Skip to content
حزب اللہ کی ڈرون کی مدد سے نیتن یاھو کے ٹھکانے کا سراغ لگانے کی ناکام کوشش
مقبوضہ بیت المقدس،18اگست ( آئی این ایس انڈیا)
اسرائیل کے عبرانی اخبار یسرائیل ہیوم نے خبر دی ہے کہ ایک اسرائیلی جنگی بحری جہاز پر نصب راڈارنے ساحلی شہر قیساریا کے قریب حزب اللہ کے ایک ڈرون کا پتہ لگایا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے ڈرون کا مقصد نیتن یاہو کے ذاتی گھر کی تصاویر بنانا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زمینی فوجی ریڈار سسٹم نے حزب اللہ کے ڈرون کا پتہ نہیں لگایا، صرف سمندری ریڈار نے اس کا پتہ لگایا۔اخبار نے کہا کہ علاقے میں لڑاکا طیارے بھیجے گئے، لیکن وہ ڈرون کے مقام کا تعین کرنے سے قاصر رہے۔
یسرائیل ہیوم نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے کہا کہ قیساریا میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قرب و جوار میں ڈرون کا شبہ زیادہ تر غلط الارم ہے کی وجہ سے پیدا ہوا۔تقریباً ایک ماہ قبل حزب اللہ نے اپنے ’’ھد ھد‘‘ ڈرون کے ذریعے لی گئی تصاویر نشر کیں، جن میں اسرائیل کے قلب سے جاسوسی کی کارروائیاں دکھائی دیتی ہیں۔حزب اللہ نے کہا کہ ویڈیو میں رامات ڈیوڈ ایئر بیس کو دکھایا گیا ہے، جس میں لڑاکا طیارے، جنگی ہیلی کاپٹر، ٹرانسپورٹ اور ریسکیو طیارے اور جاسوس طیارے شامل ہیں۔
حزب اللہ نے تصدیق کی کہ ویڈیو کے مطابق اس میں اندر سے اڈے کی تفصیلات، خاص طور پر ہوائی جہاز کے مراکز، ایندھن کے ٹینک، آئرن ڈوم پلیٹ فارم، رن وے، کمانڈ سینٹر، عہدیداروں کے نام اور ان کی تفصیلات کے ساتھ افسران کی رہائش گاہیں،گولہ بارود کے مراکز، نیوی گیشن ریڈار، ایوی ایشن کالج دکھائی دیتے ہیں اور ان کی ہر تفصیل بھی درست ہے۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ اڈے کا ایک رات کا سروے ہوا جس کی تصویر بھی لی گئی۔
اسرائیلی رامات ڈیوڈ ایئر بیس لبنان اسرائیل سرحد سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حزب اللہ نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، گذشتہ جون میں تنظیم نے ایک ویڈیو کلپ شائع کیا تھا، جو اس کے ’’ھد ھد‘‘ ڈرون کے ذریعے لی گئی تصاویر کی پہلی قسط جو نو منٹ پر محیط تھی کو دکھاای گیا۔ اس میں اسرائیل کے شمالی علاقوں کی درست معلومات اور تصاویر دکھائی گئی تھیں۔
غزہ کی پٹی میں حزب اللہ کی اتحادی حماس کے اکتوبر میں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں داخل ہونے کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ روز کا معمول ہے۔جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں حملوں میں اضافے سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ یہ فائرنگ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔۔
Like this:
Like Loading...