Skip to content
ہماری آزادی ۔بڑی بھاری قیمت پر ملی ہے۔
ازقلم: شیخ سلیم
سابق صدر مہاراشٹرا
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
بھاری جانی قربانی :ہم پندرہ اگست کو اٹہتر واں یوم آزادی منائے جا رہے ہیں آئیے دیکھتے ہیں ہمارے بزرگوں نے جان مال کی کتنی قربانیاں دیں ہیں 1857 سے 1947 کے درمیان آزادی کی جدوجہد کے دوران مرنے والے ہندوستانیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ جدوجہد مختلف بغاوتوں، تحریکوں اور برطانوی حکومت کی جانب سے شدید دباؤ پر مبنی تھی۔ تاہم، کچھ تخمینے اس نقصان کی شدت کا اندازہ دیتے ہیں۔1857 کی بغاوت (پہلی جنگ آزادی): 1857 کی ہندوستانی بغاوت، جسے سپاہی بغاوت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں بڑی خونریزی ہوئی۔ ہندوستانی ہلاکتوں کے تخمینے مختلف ہیں، لیکن کہا جاتا ہے کہ تقریباً 1,00,000 سے 8,00,000 ہندوستانی لڑائی، قتل عام، اور بعد کے قحط اور بیماری کے نتیجے میں مر سکتے ہیں۔جلیانوالہ باغ قتل عام (1919): اس المناک واقعہ میں برطانوی فوجیوں نے سینکڑوں نہتے ہندوستانی شہریوں کو ہلاک کیا۔ برطانوی حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 379 تھی، لیکن ہندوستانی ذرائع کے مطابق یہ تعداد 1,000 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔عدم تعاون، سول نافرمانی، اور بھارت چھوڑو تحریکیں: ان عوامی تحریکوں، خاص طور پر مہاتما گاندھی کی قیادت میں، برطانوی حکومت کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں ہندوستانی پولیس کی گولیوں، مظاہروں اور جھڑپوں میں مارے گئے، حالانکہ ان کی صحیح تعداد دستاویزی طور پر موجود نہیں۔تقسیم ہند (1947): آزادی کے ساتھ تقسیم بھی ہوئی، جس کے نتیجے میں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہوئی اور بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد ہوا۔ تخمینوں کے مطابق تقسیم سے متعلقہ تشدد میں 10 لاکھ سے 20 لاکھ لوگ مارے گئے۔مختصراً، اگرچہ صحیح تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے، لیکن یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آزادی کی صدی طویل جدوجہد کے دوران لاکھوں ہندوستانی مارے گئے، جن میں براہ راست تشدد، دباؤ، اور برطانوی حکومت کے دور کے سماجی و اقتصادی اثرات شامل ہیں۔
لوٹ مار کر برطانیہ لیجانے والی دولت کا تخمینہ:
برطانوی راج کے دوران ہندوستان سے لوٹ کر لے جانے والی دولت کی صحیح مقدار کا تعین کرنا مشکل ہے۔ تاہم، مورخین اور ماہرین اقتصادیات نے اس معاشی استحصال کے پیمانے کو سمجھنے کے لیے مختلف تخمینے لگائے ہیں۔
ایک مشہور تخمینہ ماہر اقتصادیات اُتسا پٹنائک کی تحقیق ہے، جنہوں نے اندازہ لگایا کہ برطانوی حکومت نے 1765 سے 1938 کے دوران ہندوستان سے تقریباً *45 ٹریلین ڈالر* (آج کی قدر میں) نکالے۔ یہ تخمینہ دولت کی منتقلی، بھاری ٹیکسوں، اور تجارتی طریقوں کے استحصال پر مبنی ہے جس کے ذریعے ہندوستان کی معیشت کا استحصال کیا گیا۔
ایک اور مشہور مورخ، ششی تھرور، نے اپنی کتاب Inglorious Empire میں برطانوی حکومت کی پالیسیوں کے مالی اور انسانی نقصانات پر زور دیا ہے، اور بتایا ہے کہ ان پالیسیوں نے ہندوستان کی معیشت کو کس طرح برباد کیا۔
ہندوستان سے لوٹی جانے والی دولت نے برطانیہ کی صنعتی انقلاب اور مجموعی معاشی خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ ہندوستان کو 1947 میں آزادی کے وقت شدید غربت اور اقتصادی تباہی کا سامنا تھا۔
جہاں تک سب سے زیادہ قربانیاں دینے کا تعلق ہے تو سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دی تھی 1875 کی جنگ آزادی میں لاکھوں مسلمانوں نے سب سے زیادہ حصہ لیا تھا انگریزوں نے چن چن کر مغل سرداروں کو توپ سے اڑا دیا تھا لال قلعے اور جامع مسجد دہلی کے درمیان کی ساری حویلیاں توڑ دی گئی تھیں۔ جنگجوؤں کے بعد علماء کرام کو قتل کیا دہلی سے کانپور تک ہر درخت پر علماء کرام کی لاشیں کئی دنوں تک لٹکتی رہیں اُسکے بعد زمینیں اور جائیداد غصب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمانوں سے بڑے پیمانے پر زمینیں چھین لی گئیں۔ بھارت کی جنگ آزادی مسلمانوں کے اور علماء کرام کے خون سے لکھی گئی ہے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ برادران وطن نے بھی مہاتما گاندھی کی قیادت میں جنگ آزادی میں قربانیاں دی ہیں اسی لیے ایک آزاد ملک کا قیام اتنی جانوں کی قربانیوں ہی سے ممکن ہوا۔
مگر آج کے حالات میں بھاجپا کی سرکار نے جو مسلم سماج کے خلاف پالیسی بنائی ہے اور مسلسل بناتی جارہی ہے اس کو دیکھ کر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...