Skip to content
مساجد’ غیر اسلامی سرگرمیاں
شرعی دلائل اور اسلامی تعلیمات
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
┄─═✧═✧═─┄
مسجدیں اسلام میں خاص مقام رکھتی ہیں اور ان کا تقدس برقرار رکھنا ہر مسلمان کی ذمّہ داری ہے۔ مسجدیں اللّٰہ کا گھر ہیں اور ان کا مقصد صرف عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن، اور دینی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص ہے۔ مسجدیں اسلامی شعائر کا مرکز ہوتی ہیں اور وہاں غیر اسلامی یا خلافِ شریعت امور کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جو اعمال مسجد کی حدود میں کیے جاتے ہیں، ان کے لیے شریعت کا لحاظ ضروری ہے۔ مسجد میں عبادات کے علاؤہ کوئی بھی عمل جو شریعت کے مطابق نہ ہو، اُس کی انجام دہی مناسب نہیں۔ مساجد کی حرمت کا احترام ہم سب پر واجب ہے، اور انہیں ہر قسم کے شرک، بدعت اور فحاشی سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
یہاں دو مختلف واقعات کا ذکر ہے۔ پہلے واقعے میں شرکیہ نظم کا مسجد میں گایا جانا اور دوسرے واقعے میں مسجد اشاعت اسلام میں بچیوں کے حلالی رقص کا ذکر ہے۔ دونوں اعمال مسجد کے تقدّس کے خلاف ہیں اور ان پر تنقید کرنا بالکل جائز ہے۔ مسجد میں دینی اور روحانی مقاصد کے علاؤہ کوئی اور کام نہیں ہونا چاہیے، اور جو لوگ اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں، انہیں تنقید اور احتساب کا سامنا کرنا چاہیے۔ حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے مسجد کا استعمال نہ کیا جائے، بلکہ اس کے لیے دوسرے مناسب مقامات اور مواقع کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ جماعتوں کے ذمّہ داران کو چاہیے کہ وہ مساجد کے تقدّس کا خیال رکھیں اور اپنے عمل سے دین کی حرمت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ مسجد میں ہونے والے ان غیر مناسب اعمال کی مذمت ضروری ہے تاکہ آئندہ ایسی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
شریعت کے مطابق، مسجد میں ایسی کوئی تقریب یا گفتگو جائز نہیں جس کا موضوع کفر یا شرک ہو۔ اللّٰہ کے گھر میں ایسے موضوعات کی نہ صرف ممانعت ہے بلکہ یہ مسجد کے تقدّس کی پامالی کے مترادف ہے۔ اسلام میں عمومی طور پر موسیقی اور رقص کے بارے میں مختلف مکاتب فکر ہیں، لیکن مسجد میں ان کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ مسجدیں صرف عبادت اور دینی تعلیمات کے لیے مخصوص ہیں، اور وہاں کوئی بھی غیر ضروری یا غیر شرعی عمل، جیسے موسیقی، رقص، یا دیگر فحش سرگرمیاں سختی سے منع ہیں۔ علماء کی اکثریت کے نزدیک مسجد میں موسیقی اور رقص کا عمل حرام ہے اور اس سے مسجد کا تقدّس پامال ہوتا ہے۔
اگر نظم یا نغمے دینی مضامین پر مشتمل ہوں اور ان کا مقصد لوگوں کو دین کی تعلیم دینا ہو، تو کچھ مکاتب فکر اس کی اجازت دیتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ مسجد کے باہر ہونا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔ مسجد میں صرف وہی اعمال کیے جائیں جو عبادت یا دینی تعلیم و تدریس سے متعلق ہوں۔ مساجد میں بدعتی اعمال یا غیر شرعی رسومات جیسے کہ غیر اسلامی تقریبات یا رقص و سرود کی محافل منعقد کرنا، سختی سے منع ہے۔ یہ اعمال مسجد کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اور شرعی لحاظ سے بھی ناجائز ہیں۔
مسجد کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے شریعت نے واضح ہدایات دی ہیں۔ مسجد میں کفر و شرک کے موضوعات، موسیقی، رقص، اور دیگر غیر شرعی اعمال کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ ان اعمال کی مسجد میں انجام دہی نہ صرف شرعی طور پر ممنوع ہے بلکہ اس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے، اور ایسے اعمال کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔ مسلمان اس بات کا خصوصی خیال رکھیں کہ مسجدوں کا تقدّس برقرار رہے اور وہاں صرف دینی اور عبادتی مقاصد کے لیے ہی سرگرمیاں انجام دی جائیں۔
مساجد میں کفر و شرک کے موضوعات پر تقاریب یا مباحثوں کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق، مسجد کا اصل مقصد اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت، نماز، ذکر، تلاوت قرآن، اور دینی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص ہے۔ مسجد میں جو بھی بات چیت یا تقریب ہو، اس کا مقصد دین کی تعلیم، اخلاقی تربیت اور اللّٰہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مساجد کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"وَأَنَّ ٱلْمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًۭا” (سورہ الجن: 18)
"اور یہ کہ مساجد اللّٰہ کے لیے ہیں، پس اللّٰہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔”
اس آیت میں واضح طور پر مساجد کی عبادتی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ وہاں اللّٰہ کے سوا کسی اور کی عبادت یا کوئی دوسری غیر اسلامی سرگرمی جائز نہیں۔
احادیث میں مساجد کی حرمت کے ضمن میں رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "مَن سَمِعَ رَجُلًا يَنشُدُ ضَالَّةً فِي المَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ؛ فَإِنَّ المَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا.” (صحیح مسلم)
"جس نے کسی شخص کو مسجد میں کھوئی ہوئی چیز کے بارے میں پوچھتے سنا، تو وہ کہے: اللّٰہ تجھے یہ نہ لوٹائے؛ کیونکہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔”
نبی اکرم ﷺ نے مسجد نبوی کو صرف عبادت، تعلیم اور دینی معاملات کے لئے مخصوص فرمایا تھا۔ یہاں تک کہ جب کوئی دنیوی یا غیر اسلامی سرگرمی مسجد میں ہونے لگتی تو آپﷺ اس پر فوراً ردعمل دیتے۔مثال کے طور پر، مسجد نبوی میں تجارت یا خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: "جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللّٰہ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے”۔
(سنن ترمذی)
اگر مساجد دنیاوی اور معمولی امور کے لیے نہیں بنائی گئیں، تو کفر و شرک جیسے سنگین اور گمراہ کن موضوعات پر تقاریب کی وہاں اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ مساجد میں کفر و شرک کے موضوعات پر تقاریب منعقد کرنا شریعت کی نظر میں جائز نہیں ہے۔ یہ اعمال مساجد کی حرمت اور ان کے مقصد کے خلاف ہیں اور سخت گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ مسجدوں کو صرف اللّٰہ کی عبادت، ذکر، اور دین کی تعلیم کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، اور ان کا تقدّس برقرار رکھنا ہر مسلمان کی ذمّہ داری ہے۔
مساجد میں کفر و شرک کے موضوعات پر تقاریب کی فقہی حیثیت کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ یہ ناجائز اور حرام ہے۔ شریعت میں مسجد کو اللّٰہ کا گھر قرار دیا گیا ہے۔ کفر و شرک کے موضوعات پر مساجد میں کوئی تقریب یا گفتگو کرنا مساجد کے تقدس اور ان کی اصل مقصدیت کے خلاف ہے۔
فقہاء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مساجد کا بنیادی مقصد نماز اور عبادت کے لیے ہے، جیسا کہ قرآن و سنّت میں ذکر کیا گیا ہے۔ مساجد کو دینی اور روحانی مقاصد کے لیے مختص کیا گیا ہے اور ان کی حرمت کا پاس رکھنا ضروری ہے۔ فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ مساجد میں کوئی بھی غیر شرعی عمل، بشمول کفر و شرک پر مبنی تقاریب، حرام ہے۔ اس کی بنیاد قرآن اور سنّت میں موجود واضح نصوص ہیں، جن میں مساجد کو صرف اللّٰہ کی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کے مطابق، مساجد کا تقدّس برقرار رکھنا واجب ہے، اور وہاں ایسے امور جن کا تعلق کفر یا شرک سے ہو، ہرگز انجام نہیں دیے جا سکتے۔ امام مالکؒ کے نزدیک، مسجدوں کا استعمال صرف ان امور کے لیے جائز ہے جو دین کے لیے فائدہ مند ہوں۔ ان کے نزدیک، مسجد میں کسی بھی غیر اسلامی یا غیر شرعی موضوع پر بات چیت کرنا حرام ہے۔ امام شافعیؒ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مساجد میں صرف وہی اعمال کیے جائیں جو عبادت اور دین کی تعلیم کے دائرے میں آتے ہوں۔ شرک یا کفر پر مبنی کسی بھی تقریب کی اجازت مسجد میں نہیں دی جا سکتی۔ امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک بھی مساجد میں کفر و شرک کے موضوعات پر تقاریب کرنا ناجائز ہے، اور اس سے مسجد کی حرمت پامال ہوتی ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا: "إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ.” (صحیح مسلم)
"یہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں ہیں کہ ان میں پیشاب یا گندگی کی جائے، بلکہ یہ اللّٰہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں۔”
فقہی نقطۂ نظر سے مساجد میں کفر و شرک کے موضوعات پر تقاریب کی اجازت نہیں ہے، اور یہ اعمال حرام اور ناجائز ہیں۔ علماء اور فقہاء نے اس بات پر سختی سے تاکید کی ہے کہ مساجد کے تقدّس کو برقرار رکھا جائے اور ان کا استعمال صرف جائز اور شرعی مقاصد کے لیے کیا جائے۔
ملت اسلامیہ کی معصوم بیٹیوں کے ذریعے مسجد میں غیر شرعی عمل کروا کر مسجد کے تقدس و حرمت کو پامال کرنا مومن کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ خواتین کا مسجد میں موسیقی پر رقص کرنا شریعت کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ اسلام میں خواتین کی حیا اور عفت کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اور مسجد جیسی مقدس جگہ پر ایسا عمل نہ صرف شریعت کے خلاف ہے بلکہ اخلاقیات اور اسلامی اقدار کی بھی پامالی ہے۔ مسجد میں ملت اسلامیہ کی بیٹیوں کا موسیقی پر رقص کرنا شریعت کے اصولوں اور مساجد کے تقدس کے خلاف ہے۔ یہ عمل نہ صرف حرام ہے بلکہ اس سے مسلمانوں کے دینی جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مساجد کا احترام کریں اور ان کا استعمال صرف عبادت، ذکر، اور دینی تعلیم کے لیے کریں۔ ایسے اعمال سے گریز کیا جائے جو مسجد کی حرمت اور تقدّس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مسجد کی حرمت اور تقدّس کو پامال کرنا ایک سنگین گناہ ہے، اور شریعت میں اس کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اسلام میں مساجد کو اللّٰہ کا گھر قرار دیا گیا ہے، اور ان کی بے حرمتی یا تقدّس کو پامال کرنا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ مساجد میں غیر اسلامی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ مساجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مساجد کے تقدّس کو پامال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ان سرگرمیوں کو فوراً روکا جائے۔ قرآنِ مجید اور احادیث میں ایسے لوگوں کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو مساجد کی حرمت کو پامال کرتے ہیں۔ قرآن میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ ٱللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَآ إِلَّا خَآئِفِينَ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ” (سورۃ البقرہ: 114)
"اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللّٰہ کی مسجدوں میں اس کے نام کے ذکر سے روکے اور ان کی بربادی کے درپے ہو؟ ان لوگوں کو وہاں (داخل ہونے کی) اجازت نہیں ہونی چاہیے مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی بے حرمتی کرنے والے دنیا اور آخرت دونوں میں سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ فقہاء کے نزدیک بھی مسجد کی بے حرمتی ایک سنگین جرم ہے، اور اس پر سزا دی جانی چاہیے۔ اس میں درج ذیل سزائیں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایسے شخص کو فوراً اپنے عمل پر توبہ کرنی چاہیے اور اللّٰہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ اگر اس کے عمل سے مسجد کو کوئی نقصان پہنچا ہو تو اس کی مرمت یا تلافی کرنا بھی ضروری ہے۔ اسلامی حکومت کے تحت، مسجد کی بے حرمتی کرنے والے شخص کو تعزیری سزا دی جا سکتی ہے، جو قاضی کے اختیار میں ہوتی ہے۔ تعزیر کی نوعیت اور مقدار حالات اور جرم کی نوعیت کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ ایسے شخص کو معاشرتی سطح پر بائیکاٹ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے عبرت کا باعث بن سکے۔ اگر مسجد کی بے حرمتی پر شخص دنیا میں سزا سے بچ بھی جائے تو آخرت میں اس کے لیے شدید عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے:
"جو شخص میری امت میں سے مسجد کی بے حرمتی کرے گا، اللّٰہ اس کے لیے آخرت میں شدید عذاب تیار کرے گا۔” (ترمذی)
مسجد کی حرمت کو پامال کرنے والے شخص کے لیے دنیا اور آخرت میں سخت عذاب اور سزا کا ذکر موجود ہے۔ شریعت کے مطابق، ایسے شخص کو فوری توبہ کرنی چاہیے، اور اسلامی حکومت کے تحت اسے تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ معاملہ نہایت سنگین ہے، اور مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے تاکہ وہ اللّٰہ کے غضب سے محفوظ رہ سکیں۔
مساجد کے تقدّس کو برقرار رکھنا ہر مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی ذمّہ داری ہے۔ مسلمانوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں مساجد کے آداب کا خیال رکھنا چاہیے اور غیر شرعی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اسلامی تنظیموں اور معاشرتی اداروں کو بھی مساجد کے تقدس کے تحفّظ میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ اسلامی معاشرہ اپنی بنیادوں پر قائم رہ سکے اور مساجد کا مقام محفوظ رہے۔
یہ واضح رقص و سرود ہے جسے اسلامی تربیت کہا جارہا ہے، افسوس ہے ایسے ذمّہ داران پر! غلطی کرنا انسانی فطرت کا حصّہ ہے اور اس کا اعتراف کرنا عظمت کی علامت ہے۔ لیکن جب کوئی شخص یا تنظیم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں درست ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو یہ رویہ خطرناک ہوتا ہے۔ شیطانی فطرت کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ وہ انسان کو اس کی غلطیوں پر اصرار کرنے اور انہیں درست قرار دینے پر اُکساتا ہے۔ اس سے اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور آدمی یا ادارہ گمراہی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔ اس لئے ہمیں ہمیشہ اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور اللّٰہ سے معافی طلب کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی رویہ ہمیں شیطانی فتنوں سے بچاتا ہے اور حق کی راہ پر قائم رکھتا ہے۔
اسلام پسند تحریکوں، تنظیموں اور اداروں کو بھی اس غلاظت میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ انہیں اسلامی نعروں اور ترانوں سے شاید الرجی سی ہوگئی ہے۔ اس سے اور آگے بڑھ کر نئے نئے بت تراش لئے گئے ہیں، ایسے بت جسے اسی امت مسلمہ نے پاش پاش کیا تھا۔ آج ہماری اجتماعیت کا ایک بڑا حصّہ ہمیں اسی بت کی عقیدت و احترام کی سمت ہانکے لے جارہا ہے۔
یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ جب دینی تنظیمیں اور ادارے ایسے افعال یا نظریات کی اجازت دیتے ہیں جو شریعت کے مطابق نہیں ہوتے۔ فکری آزادی ایک نعمت ہے، مگر اس کا استعمال ہمیشہ قرآن و سنّت کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی تنظیم یا فرد ایسی حدود سے تجاوز کرتا ہے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، تو یہ واقعی افسوس کا مقام ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اصلاح کی کوشش کریں، دعا کریں کہ اللّٰہ ان کو ہدایت دے اور ساتھ ہی اپنے ایمان اور عمل کو مضبوط کریں تاکہ ہم ان غلطیوں سے بچ سکیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سچی سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں حق پر قائم رکھے۔ آمین
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانۂ دین نبوی ہے
بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے
نظارۂ دیرینہ زمانے کو دیکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان🍁
ممبئی، مہاراشٹر، الہند۔
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...