Skip to content
سود لینے اور دینے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ : مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
حیدرآباد (21؍ اگست 2024)
حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مال اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے؛ لیکن شریعتِ اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ صرف جائز وحلال طریقہ سے ہی مال کمائے؛ کیوں کہ کل قیامت کے دن ہر شخص کو مال کے متعلق اللہ رب العزت کو جواب دینا ہوگا کہ کہاں سے کمایا یعنی وسائل کیا تھے اور کہاں خرچ کیا یعنی مال سے متعلق حقوق العباد یا حقوق اللہ میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی۔
مال کے نعمت اور ضرورت ہونے کے باوجود، خالقِ کائنات اور تمام نبیوں کے سردار حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو متعدد مرتبہ فتنہ ، دھوکے کا سامان اور محض دنیاوی زینت کی چیز قرار دیا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مال ودولت کے حصول کے لیے کوئی کوشش ہی نہ کریں؛ کیوں کہ حلال رزق کا طلب کرنا اور اس سے بچوں کی تربیت کرنا خود دین ہے۔
اِن دنوں حصول مال کے لئے ایسی دوڑ شروع ہوگئی ہے کہ اکثر لوگ اس کا بھی اہتمام نہیں کرتے کہ مال حلال وسائل سے آرہا ہے یا حرام وسائل سے؛ بلکہ کچھ لوگوں نے تو اَب حرام وسائل کو مختلف نام دے کر اپنے لیے جائز سمجھنا شروع کردیا ہے ؛ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مشتبہ چیزوں سے بھی بچنے کا حکم دیا ہے؛ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفاء کرے، جیساکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو؛ کیوں کہ اس سے بہتر آگ ہے۔
نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ حراکھانے،پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں جو بڑے بڑے گناہ عام ہوتے جارہے ہیں، ان میں سے ایک بڑا خطرناک اور انسان کو ہلاک کرنے والا گناہ سود ہے۔وزن کی جانے والی یا کسی پیمانے سے ناپے جانے والی ایک جنس کی چیزیں اور روپے وغیرہ میں دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد دینا پڑتا ہو ربا اور سود کہلاتا ہے جس کو انگریزی میں Interest یا Usuryکہتے ہیں۔ سود کی حرمت قرآن وحدیث سے واضح طور پر ثابت ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایااللہ تعالیٰ نے خریدوفروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ سود کو قرآنِ کریم میں اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لیے قرآن کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے استعمال کیے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔
اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاو سود کھانے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو کسی اور بڑے گناہ، مثلاً زنا کرنے، شراب پینے کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔
سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود کے ۷۰؍ سے زیادہ درجے ہیں اور ادنی درجہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے زناکرے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درہم سود کا کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو حلال رزق عطافرمائے اور سود جیسے لعنت سے بچائیں آمین ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...