Skip to content
کیا ایران نے اسرائیل کیخلاف انتقامی جوابی کارروائی مؤخر کر دی ہے؟
دبئی،17اگست ( آئی این ایس انڈیا)
غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے حوالے سے مذاکرات اگرچہ ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل پر حملے کے سلسلے میں ایرانی جواب کو مؤخر کر دیا ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق ایران اور حزب اللہ نے اپنے میزائل اور راکٹ یونٹوں کے حوالے سے چوکنا رہنے کی سطح کو کم کر دیا ہے۔ اس امر کی تصدیق پانچ اسرائیلی ذمے داران نے کی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مذکورہ ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے تہران میں حماس کے سربراہ کی ہلاکت کا انتقام لینے کے سلسلے میں اپنی جوابی کارروائی ملتوی کر دی ہے۔
اس التوا کا مقصد غزہ میں فائر بندی کی بات چیت کو موقع دینا اور اس حوالے سے وساطت کاروں کو اپنی کوششیں جاری رکھنے دینا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ایک اسرائیلی ذمے دار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس سمجھتی ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل دیکھنا چاہتا ہے کہ غزہ بات چیت میں کس نوعیت کی پیش رفت ہو گی۔جمعے کے روز اقوام متحدہ میں ایرانی مشن سے جب پوچھا گیا کہ آیا فائر بندی کی بات چیت میں توسیع کے بعد تہران اسرائیل سے انتقام کے لیے اپنے جواب کا التوا جاری رکھے گا تو مشن نے مختصرا جواب دیا کہ ہم امید کرتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک نے تہران کو اسرائیل کے خلاف بڑے میزائل حملے سے خبردار کیا ہے۔ اس لیے کہ اس کا انتہائی سنگین انجام ہو سکتا ہے بالخصوص ایران کے لیے”۔غزہ میں فائر بندی کی بات چیت کا آخری دور جمعرات اور جمعے کے روز دوحہ میں ہوا۔ حماس نے اس بات چیت میں براہ راست شرکت نہیں کی۔توقع ہے کہ بات چیت آئندہ ہفتے قاہرہ میں دوبارہ شروع ہو گی۔ واشنگٹن کے مطابق آخری بات چیت کی فضا مثبت رہی۔
Like this:
Like Loading...