Skip to content
ظریفانہ:بنگلہ دیشی، بھائی یا قصائی؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن سنگھ نے کلن مشرا سے کہا یار اتنا کچھ ہونے کے باوجودیومِ آزادی کے موقع پرہمارے پردھان جی نے بنگلہ دیش کی بابت کتنی اچھی باتیں کیں۔
کلن نے سوال کیا اتنا کچھ والی بات میں نہیں سمجھا ؟
للن بولا بھیا وہاں اپنے ہندو بھائی بہنوں پر اتنا ظلم ہورہا ہے۔ ہماری چہیتی حسینہ کواقتدار سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ پھر بھی پردھان جی نے ۰۰۰
لیکن یار وہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے جس حسینہ کو اپنے یہاں سے بھگایا ہم نے اسے پناہ دے کر وہاں کی عوام کو ناراض کردیا۔
ہاں پناہ دی تو دی لیکن یار یہ بتاو کہ بنگلہ دیشی ہمارے پردھان جی سے ڈرتے کیوں نہیں ہیں ؟
کلن نے پوچھا وہ کیوں ڈریں ان کاہمارے پردھان سے کیا لینا دینا ۔
ارے بھائی ہم ان کے بڑے بھائی جیسے ہیں اس کا تو خیال رکھنا چاہیے ۔
دیکھو للن ہمارے کہنے سے کیا ہوتا ہے ۔ ہم ان کےنزدیک بھائی ہیں یا قصائی اس کا فیصلہ ہم نہیں وہ کریں گے ۔
للن نے بگڑ کر پوچھا کہ وہ ہمیں قصائی کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟
ہمارے وزیر داخلہ اگر بنگلہ دیشیوں کو بھوکا ننگا اور جونک کہہ سکتے ہیں تو وہ بھی جو چاہیں سمجھ سکتے ہیں۔
جی ہاں عام لوگوں کو تو اس دنیا میں سوچنے سمجھنے کی آزادی ہے۔لیکن ہم تو نہ کچھ سوچتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں ۔
کلن نے کہاجی ہاں بھائی میں بھول گیا تھا ۔ ہم تو بس سنتے ہیں او ر آنکھ موند کر مان لیتے ہیں۔ چلو غلطی ہوگئی معافی چاہتا ہوں ۔
للن خوش ہوکر بولا چلو تم نے مان لیا تو میں نے بھی معاف کردیا لیکن یہ بتاو کہ احسانمندی بھی تو کوئی چیز ہے ۔ ہماری وجہ سے ہی وہ آزاد ہوئے ۔
جی ہاں للن لیکن وہ حسینہ سے نجات کو اپنی دوسرے آزادی مانتے ہیں اور یہ انہوں نے ہماری مرضی کےخلاف حاصل کی ہے اس لیے احسان ختم ۔
ہماری مرضی کے خلاف والی منطق سمجھ میں نہیں آئی ۔ کھول کر بتاو ۔
ارے بھیا شیخ حسینہ کے ساتھ حکومتِ ہند اور مودی جی کے گہرے تعلقات جگ ظاہر ہیں ۔
دیکھو یار ہمارے تو سارے پڑوسیوں سے ایسے ہی تعلقات ہیں۔ ہم لوگ ’وسو دھیو کٹمبکم‘ یعنی ساری دنیا کو ایک کنبہ ماننے والے لوگ ہیں ۔
جی ہاں مجھے پتہ ہے۔ وزیر اعظم نے یوم آزادی کی تقریر میں پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کی بات کہی ہے۔ اچھا یہ بتاو کہ پاکستان بھی ہمارا پڑوسی ہے یا نہیں ؟
کیوں نہیں ضرور ہے۔ اس حقیقت کا انکار کیونکر ممکن ہے ۔ وزیر اعظم بن بلائے وہاں جاچکے ہیں اور کیا چاہیے ؟
چلو مان لیا مگر نواز شریف کے بعد کیا کسی پاکستانی وزیر اعظم کو یہاں بلایا گیا ؟
جی نہیں لیکن اس کا بنگلہ دیش سے کیا تعلق ؟
شیخ حسینہ اس سال ۷ ماہ میں پانچویں بار دہلی آئی ہیں ؟
کیا بکتے ہو! یقین نہیں ہوتا ۔
جی ہاں چوتھی بار منتخب ہونے کے بعد پہلا دورہ ہندوستان کیا ۔ وزیر اعظم کی حلف برداری میں شرکت کے بعد پہلی غیر ملکی مہمان وہی تھیں ۔
بھائی میرے سیدھے سوال کو تم اِدھر اُدھر گھما دیتے ہو ۔ یہ بتاو کہ کیا وہ ہمارے پڑوسی نہیں ہیں ؟ اگر ہیں تو انہیں ہم سے ڈرنا چاہیے؟
جیسے وہ پڑوسی ہیں، ہم بھی تو ان کے پڑوسی ہیں ؟ کیا ہم ان کے وزیر اعظم سے ڈرتے ہیں۔
ارے بھائی سمجھتے کیوں نہیں ۔ بنگلہ دیش کے مقابلے ہندوستان بڑا ہم سایہ ملک ہے ۔ اس کا پاس و لحاظ ہونا چاہیے ۔
کلن نے کہا اگر یہ بات ہے تو چین بھی ہم سے بڑا اور طاقتور پڑوسی ہے کیا ہمیں بھی اس ڈرنا چاہیے ؟ اور آج کل مالدیپ بھی ہم سے نہیں ڈرتا ۔
کیا بکتے ہوئے کلن ! مالدیپ اور چین کی مثال مت دو ہمارے چھپنّ انچ کی چھاتی والےپردھان وشو گرو ہیں۔ کوئی اور ان کی برابری نہیں کرسکتا؟
جی ہاں میں مانتا ہوں لیکن پھر بھی آج کل ان سے نہ راہل گاندھی ڈرتا ہے اور نہ یوگی بابا ڈرتے ہیں ۔ہر کوئی انہیں آنکھ دکھاتا ہے۔
للن نے کہا ہاں یار بجٹ میں چندرا بابو اور نتیش کمار خزانہ لوٹ کر لے گئے اور ہمارے وزرائے اعلیٰ کو جھنجھنا پکڑا دیا گیا ۔
بھائی دیکھو سارے کمل چھاپ وزرائے اعلیٰ پردھان جی کے مرہونِ منت ہیں مگر ان دونوں کی بیساکی پر ہماری سرکار ٹکی ہوئی ہے۔
ہاں یار اب تو چندرا بابو نائیڈو اور چراغ پاسوان نے دباو ڈال مسلم وقف بل کو بھی ٹھنڈے بستے میں ڈلوا دیا۔ قسم سے مجھے بہت غصہ آیا۔
کلن بولا بھیا یہ مخلوط حکومت ہے۔ اس میں اگر اپنے پارٹنرس کا خیال نہیں رکھا گیا تو سرکار گرجائے گی ۔ کیا کریں یہ مضبوط نہیں مجبور سرکارہے۔
للن نےکہا لیکن اب یوگی نےموضوع بدل دیا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے ہندووں اور وہاں پر مندروں کا تحفظ کاراگ چھیڑ دیا ہے۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ پنکج چودھری نامی بدمعاش نے پہلے بنگلہ دیشیوں کو سزا دینے دھمکی دی اور پھر اپنے ملک کےمسلمانوں پر حملہ کردیا ۔
اچھا کون ہے پنکج چودھری؟ جس نے اتنے جلدی باباجی کے آدیش پر عمل کردکھایا؟
ارے ایک ہسٹری شیٹر ہے جس پر ایک درجن مقدمات درج ہیں ۔ اس نے غریبوں پر حملہ کیا اس بار اس پر این یس اے لگے گا۔
کیا بات کرتے ہو میں تو سمجھتا تھا کہ بابا جی اس کو شاباشی دیں گے اور وہ این ایس اے کیا صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے؟
جی نہیں وہ ہے تو سب کے لیے مگر لگتا صرف مسلمانوں پر ہے لیکن اس بار پنکج پر لگے گا،
ایسا کیوں ؟ اس بیچارے کا کیا قصور؟
ارے بنگلہ دیش کی بھگوڑی کو پردھان جی نے یوپی میں پناہ دے رکھی ہے۔اب اگر یہ لوگ ہنڈون ائیر بیس پر حملہ کردیں تو مشکل ہوجائے گی
للن بولا لیکن یوگی ایسا نہیں کرنے دیں گے ۔ شیخ حسینہ تو پردھان جی کی خاص مہمان ہیں۔
جمن نے پوچھا اچھا اگر ایسا ہے تو پردھان جی اپنے خاص مہمان کا خیر مقدم کرنے کے لیے سرخ قالین بچھواکر ہوائی اڈے کیوں نہیں گئے ؟
للن نے کہا ارے بھائی اب شیخ حسینہ واجد وزیر اعظم تھوڑی نا ہیں۔
جمن نے پھر سوال کیا کہ اس برے وقت میں اگر پردھان جی ان سے ملنے نہ جائیں یا اپنے محل میں نہ بلائیں تو کس کام کی دوستی؟
للن موضوع بدلتے ہوئے بولا لیکن بابا جی کو دیکھو انہوں نے کھلے عام بنگلا دیش کے مصیبت زدہ اقلیتوں یعنی ہندووں کی حمایت کا اعلان کردیا ۔
جمن نے کہا وہ تو ٹھیک ہے مگر جو شخص دن رات اپنی ہی مسلمان اقلیت کی دلآزاری کرتا ہو اس کی نصیحت کا بنگلہ دیشیوں پر کیا اثر پڑے گا ؟
للن بولا باباجی بنگلا دیشی ہندووں کی خاطر پورے سناتن سماج کو متحد کرنے کی بات کررہے ہیں ۔
جمن نے کہا بھیا جب ننھا سا سنگھ پریوار متحد نہیں ہوسکا تو پورا سماج کیسے ہوگا؟ یوگی ہندووں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں مگر شاہ جی سرحد بند کررہے ہیں ۔
ارے بھائی وہ مسلمان گھس پیٹھیوں کو روکنے کے لیے ایسا کررہے ہوں گے ؟
جمن نے کہا لیکن اگر وہاں مسلم نواز حکومت آرہی ہے تو مسلمان کیوں بھاگیں گے؟ خالدہ ضیاء کے ڈر سے ہندو ہی توبھاگیں گے نا؟
کلن نے کہا جی ہاں تب تو ہمیں اپنی سرحد کھول دینا چاہیے ۔
للن بولا جی ہاں سی اے اےتحت تو مظلوم ہندووں کو پناہ دینا شاہ جی کی ذمہ داری ہے۔
جمن نے جواب دیا سرکار نے تو ہندو بھائیوں کے لیے سرحد بند کرکے شیخ حسینہ کو بلا لیا ۔ اس طرح سی اے اے کی ہنڈیا بیچ بازار میں پھوٹ گئی۔
ہاں سمجھ گیا آج کل بنگلہ دیش کے احسان فراموش طلبا یہی سب کررہے ہیں ۔
کلن نے سوال کیا یہی سب کررہے ہیں ؟ کیا مطلب؟؟ میں نہیں سمجھا ؟؟؟
یہی کہ انہوں نے ہندوستانی سرکار کی وہ یادگار توڑ دی جس میں پاکستانی جنرل نیازی کو ہندوستانی جنرل اروڑہ کے ساتھ دستخط کرتے دکھایا گیا تھا۔
ارے تو ٹھیک ہے نا؟ اس میں بنگلہ دیشی جنرل تو تھا نہیں۔ پاکستان اور ہندوستانی جرنیلوں سے ان کا کیا لینا دینا ؟
للن نے کہا ارے بھائی ان کا نہیں ہمارا لینا دینا تو ہے ۔
کیوں تم کو اس سے کیا ہمدردی ؟
بھئی دیکھو ان مجسمات کے ذریعہ ہم بنگلہ دیشیوں کو پاکستان کی شکست اور اپنی فتح دکھایا کرتے تھے ۔
ارے بھائی تب تو وہ مجسمات ہندوستان میں ہونے چاہئیں ۔ ہندوستان کی فتح سے بنگلہ دیشیوں کا کیا لینا دینا ؟
للن بولا ارے بھیا اس فتح کا تعلق بنگلہ دیش کی آزادی سے تھا۔
یار یہ بتاو کہ 1947 میں پاکستان الگ ہوکر نیا ملک بنا یا اس نے ہندوستان سے آزادی حاصل کی ؟
کاہے کی آزادی ۔ 1947 میں ایک بدترین سانحہ پیش آیا جس نے ہندوستان کو تقسیم کردیا ۔
جی ہاں اور 1971 میں دوسرا سانحہ نے پاکستان کو تقسیم کردیا ۔ اب اگر پاکستان کا بننا آزادی نہیں ہے تو بنگلہ دیش کا وجود میں آنا آزادی کیسے ہوگیا؟
للن بولا چلو مان لیا آزادی نہیں تھی مگر اس میں ہمارا بہت بڑا فائدہ تھا ۔
اچھا وہ کیا ؟
وہ مجسمہ دکھا کر ہم بنگلہ دیشیوں کے دل میں پاکستان کے تئیں نفرت بھڑکاتے تھے ۔
کلن نے کہا یعنی اب وہ نفرت کا کاروبار بند ہوجائے گا ؟ تو اس میں کیا برا ہے؟؟ نفرت تو ختم ہی ہونی چاہیے ؟؟؟
ارے بیوقوف کلن سمجھتے کیوں نہیں ؟ ان مجسمات کے ذریعہ ہم بنگلہ دیشیوں پر اپنا احسان جتاتے تھے ۔ اب وہ کیسے کریں گے ؟
بھیا لوگوں کو علامتی باتوں سے بہلانےکے بجائے ان کی ٹھوس مدد کریں گے تو وہ ہمیں قصائی نہیں بلکہ اپنا بھائی سمجھیں گے۔
Like this:
Like Loading...