Skip to content
کلکتہ کی خاتون ڈاکٹر کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل کا سانحہ
عصمت دری اور قتل کی حمایتی پارٹی کس منہ سے احتجاج و مظاہرے کرسکتی ہے؟
ازقلم: عبدالعزیز
کلکتہ کے ایک بہت بڑے اسپتال بلکہ ایشیا کے ایک بڑے اسپتال آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں 8 اور 9 اگست کی درمیانی رات میں میڈیکل کے ایک زیر تربیت 31سالہ ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل جس بہیمانہ ،وحشیانہ اور سفاکانہ طریقے سے ایک یا ایک سے زیادہ جانور نما انسانوں نے کی ہے، اس کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ دہلی میں2012ء میں ایک 23سالہ میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ چلتی بس میں اجتماعی عصمت دری کا سانحہ رونما ہوا تھا۔ اس سانحہ کے خلاف ملک بھر میں اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاج ہوئے تھے کہ پورا ملک ہل گیا تھا،جس کے نتیجے میں بہت کم وقت میں عورتوں کی حفاظت کے لئے بہت ہی سخت قسم کے قوانین بنائے گئے۔ ان قوانین کے باوجود عصمت دری اور قتل کے واقعات میں ملک میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ’نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو‘ کے مطابق 2022ء میں عصمت دری کے 31,516 رپورٹ ہوئے جو 2021ء کے مقابلے میں 20%زیادہ ہے۔ یہ رپورٹ یا ریکارڈ عصمت دری یا قتل کی مکمل تعداد نہیں بتاسکتے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں۔ایک وجہ تو بالکل واضح ہے کہ بہت سے واقعات و سانحات ریکارڈ کرنے سے رہ جاتے ہیں۔ عام طور پر دیہاتوں میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے واقعات اجاگر نہیں کئے جاتے اور نہ ریکارڈ میں لائے جاتے ہیں۔
جب بھی عورتوں پر مظالم ہوتے ہیں یا ان کی عصمت دری ہوتی ہے تو ملک کا ضمیر چیخ پڑتا ہے۔ مظاہرے ، احتجاج کے علاوہ بیانات کے انبار لگ جاتے ہیں۔ مضامین بھی بے شمار لکھے جاتے ہیں۔ قوانین سازی بھی ہوتی ہے۔ ان سب کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ واقعات میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوتا رہتا ہے؟ اس پر بہت کم غور کیا جاتا ہے۔ جب مرکز میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت تھی ، ایل کے ایڈوانی نائب وزیر اعظم تھے۔ وزیر اعظم کا عہدہ ان کے پاس تھا تو انھوں نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’عصمت دری کے خلاف ملک میں سعودی عرب جیسے قانون کی ضرورت ہے‘‘۔ بیان تو اخباروں میں چھپا۔ لوک سبھا کے ریکارڈ میں بھی موجود ہوگا، لیکن بیان سے آگے کوئی بات بڑھی نہیں۔ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ عام طور پر مظلوموں سے زیادہ مجرموں اور ظالموں سے بہت سے لوگوں کی ہمدردی ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ ’’عقل و خرد رکھنے الو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے‘‘ (البقرہ:179)۔یہ در اصل ایک دوسری جاہلیت کی تردید ہے جو پہلے بھی بہت سے دماغوں میں موجود تھی اور آج بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔ جس طرح اہل جاہلیت کا ایک گروہ انتقام کے پہلو میں افراط کی طرف چلا گیا ہے، اسی طرح ایک دوسرا گروہ عفو و درگزر کے پہلو میں تفریط کی طرف گیا ہے۔ اس نے سزائے موت کے خلاف اتنی تبلیغ کی ہے کہ بہت سے لوگ اس کو ایک نفرت انگیز چیز سمجھنے لگے ہیں۔ دنیا کے متعدد ملکوں نے اسے بالکل منسوخ کردیا ہے۔ قرآن اسی پر اہل عقل کو مخاطب کرکے تنبیہ کرتا ہے کہ قصاص میں سوسائٹی کی زندگی ہے۔ جو سوسائٹی انسانی جان کا احترام نہ کرنے والوں کی جان کو محترم ٹھہراتی ہے وہ در اصل اپنی آستین میں سانپ پالتی ہے۔ ایسے لوگ قاتل کی جان بچاکر بہت سے بے گناہ انسانوں کی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
بہت پہلے کی بات ہے ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بی بی سی کے ایک نمائندہ ولیم کرالے کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا: ’’میرا خیال ہے کہ آپ کی موجودہ تہذیب کو جسے آپ جدید تہذیب کہتے ہیں جتنی ہمدردی مجرم کے ساتھ اتنی ہمدردی ان لوگوں کے ساتھ نہیں جن پر جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے، مثلاً ایک شخص کا بچہ کوئی اغوا کرکے لے جاتا ہے اور پھر اس کو اطلاع کرتا ہے کہ اتنے ملین ڈالر مجھے دے دو تو بچہ تمہیں مل جائے گا ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور بعض اوقات وہ ایسا کر بھی گزرتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اس طرح کے آدمی کو پکڑ کر اگر کوئی سخت سزا دی جائے، مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے یا اس کی گردن اڑا دی جائے تو کیا یہ ایک وحشیانہ فعل ہوگا؟ یعنی آپ کے نزدیک والدین کو ان کے بچوں سے محروم کردینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں؛ البتہ اس حرکت کے مرتکب کو اس جرم کی سزا دینا وحشیانہ اور ظالمانہ فعل ہے، جس کی کم از کم ریاست کو ذمہ داری نہیں لینی چاہئے۔ آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کے ساتھ ہے جس نے ایک مجرمانہ اور غیر انسانی فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مستوجب سزا ٹھہرایا ہے اور اس شخص کے بارے میں آپ بے حس ہیں جسے ظلم اور سنگدلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص معاشرے کے اندر جرم کا ارتکاب کرکے معاشرے کے امن و سکون کو غارت کرتا ہے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اتنی سزا دی جائے کہ دوسروں کو اس سے عبرت ہو اور وہ اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی جرأت نہ کرسکیں یعنی ہمارے نزدیک صرف سزا ہی نہیں ہے بلکہ وہ ارتکاب جرم کو روکنے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ جرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے؛ چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس شخص کے ساتھ ہے جس پر ارتکاب جرم کیا جاتا ہے اور اس معاشرے کے ساتھ ہے جس کے اندر ارتکاب جرم سے ناہمواری اور عدم تحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔
You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to kill a man and it is inhuman to kill a murderer.
’’ابھی پچھلے دنوں امریکہ میں مس ہرسٹ کا جو واقعہ پیش آیا ہے وہ آپ کے علم میں ہوگا۔ جو لوگ اس کا اغوا کرکے لے گئے اور انھوں نے اس کو اس حد تک جرائم آشنا کردیا کہ اس نے بینک پر ڈاکہ ڈالا اور دوسرے جرائم کا ارتکاب کرتی پھری۔ آپ کے نزدیک وہ لوگ تو بہت مہذب اور Cultured ہیں، لیکن اگر ان لوگوں کو کوئی سخت سزا دی جائے تو یہ فعل غیر مہذبانہ ہوگا‘‘۔
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے نام نہاد مہذب سیاست داں اپنے ملک کے رائج فوجداری قوانین کو بدلنا نہیں چاہتے۔ راجستھان میں عصمت دری اور قتل کا ایک بہت ہی گھناؤنا اور وحشیانہ واقعہ بہت سالوں پہلے رونما ہوا تھا۔ وہاں کے ایک وزیر نے کہا تھا کہ ’’مجرم کو جئے پور کے مان سنگھ اسٹیڈیم میں پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے تاکہ جرم کرنے والوں کو سبق ملے اور لوگ اس سے عبرت حاصل کریں‘‘۔ راجستھان کے ہائی کورٹ کے ججوں سے جب مجرم کو کھلے عام سزا دینے کی بات کہی گئی تو ججوں نے صاف انکار کیا اور کہاکہ ’’جیل کے Manual (دستور العمل) میں اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔ یہ تو بات ہوئی سزا اور قانون کے بارے میں۔
دوسری جو اہم چیز ہے جس پر قانون سازی کرنے والے یا اہل عقل و دانش بگڑے ہوئے ماحول کی وجوہات پر بہت کم غور کرتے ہیں۔ ماحول میں بہت سی چیزیں ایسی پائی جاتی ہیں جو لوگوں کو مجرمانہ ذہنیت بنانے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔ فحاشی اور ظلم و تشدد پر مبنی فلمیں، رسالے اور اخبارات جو عورتوں کی برہنہ تصویریں شائع کرتے ہیں ۔ فحاشی پر مبنی ناول اور افسانے ماحول کو بگاڑنے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ شراب نوشی کے لئے حکومتیں شراب کی دکانوں کا لائسنس دیتی ہیں۔ کلبوں اور محفلوں میں شراب شربت کی طرح استعمال کی جاتی ہے۔ آرجی کار میڈیکل کالج و اسپتال کلکتہ کی جس ڈاکٹر کا قاتل اور عصمت دری کرنے سنجے رائے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حد درجے کا شرابی ہے اور جس رات کو اس نے واردات انجام دی ہے اس رات کو بھی وہ شراب کے نشے میں دھت تھا۔ شراب کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ تمام برائیوں کی ماں ہے۔ شراب بندی جن ریاستوں میں نافذ ہے وہاں بھی ماحول کا بگاڑ اس قدر ہے کہ شراب بندی کا نفاذ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر سے نیچے تک افسران جو نفاذ کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ خود بگڑے ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں وہ ساری عادتیں پائی جاتی ہیں جو ماحول کو بد سے بدتر بناتی ہیں۔ لوگوں کی ذہن سازی اور تربیت کا بھی کوئی کام حکومت کی طرف سے نہیں ہوتا۔ اس لئے اچھا سے اچھا قانون، سخت سے سخت قانون بگڑے ہوئے ماحول میں کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ دستور اگر اچھا ہو لیکن اچھے ہاتھوں میں نہ ہو تو اس پر عمل کچھ ایسا ہوگا کہ دنیا یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اس سے بدتر دستور کوئی اور نہیں ہے۔ اس کے برعکس خراب سے خراب سے خراب دستور اگر اچھے ہاتھوں میں ہو تو اس پر عمل کچھ ایسا ہوگا تو لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ اس سے اچھا دستور کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
مجرمانہ ذہنیت ایک مرض ہے اور سیریل کلر، جنسی تشدد کرنے والے اور پیشہ ور قاتلوں کی شخصیت میں رحم‘ ترس اور انسانیت جیسی اقدار مفقود ہو جاتی ہیں۔ چھوٹے بچوں یا بچیوں سے زیادتی کرنے والوں کو میڈیکل سائنس کی تحقیقات نے بھی انسانی جذبوں سے عاری قرار دیا ہے۔ ایسے قاتلوں کے ذہنوں کے خصوصی ٹیسٹ کیے گئے اور پتا چلا کہ ذہن کے سامنے والے حصے Frontal Lobe) (میں وہ علاقے جورحم اور ہمدردی سے متعلق ہوتے ہیں ان کی ترقی(Growth)ہی نہیں ہوئی ہوتی، یعنی وہ مجسم قاتل ، چور، بدمعاش ، جسم فروش ہوتے ہیں۔ یوں تو ایسی تھیوری لمبروسو(Lombroso)نے پچاس سال قبل پیش کی تھی لیکن اب تو ایک سائنسی حقیقت بن گئی ہے۔ یہی ماہرین نفسیات فحش نگاری اور فحش مواد کا جنسی جرائم کے ساتھ ایک گہرا تعلق ثابت کرتے ہیں۔
پولس میں زیادہ تر لوگ آہستہ آہستہ مجرمانہ ذہنیت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ قانون کو نافذ کرنے والے پولس والے ہی ہوتے ہیں۔ اس وقت ان سے زیادہ خراب ذہنیت کے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ اردو کے ایک بہت بڑے شاعر اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آنند نرائن ملا نے ایک مقدمہ کے فیصلے میں یہ ریمارک دیا تھا کہ ’’پولس تھانوں میں جو لوگ وردی میں پائے جاتے ہیں وہ سب سے بڑے غنڈے اور بدمعاش ہوتے ہیں‘‘۔ قاتل سنجے رائے پولس محکمہ میں رضاکار تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اسپتال میں دلالی کے کام کیا کرتا تھا۔ دوسری جو اہم بات کہی جاتی ہے جس کا ذکر بہت کم ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ اسپتال میں بدمعاشوں اور ایک ریکٹ تھا جو غلط کام کیا کرتا تھا۔ مظلوم و مقتول خاتون ڈاکٹر کس ریکٹ کے خلاف تھی اور وقتاً فوقتاً وہ ظالموں اور بدمعاشوں کو وارننگ بھی دیا کرتی تھی جس سے ظالم و بدمعاش اس خاتون ڈاکٹر کو ناپسند کرتے تھے اور نشانے پر لئے ہوئے تھے۔ میڈیکل کالج و اسپتال کے پرنسپل سندیپ گھوش کو اس ریکٹ کا علم ہوگا اور ریکٹ کی بدمعاشی کی یہ بات ہر شعبہ کے ڈاکٹروں کو بھی معلوم ہوگی۔ سوچنا چاہئے کہ مظلوم و مقتول خاتون ڈاکٹر کے علاوہ بھی میڈیکل کالج و اسپتال میں دیگر ڈاکٹر بھی جو روکتے ٹوکتے ہوں گے وہ بھی نشانے پر ہوں گے۔ پولس یا پولس میں جو رضاکار ہیں رشوت خوری کے خلاف کوئی بات پسند نہیں کرتے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک پولس محکمہ میں رشوت خوری کا عمل جاری ہے۔
مغربی بنگال کی پولس میں وہ سارے بگاڑ ہیں جو پولس میں عام طور پر ہوا کرتے ہیں۔ پولس اور غنڈوں کا Nexus (گٹھ جوڑ) جگ ظاہر ہے۔ ہمیں یہ لکھنے یا کہنے میں کوئی کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ وزیر اعلیٰ مغربی بنگال محترمہ ممتا بنرجی کو اس گٹھ جوڑ کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ اور جو لوگ سیاست میں ہیں ان کو اس کا پورا علم ہے۔ ترنمول کانگریس کے 75سالہ تین ٹرم کے راجیہ سبھا ممبر اور ترنمول کانگریس کے بنگالی زبان کے ترجمان ’جاگو بنگلہ‘ کے ایڈیٹر اور پارٹی کی بہت ہی نمایاں شخصیت سوکھندو شیکھر نے پولس کمشنر کلکتہ ونیت گوئل اور آر جی کار پرنسپل سندیپ گھوش کے بارے میں سی بی آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو پوچھ تاچھ کے لئے تحویل میں لیا جائے۔ وزیر اعلیٰ مغربی بنگال بھی جانتی ہیں کہ غنڈوں کا عمل دخل بنگال میں اور حکومت میں اچھا خاصا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ محترمہ ممتا بنرجی پولس کے بجائے اپنی پارٹی کے چھوٹے بڑے ان عناصر پر زیادہ بھروسہ کرتی ہیں جو شرپسند ہیں۔ جو کام پولس سے لینا چاہئے وہ شرپسندوں کے ذریعے وزیر اعلیٰ لیتی رہتی ہیں۔ بہت سے معاملے میں پولس اپاہج دکھائی دیتی ہے۔
محترمہ ممتا بنرجی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ قتل اور عصمت دری کے مذکورہ واقعے کو ہینڈل کرنے (سنبھالنے) سے قاصر رہیں۔ سب سے بڑی غلطی تو جو وزیر اعلیٰ کی ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پرنسپل جس نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے اس کو ہٹاکر دوسرے کالج کا پرنسپل بنا دینا ہے۔ پرنسپل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہڈی کا ڈاکٹر ہے۔ ایک ہڈی کا ڈاکٹر ہو یا ڈاکٹر ہو خاتون ڈاکٹر جس حالت میں سیمینار ہال میں مردہ حالت میں پڑی ہوئی تھی اور جس کے جسم کے کئی حصوں چوٹ کے نشانات تھے۔ پرائیوٹ پارٹ سے خون گر رہا تھا اور ہونٹ سے بھی خون ٹپک رہا تھا۔ گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی اس کو خودکشی کے واقعہ سے تعبیر کرنا اور خاتون ڈاکٹر کے ماں باپ سے یہ کہنا کہ ’’تمہاری بیٹی نے خودکشی کرلی ہے‘‘۔یہ مجرمانہ فعل نہیں تو کیا ہے؟ پرنسپل کے اس جرم کو حکومت وقت کا چھپانا بھی جرم سے کم نہیں ہے۔ پولس نے بھی تحقیق کئے بغیر خاتون ڈاکٹر کے قتل اور عصمت دری کو خودکشی بتایا تھا۔ ظاہر ہے پولس کمشنر کلکتہ کے بغیر پولس کا کوئی عملہ ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ سوکھندو شیکھر رے نے پارٹی میں رہتے ہوئے بھی پرنسپل اور پولس کمشنر کے بارے میں جو مطالبہ کیا ہے وہ جرأت مندی کا کام ہے۔ محترمہ ممتا بنرجی شاید ہی اپنے اس لیڈر کی حق گوئی برداشت کرسکیں۔ محترمہ ممتا بنرجی کو اگر بچنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ مقتولہ کے ورثاء سے معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا برملا اقرار کریں۔ آخری بات یہ لکھنا ہے کہ مودی جی اور ان کی پارٹی کس منہ سے کسی قاتل اور بدکار کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔ جو پارٹی قاتلوں اور بدکاروں کو نہ صرف بچاتی ہے بلکہ اس کا استقبال کرتی ہے، پھولوں کا ہار پہناتی ہے اس کو عصمت دری اور قتل کے خلاف مظاہرے کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی اسے مظاہروں اور احتجاجوں سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...