Skip to content
ہنڈن برگ :
سیاست خوف ورسوائی کا باعث بن ہی جاتی ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بدعنوانی ایک معاشی مسئلہ اور سیاسی کینسر ہے۔ ایک زمانے میں کینسر مرضِ لاعلاج تھا یعنی جس حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگتے اس کو اقتدار سے بے دخل کردیا جاتا ۔ امریکہ میں واٹرگیٹ کی بدعنوانی صدر رچرڈ نکسن کو لے ڈوبی اور ہندوستان کے اندر سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوکر وزیر اعظم بننے والے راجیو گاندھی کی خاطر بوفورس کی توپ کافی ہوگئی۔ وقت کے ساتھ طبی سائنس میں تحقیق نے کینسر کا علاج ڈھونڈ نکالا اور فی زمانہ کئی بہت سارے مریض اس موذی مرض سے شفا یاب ہوجاتے ہیں لیکن آج بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر پہلی بار میں کینسر کا علاج پوری طرح نہ ہوپائے اور وہ لوٹ کر جسم کے اندر پھیلنے لگے تو ڈاکٹر حضرات جواب دے دیتے ہیں ۔ ہنڈن برگ کے پہلے زخم پر سپریم کورٹ کے مرہم اور سیبی کے علاج سےمودانی مطمئن ہوگئے کہ بیماری سے نجات مل گئی ۔ سرکار نے سوچا انسانی جسم کی مانند ہندوستانی سماج نے بھی امراض کی مانندہنڈن برگ کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرلی ہے اور اب کوئی خطرہ نہیں ہے مگر دوسری رپورٹ نے اس خوش فہمی کو دور کردیا ۔
ہنڈن برگ کی پہلی اور دوسری رپورٹ کے درمیان تقریباً ایک سال سات ماہ سے زیادہ کا وقفہ ہے۔ اب یہ انکشاف ہوا کہ درمیانی عرصے میں علاج کرنے کے بجائے صرف درد مٹانے والی گولیوں (pain killers) کی مدد سے لیپا پوتی کی گئی۔ اس کی وجہ بتانا دوسری دستاویزکے اشاعت کا مقصد ہے۔ پہلی رپورٹ کا مرکزی کردار گوتم اڈانی تھے ۔ لوگ باگ ان سے قربت کی بناء پر وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے تھے لیکن دوسری رپورٹ ایک قدم آگے بڑھ کر سیبی کی سربراہ مادھابی پُوری بچ اور ان کے شوہرِ نامدار دھول کے اڈانی سے تعلقات کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ ان شواہد کے اندر اس سوال کا جواب کا پوشیدہ ہے کہ آخر اس خطرناک بیماری کی تشخیص کے باوجود قرار واقعی علاج کرنے سے گریز کیوں کیا گیا؟ مادھابی کے تقرر سے لے کر تحفظ تک کی براہِ راست ذمہ داری چونکہ مرکزی حکومت پر ہے اس لیے سرکار کی ساز باز اظہر من الشمس ہوگئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی تقاریر میں اوٹ پٹانگ باتوں کو سن کر بہت سارے لوگ ان کو بیوقوف سمجھ لیتے ہیں ۔ کسی انٹرویو میں خود غیر حیاتیاتی مخلوق قرار دے کر وہ رسوائی بھی اٹھا لیتے ہیں لیکن معاشی معاملات میں موصوف بہت دور اندیش سیاستداں ہیں۔ انہیں پتہ تھا کہ میڈیا کے بغیر ان کی کاغذی کشتی تیر نہیں سکتی اور ذرائع ابلاغ کا انجن رشوت کا ایندھن پی کر ڈوڑتا ہے ۔ اس لیے دولت ضروری ہے جو سرمایہ دار کے بغیرنا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گوتم اڈانی کو امریکہ سےاسرائیل اورچین سے آسٹریلیا تک نہ جانے کتنے ممالک میں سائے کی مانند ان کے پیچھے لگے رہے۔ اڈانی چونکہ شیئر بازار کے کھلاڑی اس لیے وزیر اعظم کو پتہ تھا کہ وہیں ان کی کشتی طوفان سے ہچکولے کھائے گی؟ اس لیے حصص بازار میں ان کے تحفظ کی پیش بندی بھی 2015سے شروع ہوگئی ۔ شیئر بازار کی بدعنوانی پر نگاہ رکھنے والے ادارہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے اندر پہلی مرتبہ کسی نجی ادارے سے بلا کر مادھبی پوری بچ کا ایک رکن کی حیثیت سے تقررکیا گیا ۔ اس وقت کسی کے تصور خیال میں یہ بات نہیں تھی تمام سرکاری افسران کے درمیان آنے والی یہ پہلی رکن ایک دن سربراہ بن جائے گی لیکن 2022 میں وہ چمتکار بھی ہوگیا ۔ اس کے لیے وزیر اعظم کی دور اندیشی تعریف و تحسین کی مستحق ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر 2015میں غیر ملکی دوروں کا جنون سوار تھا ا ور وہ کناڈا بھی گئے تھے ۔ اس دورے کے موقع پر انہوں نےہندوستان اور کناڈا کی دوستی کو ریاضی کے ایک فارمولےکی مدد سےسمجھایا تھا ۔مودی جی نے کہا تھا 2 (a+b)= a2 +b2+2abہوجاتا ہے۔ یہ بتانے کے بعد انہوں نے سوال کیا تھا کہ یہ 2ab کہاں سے آتا ہے؟ پچھلے سال نجر قتل کے بعد ہندوستان اور کناڈا کے تعلقات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ وزیر اعظم ٹروڈو نے وہ منافع خالصتانیوں کے حوالے کردیا ۔ ریاضی کے اس فارمولے کو معیشت کی زبان میں سمجھیں تو اے کے ساتھ ہی لوگوں کا ذہن مودی جی کے قریبی دوست اڈانی اور امبانی جانب چلا گیا مگر بی کا مطلب کوئی نہیں سمجھ پایا کیونکہ محترمہ بُچ کی جانب کسی کا ذہن نہیں گیا۔ اس فارمولےa جمعb مربع کا مطلب بھی عوام کی سمجھ میں اس وقت آیا جب مودی کے آشیرواد سے اڈانی دنیا کے دوسرے نمبر پر سب سے امیر آدمی ہوگئے اور کورونا کے زمانے میں جبکہ غریبوں کی لاشیں گنگا میں تیر رہی تھیں موصوف کے مال و متاع میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔ اس طرح سب جان گئے حکومت کی سرپرستی سے سرمایہ کاروں کی دولت میں بیش بہا اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہ خود مربع بن جاتے ہیں اور سرکار کو اضافی 2ab دے کر خوش کردیتے ہیں ۔ بی جے پی اسی طرح دنیا کی امیر ترین سیاسی پارٹی بن گئی ہے۔
2022 میں راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا کے دوران اڈانی پر تنقید شروع کردی تو مودی جی سمجھ گئے کہ اب ’اڈانی کے اچھے دن جانے والے ہیں‘۔ یہی وجہ ہے کہ حفظِ ماتقدم کے طور پر مادھابی پوری بُچ کو ترقی دے کرسیبی کا سربراہ بنادیا گیا ۔ یہ حسن اتفاق ہے 26جنوری 2023 کو بھارت جوڑو یاترا کا سرینگر میں اختتام ہونا تھا اور اسی دن ہنڈن برگ نے اڈانی پر رپورٹ شائع کرکے راہل گاندھی کی خدمت میں بہترین تحفہ پیش کیا ۔ اپنی بھارت جوڑو یاترا کے بعد جب راہل گاندھی ایوان پارلیمان میں کہا کہ نوجوان ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ اڈانی کی مانند ترقی کیوں نہیں کرپاتے ؟ اس بات پر ایوان پارلیمان میں ہنگامہ ہوگیا ۔ اس کے بعد 2019؍میں راہل گاندھی کی کرناٹک میں کی جانے والی تقریر کے خلاف سورت کی نچلی عدالت میں مقدمہ چل پڑا۔ اس میں انہیں زیادہ سے زیادہ سزا دی گئی تاکہ ایوان پارلیمان کی رکنیت ختم کی جاسکے ۔ اس ظالمانہ فیصلے کی سیشن اور ہائی کورٹ نے توثیق کردی ۔ راہل گاندھی سے سرکاری گھر خالی کرالیا گیا مگر سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو الٹ کر ان کی رکنیت بحال کردی ۔
راہل گاندھی پر کی جانے والی یہ ساری کارروائی اڈانی کے مرہونِ منت تھی لیکن اس کے بعد بھی پھر سے ایوان میں اڈانی کے ساتھ مودی کی تصویر دکھلا کر یہ پیغام دیا کہ وہ ڈرنے والے نہیں لڑنے والوں میں سے ہیں ۔ رکنیت کی بحالی کے بعد بھی راہل گاندھی کے خلاف مودی سرکار کی کینہ پروری جاری رہی اور گزشتہ سال جون میں انہیں ای ڈی نے13سے 15 جون کے درمیان طلب کرکے 27گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی اور 21جون کو پھر سے بلایا لیکن ای ڈی اور سی بی آئی نے اڈانی یا ان کے کسی اہلکارکے خلاف ایک نگاہِ غلط ڈالنے کی جرأت نہیں کی ۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے کے بجائے مادھابی پوری بچ کی سیبی پر اعتماد ظاہر کیا ۔ اس کا فائدہ اٹھاکر مادھابی نے بھی حسبِ توقع اڈانی کو کلین چِٹ دے دی۔ مودی جی کی بیجا خود اعتمادی نے ان سے اتنی فاش غلطی کروادی۔ مادھابی کے بجائے کسی نسبتاً ایماندار سرکاری افسر سے تفتیش کروانے کے بعد کچھ علامتی اقدامات بھی ہوتے آج حالات مختلف ہوتے ۔اس طرح گویا مودی جی نے اصلاح حال کا نادر موقع گنوادیا۔
ہنڈن برگ دوسری رپورٹ بتارہی ہے کہ آخر سیبی نے اڈانی کے خلاف کوئی اقدام کیوں نہیں کیا ۔ اس رپورٹ میں ایسے شواہد پیش کیے گئے ہیں کہ جن کا انکار ناممکن ہے۔ فی الحال مودی سرکار بری طرح گھرِ چکی ہے لیکن وہ نہ تو مادھابی کو برخواست کرنے کا خطرہ مول لےرہی ہے اور نہ اڈانی کے خلاف کارروائی کرنے کی جرأت کرپارہی ہے۔ اس لیے اب راہل گاندھی پر نشانہ سادھا جارہا ہے۔ 2؍اگست کو راہل گاندھی نے ایکس پر یہ پیغام لکھ کر سب کو چونکا دیا کہ ان کے ذرائع سے انہیں پتہ چلا ہے کہ ای ڈی ان پر ہاتھ ڈالنے والی ہے۔ اس کے بعد ایوان پارلیمان کا اجلاس تین دن قبل لپیٹ دیا گیا ۔ اس کےاگلے ہی روز ہنڈن برگ کا دھماکہ نے سرکار کی چولیں ہلادیں ۔ حصص بازار کے اندر آنے والے سیلاب میں اڈانی گروپ اور عام شیئر ہولڈرس کے ہزاروں کروڈ بہہ گئے۔ 12؍اگست کو ای ڈی کے ایک افسر راہل گاندھی کو دوبارہ بلائے جانے اور تفتیش کرنے منصوبے کا راز فاش کیا مگر راہل گاندھی کو خوفزدہ نہیں کرسکا ۔ 13؍اگست کو راہل نے سوال کیا کہ سیبی کی چیئرپرسن مادھابی پوری بوچ نے ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ سرمایہ کاراگر اپنی محنت سے کمائی کھو دیتے ہیں تو کون جوابدہ اور ذمہ دار ہوگا، وزیراعظم مودی، سیبی چیئرپرسن، یا گوتم اڈانی؟ کیا سپریم کورٹ پھر سےاس معاملے پر از خود غور کرے گا؟ وہ بولے وزیر اعظم مودی جے پی سی کی جانچ اس سے متوقع انکشافات سے خوفزدہ ہیں ۔ ہنڈن برگ کی رپورٹ نے ثابت کردیا کہ ڈرا نے والا خود خوفزدہ ہے۔ ایسے میں گبرّ سنگھ کا مکالمہ ’جوڈرگیا وہ مرگیا‘ یاد آتا ہے۔ اڈانی اور مودی کے تعلقات پر اب یہ شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
ساتھ ہوتی تھی کبھی امریکہ و یوروپ کی سیر
اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...