Skip to content
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، شعبہ خواتین کے اصلاح معاشرہ پروگرام کے تحت جاری آسان مسنون نکاح مہم کی ریاستی کنوینر، ڈاکٹر رفعت سیما صدر جامعہ مکارم الاخلاق کا خطاب۔
حیدرآباد،15اگسٹ( پریس ریلیز)
نکاح ایک ایسی عبادت ہے جس کا آغاز حضرت آدم اور حوا علیھما السلام کے نکاح کے ذریعہ جنت سے ہوا۔ اور یہ تمام انبیاء کی سنت رہی ہے ۔ہم اپنے شادی کے رقعوں میں بھی اس سنت کا اور برکت کا ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی نکاح کو بے برکت بنانے کے وہ سارے امور انجام دیتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں یعنی ہم نے جہیز، لین دین اور گھوڑے جوڑے کی رسموں کے ذریعہ نکاح کو مشکل سے مشکل ترین بنا دیا ہے۔
س ای کالونی باغ عنبریٹ میں ،14/اگست کو منعقدہ خواتین کے ایک جلسے سے ڈاکٹر رفعت سیما، صدر جامعہ مکارم الاخلاق مخاطب تھیں، جو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، شعبہ خواتین کےاصلاح معاشرہ پروگرام کے تحت جاری آسان مسنون نکاح مہم کی تلنگانہ کنوینر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہیز کا مطالبہ ہو یا شادی کے رسوم و رواج، وہ خواتین کے ذریعہ ہی انجام پاتے ہیں اس طرح خواتین کا یہ عمل خود انکی اپنی صنف کے خلاف معاشرتی بحران کا سبب بنتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے نکاح مشکل ہوگیا ہے اور فواحش کی کثرت ہوگئی ہے ، لڑکیوں میں ارتداد کا فتنہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ان حالات میں خواتین کو مسلم معاشرے کی اصلاح کے لئے آگے آنا اور آسان نکاح مہم کا حصہ بننا چاہئے۔تاکہ ہمارے خاندان کی جڑیں مسنون نکاح کی برکتوں سے مضبوط بن سکیں۔
اس پروگرام میں خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی اور آنلائن بھی خواتین شامل تھیں۔ پروگرام کی آرگنائزر، محترمہ حسنئ بیگم صاحبہ، نے احادیث کے حوالے سے خواتین کو انکی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور اپنے گھروں کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ۔ محترمہ ثناء انجم نے نعت پیش کی اور محترمہ عفت عائشہ صاحبہ کی دعا پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔۔
Like this:
Like Loading...