Skip to content
افغانستان میں ترک نماز کے مرتکبین ملازمین کیلئے سزا ؤں کا اعلان
کابل،18اگست ( آئی این ایس انڈیا)
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں باجماعت نماز میں شرکت نہ کرنے والے ملازمین کے لیے سزا کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزا میں نصیحت کرنے سے لے کر تنخواہوں کی کٹوتی تک کی شق شامل ہے۔ ذبیح اللہ نے مزید کہا کہ جو بھی نماز چھوڑنے کو دہرائے گا اس کی ملازمت کا مقام تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس کے عہدہ میں تنزلی کر دی جائے گی۔یاد رہے رواں ماہ اگست کی 15 تاریخ کو طالبان نے افغانستان پر اپنی حکمرانی کے تین سال مکمل ہونے کا جشن منایا ہے۔تین سالوں کے دوران طالبان کچھ اقتصادی اشاریوں میں بتہری لائے ہیں۔ برآمدات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح سکیورٹی کی صورت حال میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ شہری علاقوں میں داعش کے حملوں کے جاری رہنے کے باوجود وسیع پیمانے پر لڑائی رک گئی۔تاہم ترقیاتی پروگرام کے لیے مالیات کی فراہمی میں کمی اور امریکی حمایت سے بینکنگ سیکٹر پر عائد پابندیاں سے ملک میں ایک بڑے انسانی بحران میں کردار ڈال رہے ہیں۔ اس قوت ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو زندہ رہنے کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔
مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکمرانی کو تسلیم کرنے اور پابندیاں اٹھانے کا کوئی بھی راستہ اس وقت تک تعطل کا شکار رہے گا جب تک طالبان خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر لیتے۔افغانستان میں 12 برس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو رسمی تعلیم سے روکا جارہا ہے۔ اسی طرح ان لڑکیوں اور خواتین پر جمز اور پارکس میں جانے پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
Like this:
Like Loading...