Skip to content
وقف بورڈ ترمیمی بل معاملہ جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے وفد کی رکن پارلیمان سائوتھ ممبئی جناب اروند ساونت (شیو سینا) سے ملاقات مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں وقف امینڈ منٹ کی مخالفت کا مطالبہ
ممبئی 17؍اگست
بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت کی جانب سے وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیئے جانے کے بعد سے ہی ہنگامہ مچکا ہوا ہے ۔ ملک کی اقلیت بالخصوص مسلمان اور انصاف پسند طبقہ حکومت کی نیت پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ اپوزیشن کے سخت احتجاج کے بعد حکومت کو مجوزہ بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجنا پڑا۔
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ممبر اروند ساونت سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ایک وفد نے مولانا حلیم اللہ قاسمی( جنرل سیکریٹری) کی قیادت میں ملاقات کی اور انہیں وقف کی باریکیوں سے آگاہ کیا ۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے ممبر آف پارلیمنٹ کو وقف ترمیمی بل کو لیکر مسلمانوں کے جذبات اور اسلام میں وقف کی حیثیت اور اہمیت سے آگاہ کیا ۔
دوران ملاقات مولانا حلیم اللہ قاسمی نے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت کو بتایا کہ وقف کا مسئلہ خالص مذہبی اور دینی مسئلہ ہے ،وقف کی جو جائیدادہے وہ مسلمانوں کو نہ انگریزوں نے دی ہے اور نا ہی کسی سرکار نے دی ہے۔یہ ہمارے بزرگوں اور پرکھوں نے اپنے سماج کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے لئے وقف کی ہے اور وقف کی ہوئی جائیداد اللہ کی ملکیت ہو جاتی ہے ، اس کو خرچ کرنا وقف کرنے والے کے منشاءکے مطابق ضروری ہوتا ہے ۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزہد بتایا کہ ترمیمی بل میں چند باتیں بہت خطرناک ہے جیسے پہلے وقف کے مسائل وقف ٹریبونل میں چلتے تھے اور ٹریبونل کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاتا تھا لیکن اب ترمیمی بل کے مطابق اس کو کلکٹر کےپاس چیلنج کیا جائے گا اورکلکٹر کا فیصلہ آخری ہوگا۔ اس ترمیم کی وجہ سے کلکٹر راج نافذ ہوجائے گا جس کی وجہ سے انصاف نہیں ہوگا ۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ وقف ہمارا مذہبی معاملہ ہے ،لہٰذا ہمارے مذہبی معاملہ میں ہمارے کسی دوسرے دھرم کے بھائی کو داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔جیسے ہندو دھرم میں مندر ہوتے ہیں ،سکھوں میں چرچ ہوتے ہیں ، عیسائیوں کے گرودوارے ہوتے ہیں ،ان کی کمیٹیوں میں کسی دوسرے کو نہیں رکھا جاتا ،ایسے ہی وقف بورڈ میں کسی دوسرے دھرم کے بھائی کو نہیں رکھاجانا چاہئے۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے یہ بھی کہا کہ اب تک سرکاری گزٹ میں جو پراپرٹی وقف کے نام سے رجسٹرڈ ہے اس کو وقف کی پراپڑٹی ہی سمجھا جارہا تھا لیکن نئی ترمیمی بل میں اب اس کو کلکٹر کے پاس چیلنج کیا جا سکتا ہے اور چیلنج کی صورت میں وقف کے ثبوت وقف کے متولیوں کو پیش کرنے ہوں گے ، اس صورت میں 200/300 سال پرانی مسجدوں اور درگاہوں کے دستاویز کہاں سے لایا جائے گا ، ایسی صورت میں ظاہر سی بات ہے کہ کلکٹر کافیصلہ وقف کے خلاف ہی ہوگا۔
وقف پراپرٹی سے جو آ مدنی ہوگی،حکومت یہ چاہتی ہے کہ وہ اس کو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق اس کو خرچ کرے ،جس کو چاہے دے چاہے وہ مسلمان کو دے یا کسی دوسرے دھرم کے فرد کو دے ۔وہ اپنی مرضی چلانا چاہتی ہے ،گویا وقف بورڈکو پورے طور پر وہ اپنے کنٹرول میں لینا چاہتی ہے ۔اور بہانہ وہ یہ کر رہی ہے کہ وقف بورڈ میں بد عنوانی ہے ۔ حکومت بد عنوانی پر قابو کرنے کے بہانے وقف کو اپنے مکمل کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو شدید تشویش ہے ۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وقف ایکٹ 2013جس طرح تھا اس کو اسی طرح باقی رکھا جائے اس میں کسی قسم کی ایسی تبدیلی جو وقف کی حیثیت کو بدلے یا وقف میں خرد برد ہو ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے۔
اس موقع پر رکن پارلیمان نے جمعیۃ کے وفدکے مطالبات سے اتفاق کرتے ہوئےیہ یقین دلایا کہ وہ31؍رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں وقف کو لیکر مسلمانوں کے جو خدشات اور مطالبات ہیں انہیں پوری شدت کے ساتھ رکھا جائے گا ۔
وفد میں شریک جمعیۃعلماء کے ایڈوکیٹ انصار تنبولی سے انہو ں نے مزید کہا کہ وقف کی شقوں میں جو تبدیلی کی جارہی ہے ،1995 میں کیا تھی اور اب کیا تبدیلی کی جارہی ہے اور اس کے کیا نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں پوری وضاحت کے ساتھ لکھ کر آپ مجھے دیجئے۔
وفد کے شرکاء میں مولانا اشتیاق احمد قاسمی (نائب صدر جمعیۃعلماء مہاراشٹر)، مولانا عبد الوہاب قاسمی(صدر جمعیۃعلماء کوسہ ممبرا) ،مولانا شفیق الرحمٰن ندوی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کوسہ ممبرا)،سراج الدین خان ممبئی،حافظ نور الدین خان(بھیونڈی) وغیرہ شریک تھے۔
Like this:
Like Loading...