے کو اپنے سیاسی حامیوں اور کارکنوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے کوٹے کے خاتمے کے لیے مظاہروں کا آغاز کیا۔
Like this:
Like Loading...