Skip to content
غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پانے والا ہے: بائیڈن
واشنگٹن،17اگست ( آئی این ایس انڈیا)
امریکی وزیر خارجہ جنگ بندی کے کسی معاہدے کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے لئے ہفتے کو اسرائیل جائیں گے۔دس ماہ کی خونریزی کے بعد غزہ میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پانے والا ہے، یہ بات امریکی صدر بائیڈن نے جمعے کے روز کہی۔انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی کوششوں کو سبو تاژ نہ کریں۔بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ مریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے تاکہ وہ اس امر کو اجاگر کریں کہ ایک جامع جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کا معاہدہ اب طے ہونے والا ہے اور یہ کہ کسی کو بھی خطے میں اس عمل کو سبو تاژ نہیں کرنا چاہیے۔
بلنکن ہفتے کو اسرائیل جا رہے ہیں۔بائیڈن نے کہا کہ بلنکن اسرائیل کی سیکیورٹی کی آہنی حمایت کا اعادہ کریں گے اور اس معاہدے کو طے کرانے کی بھر پور کوششوں کو جاری رکھیں گے۔بائیڈن نے کہا کہ سفارت کار انہیں باقاعدگی سے رپورٹ کریں گے۔جمعے کے روز ہی حماس نے کہا کہ اس نے قطر میں اسرائیلی مذاکرات کاروں کے ساتھ امریکہ کے پیش کیے گئے جنگ بندی کے منصوبے پر دو روز مذاکرات کے بعد نئی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ثالثوں نے کہا ہے کہ دوحہ میں دو روزہ مذاکرات سنجیدہ اور تعمیری تھے۔
ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اختلافات دور کرنے کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد اگلے ہفتے قاہرہ میں مذاکرات کے نئے مرحلے میں جلد کوئی معاہدہ طے کرنا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن جنگ بندی کے کسی معاہدے کے لیے بھر پور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کی غرض سے ہفتے کو اسرائیل جائیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ بلنکن خطے کے تمام فریقوں پر کشیدگی میں اضافے یا کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کی اہم ضرورت کو اجاگر کریں گے جو کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا عمل متاثر کر سکتی ہو۔مذاکرات کے اختتا م کے تھوڑی ہی دیر بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل، ثالثوں کی جانب سے حماس کو یرغمالوں کی رہائی کے کسی معاہدے سے انکار سے باز رکھنے سے متعلق کوششوں کو سراہتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ثالث اور امریکہ اسرائیل کے بنیادی اصولوں سے خوب واقف ہیں اور اسرائیل کو توقع ہے کہ ان کا دباؤ حماس کو 27 مئی کے اصولوں کو قبول کرنے پر آمادہ کر دے گا تاکہ معاہدے کی شرائط پر عمل در آمد ہو سکے۔ایک باخبر ذریعے نے اے ایف پی کو ان شرائط کے بارے میں بتایا ہے جن پر حماس نے اعتراض کیا ہے۔ ان میں اسرائیل کا مصر کی سرحد کے ساتھ واقع غزہ کے علاقے کے اندر برقرار رکھنا، اسرائیلی یرغمالوں کے لیے فلسطینی قیدیوں کے تبادلے پر اسرائیل کے ویٹو کا حق،اور کچھ قیدیوں کو غزہ واپس بھیجنے کی بجائے انہیں ملک بدر کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔
مصری،قطری اور امریکی ثالث اس ابتدائی لائحہ عمل کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا خاکہ ابتدائی طور پر صدر بائیڈن نے پیش کیا تھا اور جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی تجویز اسرائیل نے دی تھی۔ لیکن مہینوں کے مذاکرات اب تک کسی جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کی تفصیلات طے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حالیہ ہفتوں میں اسرائیل پر کسی جنگ بندی پر راضی ہونے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حماس کے عہدے دارو ں، کچھ تجزیہ کاروں اور اسرائیل میں مظاہرین نے نیتن یاہو پر جنگ کو طول دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایران میں 31 جولائی کو حماس کے سیاسی لیڈر اساعیل ہنیئہ کی حملے میں ہلاکت کے بعد سے، جس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا اور جو انتقامی دھمکیوں اور مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات کا باعث بنی، امریکہ غزہ میں جنگ بندی پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بائیڈن کے لائحہ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے ثالثوں پر زور دیا ہے کہ وہ حماس پر 27 مئی کے اصولوں پر دباؤ ڈالیں۔تاہم مغربی اتحادی اردن معاہدے کو مسدود کرنے کا براہ راست الزام اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔
Like this:
Like Loading...