Skip to content
بہار میں کانوڈیوں کی موت کا پیغام کیا ہے ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بہار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جھولا چھاپ ڈاکٹر نتیش کمار نے اس ریاست کا علاج کرکے اسے صحتمند بنادیا ہے لیکن یہ دعویٰ رام مندر اور ایوانِ پارلیمان کی چھت ٹپکنے کے بعد ترقی یافتہ ہندوستان کے دعویٰ کی مانند وقتاً فوقتاً غلط ثابت ہوجاتا ہے ۔ اس اتوار کو صوبے کی راجدھانی پٹنہ میں صرف 41.8 ملی میٹر بارش ہوئی لیکن اس سے اسٹرینڈ روڈ، راج بنسی نگر، بورنگ روڈ، بیلی روڈ اور پاٹلی پُترا کالونی سمیت بیشتر پاش علاقوں میں بارش کا پانی بھر گیا ۔ اتنی ذرا سے بارش سے ریاست کی قانون ساز اسمبلی احاطہ اگر جل تھل ہوجائے اور اس کے آس پاس واقع ریاستی وزراء کے سرکاری بنگلوں سمیت کئی اسپتالوں میں بارش کا پانی بھر جائے تو غریب بستیوں اور نشیبی علاقوں میں کیا حال ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خود وزیراعلیٰ نتیش کمار کو میدان میں اتر کر جگہ جگہ پر متاثر علاقوں کا معائنہ کرنا پڑا۔ انہوں نے پمپ ہاؤس کا جائزہ لے کر شہر میں پانی کے جماؤ پر قابو پانے کے لیے افسران کو ہدایت دی ۔ یہ وزیراعلیٰ کا نہیں بلدیہ کے کرنے کا کام ہے اور وزیر اعلیٰ کو کرنا ہی تھا تو موسمِ باراں سےپہلے کرتے تاکہ یہ نوبت ہی نہیں آتی ۔ اس طرح گویا پھر سے یہ راز فاش ہوگیا کہ بہار’ بیمارو‘ ریاستوں میں سرِ فہرست ہے۔
وزیر اعلیٰ کے حرکت میں آتے ہی شہری ترقیات اور رہائش کے وزیر نتن نوین نے ایمرجنسی میٹنگ کرکے تیاریوں اور ریسپانس سسٹم کی کمی پر توجہ دی نیز چھٹی پر جانے والے سبھی سینئر افسران کو فوراً ڈیوٹی پر طلب کرلیا لیکن سوال یہ ہے ان کی تعطیل منظور ہی کیوں کی گئی ؟ اور وہ خود کیوں نہیں آئے؟ انہیں واپس لانے کے لیے زبردستی کیوں کرنی پڑی؟ پٹنہ سمیت بہار کے کئی علاقوں میں لگاتار بارش کی وجہ سے گنگا، کوسی، گنڈک، بوڑھی گنڈک، مہانندا اور کملا جیسی ندیوں میں زبردست طغیانی ا ٓ گئی اس لیے گوپال گنج، مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن ،بگہا، سوپول، دربھنگہ، کھگڑیا اور جھنجھار پور میں بھی ندیوں کی آبی سطح خطرے کے نشان سےتجاوز کر گئی۔اس سے ساون کے میلے اور کانوڈ بھی متاثر ہونے لگے ۔ وہی کانوڈجن دھرم کی رکشا کے لیے یوگی نے ان کے راستے کو مسلمانوں سے صاف کردیا تھا مگر اب ان کی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں کیونکہ لگاتا ردونوں ہفتہ یکے بعد دیگرے سانحات رونما ہوئے ہیں اور کانوڈیوں کی موت نے یہ پیغام دیا کہ بہار کو ابھی بہت طویل راستہ طے کرنا ہے۔
ساون کے چوتھے پیر کو شراونی میلے کے دوران بابا سدھیشورناتھ مندر میں بھگدڑ مچنے سے چھ خواتین سمیت سات افراد کی موت ہو گئی اور 25 زخمی ہو گئے۔ مندر میں جل ابھیشیک کے موقع پر کانوڈیوں کی بھیڑ کے سبب سانحہ ہوگیا ۔ اس میں ہلاک ہونے والے پیارے پاسوان کے نام سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ دلت تھا اور بعید نہیں خواتین بھی اسی سماج کی ہوں ۔ اس طرح یہ الزام درست ہوجاتا ہے نام نہاد اونچی ذات والے اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں بھیج کر غریب اور پسماندہ نوجوانوں کو کانوڈ یاترا میں مصروف کردیتے ہیں تاکہ وہ کبھی مسابقت نہ کرسکیں۔ پچھلے ہفتہ 5؍ اگست کو ساون کے تیسرے پیر کے دن بہارکے ویشالی ضلع میں کرنٹ لگنے سے 9 کانوڑیوں کی موت ہو گئی تھی اور تین جھلس گئے تھے۔ان کی ڈی جے ٹرالی 11 ہزار وولٹ بجلی کے تار سے ٹکرا گئی جس سے کرنٹ پھیل گیا۔ بی جے پی ایک طرف تو کانوڈیوں سے متعلق اشتعال انگیز فیصلے کرکے عام ہندو رائے دہندگان کاجذباتی استحصال توکرتی ہے مگر نہ ان کے تحفظ کیا جاتا ہے اور نہ ان کی موت پرکوئی آنسو ٹپکتا ہے۔
موجودہ دور میں عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے بجٹ میں روپیہ بانٹ کر نتیش کمار جیسے لوگوں کو تو خوش کرنے کی سعی کی جاتی ہے تاکہ مرکزی حکومت کا اقتدار سلامت رہے۔ اس دولت کی تقسیم سے بہار کے عام ووٹرس کا کوئی بھلا نہیں ہوتا کیونکہ بجٹ کا بیشترحصہ سیاستدانوں اور ان کے چہیتے ٹھیکیداروں کی تجوریوں میں چلا جاتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا دل بہلانے کے لیے خصوصی ریاست کا درجہ دینا اہم ہوجاتا تھا۔ ایوان پارلیمان کا مانسون سیشن شروع ہوا تو پہلے ہی روز ایوانِ بالا میں وقفہ صفر میں بہار اور اڈیشہ کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا نے بہار کو خصوصی درجہ دینے کا مطالبہ کرکے بی جے پی اور جنتا دل کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کامیاب کوشش کی ۔ انہوں نے ریاست کو خصوصی درجہ کے ساتھ خصوصی پیکیج کی ضرورت کےساتھ پانچ خصوصی اقتصادی زون کا مطالبہ کیا ۔
جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنما بھی بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بالآخر مرکزی حکومت کا جواب مل ہی گیا کہ خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ جے ڈی یو کے رکن پارلیمان رام پریت منڈل کے سوال کے جواب میں پنکج چودھری نے تحریری جواب میں یہ فرمان سنا دیا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے مرکزی حکومت کی جانب سے کہا کہ خصوصی درجہ کے لیے ضروری شرائط کو بہار پورا نہیں کرتا۔ جنرل بجٹ 2024-25 اور جموں وکشمیر کے بجٹ پر مشترکہ بحث میں حصہ لیتے ہوئے بہار کانگریس کے صدراکھلیش پرساد سنگھ نےنریندرمودی اور نتیش کمار کو لڑانے کی کوشش کی ۔ اکھلیش سنگھ نے کہا کہ مرکز کی موجودہ مخلوط حکومت سے یہ امید کی جارہی تھی کہ اب ریاست کوخصوصی درجہ مل جائے گا لیکن پارلیمنٹ کے اجلاس کے پہلے ہی دن سرکار نے کہہ دیا چونکہ بہار مختلف معیارات پر پورا نہیں اترتا اس لیے یہ ممکن نہیں ہے۔ان کے مطابق انسانی ترقی کے اشاریہ جات، قومی آمدنی اور صنعت کاری سمیت تمام کسوٹیوں پر بہار خصوصی درجہ کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔
اکھلیش پرساد نے صوبہ میں سیلاب اور خشک سالی کا ذکر کیا جس کے نظارے سب کے سامنے ہین۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نےگہار لگائی کہ حکومت کو اپنے خودساختہ معیار میں ترمیم کرکے بہار کو یہ درجہ دینا چاہیے کیونکہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کے کئی رہنما بھی خصوصی درجہ کا سنہرا خواب دکھاتے رہے ہیں۔ اکھلیش پرساد سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار میں ایک بڑی ریلی کے اندر 1.25 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کا کیا ہوا؟ ان کے مطابق سال 2000 میں بہار کی تقسیم کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی نے بھی بہار کے لیے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ کیا اکھلیش پرساد کو نہیں معلوم کہ بی جے پی کے نزدیک اس طرح کے وعدوں کی جملوں سے زیادہ اہمیت نہیں ہے اس لیے ان کے ذریعہ پوری ریاست میں سڑکوں پر اتر کر ہر ضلع میں احتجاج کرنے کا اعلان معقول لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بہار کو سرکردہ ریاستوں کی فہرست میں شامل کرنا ہے تو اسے خصوصی درجہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ان کے خیال میں بہار ایک بیمارو ریاست ہےاور اس کی ترقی کے لیےخصوصی درجہ لازمی ہے۔ کانگریس کا نہ سہی تو بی جے پی کو کم ازکم جنتا دل (یو) کا خیال رکھنا چاہیے۔ مخلوط حکومت میں پارٹنرس کا احترام لازمی ہوتا ہے لیکن مودی اب بھی پہلے جیسی من مانی کیے جارہے ہیں ۔
مودی: ۳ میں وزارت کی تقسیم کے بعد امید تھی کہ اسپیکر کا عہدہ جے ڈی یو یا ٹی ڈی پی کو دیا جائے گا مگر ویسا بھی نہیں ہوا اور خصوصی درجہ دینے سے بھی انکار کردیا گیا اس کا مطلب یہی ہے کہ مودی خود چاہتے ہیں کہ جے ڈی یو الگ ہوجائیں اور وہ ان کے ارکان کو خرید کر اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے بعد اپنے بل باتے پراکثریت میں آجائیں یا دوبارہ انتخاب کروا کر الیکشن جیت جائیں ۔ ملک کے ۷ صوبوں سے آنے والےضمنی انتخاب کے نتائج چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ عوام کا رحجان بدل گیا مگر اس پکار کو سننے کے لیے کان کھلے ہونے چاہئیں۔ سوئے ہوئے آدمی کی آنکھ کے ساتھ کان بھی بند ہوتے ہیں ۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اقتدار کے نشے میں ایسے دُھت ہیں کہ انہیں غیروں تو دور خود اپنے نفع نقصان کا بھی احساس نہیں ہے۔ کسی پارٹی کا سارا انحصار اگر ایک فرد پر مرکوز ہوجائے اور وہ شخص نرگسیت کے خمار میں گرفتار ہو تو دونوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔
مرکز کا یہ رویہ بتاتا ہے کہ یاتو سرکار خواب دیکھ رہی ہے یا اقتدار کے نشے میں دھت ہے؟ خواب اور نشہ کی حالت میں انسان حقیقت سے بے بہرہ ہوجاتا ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں نتیش کمار کے ساتھ اس طرح کی بھونڈی حرکت وہ کرسکتا جس کے اندر دوبارہ انتخاب کروا کر اپنے بل پر کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہو۔ حکومت سازی سے قبل یہ توقع کی جارہی تھی کہ کوئی اہم وزارت جے ڈی یو اور تیلگو دیسم پارٹی کو ملے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ مودی نے اپنی ہار کو چھپانے کے لیے پچھلی وزارت کو کاپی پیسٹ کردیا۔ پچھلا انتخاب مودی کی گارنٹی پر لڑا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم اپنی کارکردگی پر توثیق چاہ رہے تھے اور آئندہ اسی ڈگر پر اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔ اس لیے وہ الیکشن نہیں ریفرنڈم تھا۔ استصواب کے اندر کم از کم پچاس فیصد کی حمایت لازمی ہوتی ہے اور اسے پانے میں مودی ناکام ہوگئے۔ اس لیے اول تو انہیں اپنی شکست کو تسلیم کرکے از خود مارگ درشک منڈل میں چلے جانا چاہیے تھا مگر اقتدار کی ہوس پیروں کی زنجیر بن گئی اور وہ مخلوط حکومت تشکیل کرکے وزیر اعظم بن گئے۔ استصواب میں شکست کے باوجودمودی کا وزیر اعظم بن جانا ابراہیم عدم کےاس شعر کی مانند ہے؎
شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ
محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں
Like this:
Like Loading...