Skip to content
کولکاتہ عصمت دری و سفاکانہ قتل کیس،عدالت عظمیٰ میں سماعت کی خاص باتیں
نئی دہلی ،۲۲؍اگست (آئی این ایس انڈیا)
کولکاتہ عصمت دری و سفاکانہ قتل معاملہ میں سپریم کورٹ نے ایک بار پھر اہم سماعت کی۔ اس بار سماعت میں سی بی آئی کی اسٹیٹس رپورٹ پر تفصیلی بحث ہوئی، ڈاکٹروں کی ہڑتال پر بھی بات ہوئی اور بنگال حکومت کے کام پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں پردہ پوشی کا بھی شبہ ظاہر کیا ہے اور یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ جائے وقوعہ پر شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی تھی۔گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ڈاکٹروں سے ہمدردی کا اظہار کیا تھا، اب ایک بار پھر یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹی پر واپس آئے تو ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے غریبوں کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا۔
عدالت نے کہا کہ بہت سے غریب لوگ ہیں جو دو سال پہلے اپائنٹمنٹ لیتے ہیں، انہیں یہ کہہ کر واپس نہیں بھیجا جا سکتا کہ وہ علاج نہیں کروا سکیں گے۔سی جے آئی چندر چوڑ نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی شکایات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یقین رکھیں کہ آپ کے تمام خدشات کو سنا جائے گا۔ کمیٹی انٹرنز اور ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کے خیالات پر غور کرے گی۔سپریم کورٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ڈاکٹرز اسی طرح احتجاج کرتے رہے تو پبلک انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوگا۔ اس پر ایمس ناگپور کے ڈاکٹروں کی منطق یہ تھی کہ انہیں مسلسل یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ وہ غلط ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس پارڈی والا کافی ناراض نظر آئے۔
ایک موقع پر انہوں نے اصرار کیا کہ انہوں نے 30 سالوں میں ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا۔ جو کچھ بھی ہوا حیران کن ہے۔سی بی آئی نے اپنی اسٹیٹس رپورٹ بھی داخل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرائم سین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ سی بی آئی نے یہ بھی بتایا کہ اس کیس کو ابتدائی طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، لیکن اہل خانہ کو واقعے کی دیر سے اطلاع دی گئی۔سماعت کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب سی جے آئی کو وکلاء کو ہدایات دینا پڑیں۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر جو پوسٹ کیا جاتا ہے وہ سماعت کے دوران دلائل کی بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔
Like this:
Like Loading...