Skip to content
قاتل ہے آزاد ، محو خواب ہے منصف
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اسلام تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد بتاتا ہے ،چاہے رنگ ونسل کے اعتبار سے الگ ہوں یا ملک وقوم کے لحاظ الگ ہوں مگر انسان ہونے میں سب برابر ہیں اور ان کے درمیان آدمیت کا رشتہ ہے جو ایک دوسرے کو جوڑے رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ترحم کی تعلیم دیتا ہے اور محسن انسانیت ؐ نے اپنے ماننے والوں کو تاکیدی تعلیم دی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کا احترام کریں اور ان کی ضرورتوں کا خیال بھی کریں نیز اپنے کسی عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں کیونکہ اگر وہ کسی پر رحم کرتا ہے تو رحم کرے گا تو رحم کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ کرے گا تو ظلم کئے جانے سے محفوظ رہے گا ، محسن انسانیت ؐ نے انسانوں کو بتایا کہ اگر اس کے پاس طاقت ہے تو جان لینا چاہئے کہ یہ طاقت عارضی اور وقتی ہے مگر جس نے اسے طاقت عطا کی ہے اس کی طاقت وقدرت دائمی ہے اور وہ ہرچیز پر ہر وقت قادر ہے ،کوئی اپنی قوت وطاقت اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھا تے ہوئے کسی پر ظلم وزیادتی کرتا ہے تو سب کا خالق ومالک سب پر مکمل اختیار رکھتا ہے اور اگر پکڑلے تو اس کی پکڑ سے چھڑا نے والا کوئی نہ ہوگا ،انسانیت کے سب سے بڑے غمخوار محسن انسانیت ؐ نے یہ بھی بتایا کہ سخت دل رکھنے والے اور انسانوں کے ساتھ ترحم سے پیش نہ آنے والے رحمن کی رحمت سے دور کر دئے جائیں گے ، ارشاد فرمایاکہ:اُس شخص پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوگی جو اس کی پیدا کئے ہوئے انسانوں پر رحم نہ کھائے اور ان کے ساتھ رحمت وشفقت کا معاملہ نہ کرے(بخاری:۷۳۷۶)، اگرکوئی انسان بلاوجہ کسی دوسرے انسان کو نشانہ بناتا ہے،اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا ہے ،اس کو ناحق تکلیف دیتا ہے اور اس کے ناحق قتل سے اپنے ہاتھ رنگین کرتا ہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قاتل ہے ،قرآن کریم میں صاف اور واضح لفظوں میں بتایا گیا کہ جو شخص کسی کو ناحق قتل کرتا ہے ،اس کے قتل سے اپنے ہاتھ سرخ کرتا ہے اور ناحق قتل کے ذریعہ خود کو مجرمین کی فہرست میں شامل کرتا ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ اس نے صرف ایک انسان کو قتل نہیں کیا بلکہ پوری انسانیت کو قتل کیا ہے،ارشاد ربانی ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا(المائدہ:۳۲)’’جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والاہو،قتل کر ڈالیں تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا‘‘ ،اس ارشاد ربانی سے انسانی جان کی قدر وقیمت اور تکریم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی انسان کا ناحق قتل ،جرم میں پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے،ایسا شخص سخت ترین سزا کا مستحق ہے بلکہ قتل ناحق کے جرم میں جلد از جلد قتل کئے جانے کے قابل ہے ،کیونکہ اس نے اپنے گھناؤنے عمل کے ذریعہ زمین میں فساد برپا کیا ہے اور زمین کو ناپاک کر دیا ہے ،لہذا اس ظالم کا قصاصاً قتل ہی زمین کی پاکی،ظلم کا سد باب اور انسانیت کے چین وسکون کا ذریعہ ہے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی جولوگ ظلم وتشدد کا بازار گرم کر رہے ہیں چاہے جس مذہب کے ہوں ،ظلم تو بہرے حال ظلم ہی ہے ، ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانا ہی دراصل ظلم کے سد باب کی طرف پیش رفت کرنا ہے، مجموعی طور پر ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طور پر ظلم کے خاتمہ کی کوشش کریں ،وہ اس طرح کہ اپنی ذات سے کسی کے اوپر ظلم ہونے نہ دیں ،بقیہ ظالموں پر پکڑ کرنا ،ان پر شکنجہ کسنا اور انہیں سزا دینا یہ حکومتوں ،عہدداروں ،عدالتوں اور قانون کے محافظوں کی ذمہ داری ہے ، ظلم پر تماشائی بنے رہنا اور صرف زبانی مذمت کرنا ظالموں کی طرف داری کے مترادف ہے، ظلم وستم کے بعد اگر ظالم آزاد گھوم رہا ہوتاہے اور مظلوم دہشت زدہ ہے ،ان کی فریاد رسی کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے اور حکام وعہد ار آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو یہ بھی ایک طرح کے مجرم اور ظالم کے ساتھ ظلم میں برابر کے شریک ہیں، ظالم کی پشت پناہی کرنے کے جرم میں یہ بھی مجرم کے ساتھ سزا کے مستحق ہیں۔
اس وقت ملک کے مختلف صوبوں میں اور خصوصا ہمارے صوبے تلنگانہ کے مرکزی شہر کی امن کی فضا مکدر ہے اور روز بروز صورت حال بگڑتی جارہی ہے، آئے دن کہیں نہ کہیں قتل وغارت گری کے دل ہلادینے والے واقعات پیش آتے جارہے ہیں اور درندہ صفت معمولی بات کو بہانا بنا کر قتل سے اپنے ہاتھ رنگین کرتے جارہے ہیں ، بعض قتل کا سبب تو کچھ بھی نہیں بلکہ بالکل معمولی اور چھوٹی سی بات پر کیا جارہاہے ، بعض قتل کی وجہ خصومت ہے تو بعض میاں بیوی کے جھگڑے تو بعض لین دین کی وجہ سے ہے ، افسوس تو اس بات پر ہے کہ ان میں بہت سے وہ لوگ ہیں جو مذہب اسلام سے وابستہ ہے ،جب اخبارات میں اور سوشل میڈیا پر ان کے نام پڑھنے اور سننے میں آتے ہیں تو مارے شرم کے سر جھگ جاتا ہے اور دل کو چوٹ لگتی ہے ،آنکھیں اشک بار ہوجاتی ہیں اور دل رونے لگتا ہے، اسلام جس نے پوری انسانوں کو امن ومحبت اور احترام کا درس دیا اور قتل وغارت گری کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا اسی کے ماننے والے اس طرح کے گھناؤنے جرم کا شکار ہورہے ہیں اس کی بنیادی وجہ دینی علم اور اہل علم کی صحبت سے دوری ہے اور دوسری بنیادی وجہ بے کاری وبے روزگاری ہے ، تیسری بنیادی وجہ ماں باپ کی لاپرواہی اور تربیت کا فقدان ہے اور چوتھی بنیادی وجہ جرم پر کھلی چھوٹ ہے ، اس سلسلہ میں مذہبی رہنماؤں ، مسلم تنظیموں ، محلوں کے سنجیدہ وبااثر افراد اور ہر درد مند فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ قتل وغارت گری کے سد باب کے لئے کوشش کریں اور اپنے بیانات اور وعظ ونصیحت کی محفلوں میں اس پر توجہ دلائیں ،محلے کے بااثر لوگ کم ازکم اپنے محلے میں ہونے والے ایسے گھناؤنے جرائم کا سخت نوٹ لیں ، جرائم روکنے کے لئے حکمت عملی تیار کریں اور ضرورت پڑنے پر اہل علم اور معاشرہ پر گہری نظر رکھنے والوں سے مشورہ طلب کریں اور گاہے بگاہے کسی بہانے لوگوں کو جمع کرکے ان کے سامنے اخلاق نبویؐ پیش کریں اور ان کے مزاجوں کو سنجیدہ بنانے کی کوشش کریں ،اسی کے ساتھ ساتھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشرار پر کڑی نظر رکھیں اور جرائم پیشہ افراد کو کڑی سزا دیں ، جرائم کے بڑھتے واقعات کی ایک وجہ حکومت کی جرائم سے پردہ پوشی اور مجرموں کے ساتھ نرم رویہ ہے ،حکومت اور خصوصا محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے گھناؤنے جرم کرنے والوں پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور انہیں جلد ازجلد کڑی سزا دیں تاکہ جرائم کے سد باب میں مدد مل سکے ۔
مگر جرائم پیشہ افراد کو جان لینا چاہئے کہ اگر وہ کسی وجہ سے دنیا میں سزا سے بچ بھی جائیں تو عدالت عظمی جو آخرت میں قائم ہوگی اور فیصلہ کرنے والے بادشاہوں کے بادشاہ خالق کائنات ہوں گے ، عدالت میں مجرم بن کھڑے ہوں گے اور شدت سے وہ انہیںپکڑے گا کہ پھر کوئی انہیں چھڑا نہ سکے گا ، یاد رکھیں وہ زبردست طاقت رکھنے والے خالق ومالک خد ائے ذوالجلال ہوں گے،قیامت میں رب العالمین کی عدالت قائم ہوگی، مجرموں کوپکڑ کر لانے والے فرشتے ہوں گے ،مجرموں کے سامنے ان کے کرتوتوں کا پورا دفتر کھول کے رکھ دیا جائے گا ،ان کی سزا کی جگہ یعنی جہنم ان کے سامنے کر دی جائے گی جسے وہ دیکھ کر کانپ اُٹھیں گے ، انہوں نے دنیا میں جو کچھ ظلم وتشدد کیا ،سرکشی کی ،ناحق انسانوں پر ظلم کیا،طاقت کے نشے میں چور ہوکر کمزوروں پر پتھر برسائے اور پیدا کرنے والے کو بھول کر ،اس کے حکموں کو توڑ کر ،آخرت سے غافل ہوکر دنیوی زندگی کے مزے لیتے رہے ،آج ان کا فیصلہ سنا یا جائے گا ،سزا کے لئے جہنم کا انتخاب ہوگا جس میں وہ منہ کے بل گھسیٹ کر دالے جائیں گے اور یہ ان کے لئے جہنم ہی ٹھکانہ ہوگا۔
����
Post Views: 38