Skip to content
جارِحانَہ ثَقافَتی قَوْم پَرَسْتی: ایک عالَمی تَناظُر
ازقلم:مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
09422724040
ثقافتوں کو باندھ کے زنجیر قوم پرستی میں
نفرت کے سوداگروں نے کیا حال برا کر دیا
فریڈرک نطشے کہتا ہے، ”ثقافتی قوم پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان انسانیت کو تقسیم کرتا ہے اور مختلف ثقافتوں اور قوموں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیتا ہے”۔ جارحانہ ثقافتی قوم پرستی ایک ایسی قوم پرستی کی شکل ہے جس میں کسی خاص قوم یا نسلی گروہ کی ثقافتی شناخت، اقدار، روایات، اور زبان کو فروغ دینے اور اکثر مسلط کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ قوم پرستی جارحانہ تب بن جاتی ہے جب یہ دیگر ثقافتوں پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے، چاہے وہ قوم کے اندر ہوں یا بین الاقوامی سطح پر۔ اس کی عام خصوصیات یہ ہوتی ہیں۔ جارحانہ ثقافتی قوم پرستی سماجی تقسیم، زینو فوبیا (غیر ملکیوں کا خوف یا نفرت)، اور قوموں کے اندر اور ان کے درمیان تنازعات کا سبب بنتی ہے۔ یہ زیادہ جامع قوم پرستی کی شکلوں کے برعکس ہے جو ثقافتی تنوع اور بقائے باہمی کو قبول کرتی ہیں۔ ملک میں جارحانہ ثقافتی قوم پرستی ایک ایسا مظہر ہے جہاں ایک مخصوص ثقافتی شناخت، جو اکثر ہندومت سے منسلک ہوتی ہے، کو فروغ دینے اور کبھی کبھار مسلّط کرنے کی شدید کوشش کی جاتی ہے۔ یہ قوم پرستی مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے اور اس کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی اہم ہوتے ہیں۔
جارحانہ ثقافتی قوم پرستی ایک ایسی نظریاتی اور عملی تحریک ہے جو کسی قوم یا ثقافت کو دیگر ثقافتوں اور اقوام پر برتر سمجھتی ہے اور اس برتری کو جارحانہ طریقے سے فروغ دیتی ہے۔ اس میں اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے، اس کی تشہیر کرنے، اور اسے دیگر ثقافتوں پر مسلّط کرنے کی کوشش شامل ہوتی ہے۔ یہ تحریک بعض اوقات تعصب، نفرت، اور عدم رواداری کی صورت اختیار کر سکتی ہے اور دیگر ثقافتوں کو کمتر یا خطرہ سمجھ کر ان کے خلاف عملی اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ جارج اورویل کا کہنا ہے کہ ”قوم پرستی خود کو عظیم بناتی ہے، مگر اس کی عظمت اکثر دوسرے لوگوں کی تضحیک پر مبنی ہوتی ہے”۔ اس میں شامل عناصر میں زبان، روایات، تاریخ، مذہب، اور دیگر ثقافتی عناصر کی حفاظت اور ان کی بالادستی کو یقینی بنانا شامل ہوتا ہے۔ جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کی شدّت اور طریقے سے دیگر ثقافتوں اور اقوام کے ساتھ تنازعات اور فتنہ و فساد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک تعصب اور نفرت کا فروغ ہے۔ اس نظریے کے تحت، مختلف قومیتوں اور ثقافتوں کے خلاف ایک خاص نوعیت کا عدم برداشت اور تعصب پیدا کیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے حامی اپنی قوم یا ثقافت کو دوسروں کے مقابلے میں برتر قرار دیتے ہیں اور اس برتری کو ہر سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جارحانہ ثقافتی قوم پرستی میں اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کی حفاظت اور ان کو دیگر تمام ثقافتوں سے بلند و بالا دکھانے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس کے علمبرداروں کا بنیادی مقصد اپنی ثقافت کو دنیا کے دیگر حصوں سے الگ تھلگ رکھنا اور اسے ہر معاملے میں برتری کا نشان بنانا ہوتا ہے۔ اس نظریے کی تشہیر میں اپنی ثقافتی معیارات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، اور دوسروں کو ان معیارات کو قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس قسم کی قوم پرستی سیاسی استحکام اور داخلی و خارجی سیاست میں اپنی قوم یا ثقافت کو مضبوط بنانے کی خواہش کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں قومی سطح پر ایک مضبوط اور جارحانہ رویہ اپنایا جاتا ہے۔
نفرت کے بادلوں میں جب تعصب کی ہوا چلی
قوم پرستی کے نام پر انسانیت کی بساط لٹ گئی
جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کی تاریخ اور ارتقاء کا تجزیہ کرتے وقت، کچھ کلیدی مواقع اور حوادث نمایاں ہیں جن کی بدولت یہ تحریک ترقی پذیر ہوئی۔ 19؍ویں صدی میں صنعتی انقلاب کے دوران مختلف ممالک میں معاشی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جس کے نتیجے میں قوم پرستی کی فکری تحریکیں بڑھنے لگیں۔ صنعتی ترقی نے معاشرتی ڈھانچے کو تبدیل کیا، جس سے معاشرتی طبقے اور قومی شناخت پر مبنی شعور میں اضافہ ہوا۔ صنعتی دور کی بڑھتی ہوئی جدوجہد کے ساتھ ہی مختلف قوموں نے اپنی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے اور اسے ترقی دینے کی کوششیں شروع کیں، جس سے جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کو فروغ ملا۔
20؍ویں صدی کے اوائل میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد، نئے ممالک کی تشکیل اور قومی خودمختاری کی تحریکوں کے دوران جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کی سوچ کو تقویت ملی۔ خاص طور پر ان خطوں میں جہاں مختلف قومیتیں یا ثقافتی گروہ بڑی تعداد میں موجود تھے، ان کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی خواہش کے ساتھ یہ تحریکیں مزید عروج پر پہنچیں۔ مثال کے طور پر، دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی جرمنی کی قوم پرستی اور اتحاد نے جارحانہ قوم پرستی کی ایک انتہائی شکل پیش کی، جس نے دنیا بھر میں اس نظریے کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ معاشی تناؤ، زمین کے تنازعات، اور مختلف عوامی مسائل بھی جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے ارتقاء میں اہم رہے ہیں۔ جیسے 1930ء کی دہائی میں عالمی معاشی بحران نے جرمنی میں نازی ازم کو تقویت بخشی، ویسے ہی دیگر ممالک میں بھی معاشی بحرانوں اور سماجی تناؤ نے قوم پرستی کو ہوا دی۔ اس کے نتیجے میں، لوگوں نے اپنی شناخت اور ثقافت کے تحفّظ کے لیے جارحانہ قوم پرستی کی تحریکوں کو قبول کیا۔
21؍ویں صدی میں انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ثقافتی تبادلے اور تشہیر کا نیا دور شروع ہوا۔ اس سے جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کی تحریکیں آن لائن پلیٹ فارمز پر منتقل ہوئیں، جہاں ان کے پیغامات کو زیادہ وسیع اور مؤثر طریقے سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ نے ان تحریکوں کے پھیلاؤ اور شدت کو ایک نئی جہت دی، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصّوں میں یہ نظریے مزید پھیلتے گئے۔ جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کا ارتقاء تاریخی، سماجی، معاشی، اور تکنیکی عوامل کے تحت ہوا۔
ان تحریکوں کا آغاز صنعتی دور میں ہوا، اور بعد کی عالمی جنگوں، معاشی بحرانوں، اور جدید ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ نے ان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آج یہ تحریکیں عالمی سطح پر جاری ہیں اور مختلف سیاسی، سماجی، اور ثقافتی منظر ناموں پر گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔ پروفیسر آمریتا سین کہتی ہیں ”ثقافتی قوم پرستی اس وقت خطرناک ہو جاتی ہے جب یہ معاشرتی ہم آہنگی اور انسانی حقوق کی قیمت پر قومیت کو بڑھاوا دیتی ہے”۔
یہ تحریکیں مختلف مواقع پر ابھرتی ہیں، اور مختلف ثقافتی، مذہبی، اور قومیتی تنازعات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ ملک میں جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے چند نمایاں پہلوؤں کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ملک میں ہندو مسلم تنازعات صدیوں پرانے ہیں اور اکثر جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ یہ تنازعات مغلیہ دور سے شروع ہو کر برطانوی استعمار کے دوران مزید پیچیدہ ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہوا، اور موجودہ دور میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور تعصب کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ جارحانہ قوم پرست عناصر مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر نفرت اور تشدّد کو فروغ دیتے ہیں، جس سے سماج میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے کو بھی جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ قوم پرست گروہ انہیں غیر قانونی مہاجرین تصور کرتے ہیں اور ان کے خلاف بے رحمانہ اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ انسانی حقوق کے لحاظ سے بھی حسّاس ہے، اور ملک میں مہاجرین کے خلاف نفرت اور تعصب کے رجحان کو فروغ دیتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت ایک اور اہم واقعہ ہے جو بھارت میں جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کا واضح اظہار ہے۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت نے ملک بھر میں فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔ اس واقعے نے ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان گہری دراڑ پیدا کی اور بھارت میں قوم پرستی کے جذبات کو مزید تقویت دی۔
ملکی حالات بتا رہے ہیں کہ ہندوتوا اور ملکی جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے درمیان تعلقات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اس تصور کی بنیاد پر ہندو مذہب، ثقافت، اور ورثے کو ملک کی قومی شناخت کا مرکزی جزو قرار دیا جاتا ہے۔ ہندوتوا کا فلسفہ، اس کی ابتدائی تشریح اور بنیادیں وینایک دامودر ساورکر نے 1920ء کی دہائی میں پیش کیا تھا، ساورکر نے اپنی کتاب ”ہندوتوا: ہُو اِز اے ہندو؟” میں ہندوتوا کے اصول اور اغراض و مقاصد کو تفصیل سے بیان کیا۔ ساورکر کا مقصد ہندوؤں کو ایک قوم کے طور پر منظم کرنا تھا۔ اس نظریہ کا بنیادی مقصد ملک کو ایک ہندو راشٹر بنانا ہے، جہاں ہندو ثقافت، رسوم و رواج اور تاریخ کو مرکزی مقام حاصل ہو۔ اس نظریے کے مطابق، ملک میں رہنے والے دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کو یا تو ہندو ثقافت میں ضم ہونا چاہئے یا پھر انہیں دوسرے درجے کے شہری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ہندو راشٹر کے نظریے کا پرچار کرنے والی ایک تنظیم ہے جس کی بنیاد 1925ء میں کے بی ہیڈگیوار نے رکھی تھی۔ اس تنظیم نے بعد میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو جنم دیا جو ہندوتوا کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہندوتوا کا نظریہ موجودہ بھارتی سیاسی منظر نامے میں بھی خاصہ اہم ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوتوا کو اپنی سیاست کا اہم حصّہ بنایا ہے اور موجودہ حکومتوں میں اس نظریے کے اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ بی جے پی ہندوتوا کے فلسفے کو سیاسی سطح پر فروغ دینے والی جماعت ہے۔ بی جے پی کا قیام 1980ء میں ہوا اور اس نے ہندوتوا کے نظریے کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا مرکزی نقطہ بنایا۔ بی جے پی ہندو قومیت کو فروغ دینے کے لیے ہندو مذہبی اور ثقافتی علامات کا استعمال کرتی ہے، اور غیر ہندو طبقوں کے مقابلے میں ہندو شناخت کو فوقیت دینے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ تصور انتہائی متعصبانہ اور جارحانہ ثقافتی اقدامات کا باعث بنتا ہے، جس سے دوسری ثقافتوں کے لوگ نفرت اور انتہا پسندی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس فلسفے کے تحت، غیر ہندو طبقات، خصوصاً مسلمان اور عیسائی، کو ملک کی قومی شناخت سے الگ یا مخالف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہندوتوا کا تصور ملکی شناخت کو ہندو ورثے اور روایات کے تناظر میں بیان کرتا ہے، جس سے غیر ہندو طبقوں کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے یا انہیں دوسرے درجے کے شہری تصور کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت، ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر اقلیتوں کو قومی شناخت کے دائرے میں شامل کرنے کی بجائے انہیں اس سے باہر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہندوتوا کا فلسفہ ہندو قومیت اور ثقافتی برتری پر زور دیتا ہے، آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی تنظیمیں اس فلسفے کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں جارحانہ قوم پرستی کی تحریکیں پروان چڑھتی ہیں، اور غیر ہندو طبقات کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح ہندوتوا، ملکی قوم پرستی کا ایک خاص نظریاتی رنگ بن گیا ہے۔ ہندوتوا کے نظریے کو مختلف حلقوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ ملک کی شناخت اور اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نظریے کی بنیاد پر دیگر مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے حقوق اور ان کے وجود کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
جارحانہ ثقافتی قوم پرستی واقعی مذہبی اقلیتوں کے تئیں عدم برداشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب کسی قوم میں ثقافتی قوم پرستی کی جارحانہ شکل پروان چڑھتی ہے تو وہ اکثر اقلیتوں کی ثقافت، مذہب، اور روایات کو ملک کی اکثریتی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں، اقلیتوں کے حقوق اور ان کی شناخت کو دبانے کی کوششیں سامنے آتی ہیں، جن میں فرقہ وارانہ تشدّد، امتیاز، اور زبردستی مذہب تبدیلی جیسے واقعات شامل ہیں۔ ”گھر واپسی” جیسی مہمات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کس طرح جارحانہ ثقافتی قوم پرستی، مذہبی اقلیتوں کو اکثریتی مذہب میں ضم کرنے کی کوشش کرتی ہے، جو کہ ان کی آزادی اور شناخت کے لیے خطرہ بنتی ہے۔ مذہبی اور ثقافتی عدم برداشت اسی بنیاد پر پروان چڑھتی ہے کہ وہ مختلف مذہبی اور ثقافتی گروہوں کے درمیان اختلافات کو بڑھاوا دیتی ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی اور امن کو نقصان پہنچتا ہے۔ مجموعی طور پر، جارحانہ ثقافتی قوم پرستی اور مذہبی و ثقافتی عدم برداشت کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے، اور یہ دونوں عوامل مختلف معاشروں میں تناؤ اور تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔
گزشتہ سال ملک میں جارحانہ ثقافتی قوم پرست ایجنڈے کے فروغ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متعدد ممتاز بھارتی شخصیات، جن میں ادیب، فنکار، اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ شامل تھے، نے اپنے قومی ایوارڈز واپس کیے۔ ان افراد نے یہ قدم ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، اقلیتوں کے خلاف تشدّد، اور قوم پرستی کے نام پر نفرت انگیزی کے خلاف احتجاجاً اٹھایا۔ اس احتجاج کا اثر اتنا گہرا تھا کہ ایک مشہور مسلم اداکار، نے اس وقت کے ماحول کو دیکھتے ہوئے ایک بیان دیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ بیان ملک میں عدم تحفّظ کے احساس کی عکاسی کرتا تھا، اور اس نے ملک بھر میں ایک بڑے بحث و مباحثے کو جنم دیا۔ یہ احتجاج ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی اور سیاسی تقسیم پر اظہارِ تشویش تھا، جس کے تحت مختلف طبقات کے لوگ اپنے تحفّظ اور حقوق کے بارے میں فکرمند نظر آئے۔
قوم پرستی کی آگ میں جلتے ہیں رشتے سارے
نفرت کی ہوا سے بجھ نہ پائے چراغ ہمارے
جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے پس منظر میں اقلیتی گروہوں کے خلاف عدم برداشت اور ظلم کی مثالیں عالمی سطح پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ فلسطین میں، جارحانہ صہیونی قوم پرستی نے فلسطینی مسلمانوں کے حقوق کو دبانے کے لیے سنگین اقدامات کیے ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کو جبری بے دخلی، زمینوں پر قبضہ، اور بے شمار مظالم کا سامنا ہے، جن میں بے رحمانہ حملے، قتل عام، اور فرقہ وارانہ تشدّد شامل ہیں۔ اس تنازعے کی جڑ میں صہیونی قوم پرست نظریہ ہے، جو فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ان کی آزادی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
برما (میانمار) میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بھی اسی قسم کی وحشیانہ اور غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو نہ صرف ان کی قومیت سے محروم کیا گیا ہے بلکہ انہیں منظم تشدّد، قتل عام، اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میانمار کی حکومت اور قوم پرست بدھسٹ گروہوں کی جانب سے ان کے خلاف کی جانے والی زیادتیاں عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے طور پر تسلیم کی گئی ہیں۔ یہ مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جارحانہ ثقافتی قوم پرستی مختلف ممالک میں اقلیتی گروہوں کے خلاف عدم برداشت اور ظلم کو فروغ دے سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں۔
وہ اہم اقدامات جن کے ذریعے جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں تعلیم اور شعور کو فروغ دیں تاکہ لوگ مختلف ثقافتوں اور مذہبی عقائد کی اہمیت اور تنوع کو سمجھ سکیں۔ مختلف ثقافتوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جائے، تاکہ غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے اور باہمی احترام پیدا ہو۔ ایسے قوانین بنانے چاہئیں جو نسلی، مذہبی اور ثقافتی امتیاز کے خلاف سخت کارروائی کریں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفّظ کریں۔ میڈیا کو مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ نفرت اور تعصب پر مبنی مواد کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ سماجی تنظیموں، این جی اوز، اور سول سوسائٹی کو اس مسئلے کے خلاف عوامی سطح پر آگاہی اور شعور بیدار کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایسی قوم پرستی کی روش ہمیں بتاتی ہے کہ ثقافتی تنوع کو قبول کرنے کے بجائے، ہم تناؤ اور تنازعات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف سماجی تانے بانے میں دراڑیں آتی ہیں بلکہ عالمی امن و استحکام بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جارحانہ قوم پرستی کیسے سماجی انصاف، انسانی حقوق، اور بین الثقافتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔
قوم پرستی اکثر انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، کیونکہ یہ قومیت و تعصب کو زیادہ اہمیت دیتی ہے اور دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کرتی ہے۔ یاد رکھیں! انسانیت کی جڑیں گہری ہیں، کوئی قوم پرست ان کو کبھی کاٹ نہیں سکتا۔ کیونکہ
جس نے نفرت کی دیواریں قوم کے نام پر کھڑی کیں
وہ بھول گیا کہ انسانیت کی بنیادیں محبت میں رکھی گئیں
اسلام جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے خلاف واضح طور پر تعلیم دیتا ہے اور اس کے اثرات کو منفی قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں قوم پرستی، نسلی برتری، اور ثقافتی تعصب کے متعلق قرآن مجید کی سورۃ الحجرات آیت 13 میں فرمایا: ”اے لوگوں! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللّٰہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے”۔ اس آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نسلی یا ثقافتی برتری کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے جارحانہ ثقافتی قوم پرستی کے خلاف کئی اہم ارشادات فرمائے ہیں، جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام میں تمام انسانوں کو مساوی حقوق دئیے گئے ہیں۔رسول اللّٰہﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا: ”کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی گورے کو کالے پر، اور نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے، سوائے تقویٰ کے” (مسلم)۔ اس حدیث میں واضح طور پر ثقافتی قوم پرستی اور نسلی برتری کی نفی کی گئی ہے۔ اسلام قوم پرستی، نسلی برتری، اور تفرقہ بازی کے خلاف ایک واضح پیغام دیتا ہے۔ قومیت اور نسلی تعصب کی مذمّت کرتے ہوئے رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو قومیت کی بنا پر لوگوں کے درمیان تفرقہ ڈالے” (ابن ماجہ)۔
مَسْعُود مَحبُوب خان
ممبئی، انڈیا
masood.media4040@gmail.com
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...