Skip to content
’جب تجھ میں حیا نہیں تو جو تیرا جی چاہے کر ‘
بے حیائی کا پرچار بے حیائی ہے
ازقلم:عبدالعزیز
ایک ویڈیو پاکستان میں وایرل ہو رہا ہے جس میں ایک لڑکی پارکوں میں جاکر آٹھ دس لڑکوں سے الگ الگ مل کر جنسی گفتگو کرتی ہے اور انہیں بند کمرے میں چلنے کی دعوت دیتی ہے۔ پروگرام کے آخر میں پھر ہر ایک سے مل کر معذرت کر تے ہوئے کہتی ہے وہ گندی یا خراب لڑکی نہیں ہے وہ لگے ہوئے کیمرے کے سامنے آپ سے مذاق کر رہی تھی وہ سامنے کیمرہ لگا ہوا دیکھئے۔ بے حیائی اور بے شرمی کی دعوت دینے والی مسلمان لڑکی کتنی بے شرمی اور ڈھٹائی سے دنیا کے سامنے کہہ رہی ہے کہ وہ نہ گندی اور نہ بے حیا لڑکی ہے اور نہ گندہ اور فحش کام کر رہی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہے اسلام میں ایک عورت یا لڑکی کا کسی غیر محرم لڑکی سے ملنا اور نظریں چار کر کے باتیں کرنا حرام ہے، فحاشی ہے۔ ’’قانون کی نظر میں زنا کا اطلاق صرف جسمانی اتصال پر ہوتا ہے مگر اخلاق کی نظر میں دایرہ ازدواج کے باہر صنف مقا بل کی جانب ہر میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زنا ہے۔اجنبی کی آنکھ سے لطف لینا، اس کی آواز سے کانوں کا لذت یا ب ہونا، اس سے گفتگو کرنے میں زبان کا لوچ کھانا، اس کے کوچے کی خاک چھاننے کیلئے قدموں کا بار بار اٹھنا، یہ سب زنا کے مقدمات اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ یہ دل کا چور ہے اور صرف دل ہی کا کوتوال اس کو گرفتار کر سکتا ہے۔ حدیث نبویؐ اس کی مخبری اس طرح کرتی ہے:’’آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کی زنا نظر ہے اور ہاتھ زنا کرتے ہیں ان کی زنا دست درازی ہے، اور پاؤں زنا کرتے ہیں ان کی زنا اس راہ میں چلنا ہے اور زبان کی زنا گفتگو ہے اور دل کی زنا تمنا اور خواہش ہے ، آخر میں صنفی اعضاء یا تو ان سب کی تصدیق کر دیتے ہیں یا تکذیب’’ جوان لڑکی اخلاق کی نظر میں ہر طرح کی زنا کرتی ہے اور لڑکو ں کو زانی بنا تی ہے مگر اس گناہ کو تفریح یا کامیڈی کہہ کر بے گناہی کی از خود اس طرح کی لڑکیاں یا لڑ کے سند حاصل کر لیتے ہیں۔
فتنٔہ نظر:نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے ، اس لئے قرآن اور حدیث دونوں سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے: ’’اے نبی مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہوں کو( غیر عورتوں کی دید سے )باز رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے اور اے نبی مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ اپنی نگاہوں کو ( غیر مردوں کی دیدسے) باز رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔( النور )‘‘
حدیث میں ہے :’’ آدمی زادے ! تیری پہلی نظر تو معاف ہے ، مگر خبردار دوسری نظر نہ ڈالنا‘‘۔
حضرت علی ؓ سے فرمایا : ’اے علیؓ ! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو ۔پہلی نظر تو معاف ہے مگر دوسری نہیں‘ ۔
حضرت جابر ؓ نے پوچھا کہ ’اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں ۔ فرمایا فوراً نظر پھیر لو‘ ۔ ( ابو داؤد ، باب مذکور )
جذبٔہ نمائش حسن: اسی فتنٔہ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے ۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی۔ دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمائشِ حسن کا جذبہ چھپا ہواہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں ، بالوں کی آرائش میں ، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے جن کا احاطہ ممکن نہیں ۔ قرآن نے ان سب کیلئے ایک جا مع اصطلاح ’’ تبُّرجِ جاہلیتہ‘‘ استعمال کی ہے ۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کیلئے لذت نظر بننا ہو۔ تبُرّجِ جاہلیت کی تعریف میں آجاتی ہے ۔اگر برقع بھی اس غرض کیلئے خوبصورت اور خوش رنگ استعمال کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی تبُرّجِ جاہلیت ہے ۔اس کیلئے کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے ۔ اس کو خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہئے کہ کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے ۔اگر ہے تو وہ اس حکم خدا وندی کی مخاطب ہے کہ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُجَ الْجَا ھِلِیَّتِ الْاُوْلیٰ ( الاحزاب: ۳۳) جو آرائش ہر بری نیت سے پاک ہو ، وہ اسلام کی آرائش ہے ۔
فتنٔہ زبان: شیطان نفس کا ایک دوسرا ایجنٹ زبان ہے ۔کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعہ سے پیدا ہوتے ہیں اور پھیلتے ہیں ۔ مرد اور عورت بات کر رہے ہیں ، کوئی برا جذبہ نمایاں نہیں ہے ، مگر دل کا چھپا ہوا چور آواز میں حلاوت ، لہجے میں لگاوٹ ، باتوں میں گھلاوٹ پیدا کئے جا رہا ہے ۔ قرآن اس چور کو پکڑ لیتا ہے ۔
’’ اگر تمہارے دل میں خدا کا خوف ہے تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں بد نیتی کی بیماری ہو وہ تم سے کچھ امیدیں وابستہ کرے گا۔ بات کرو تو سیدھے سادھے طریقے سے کرو (جس طرح انسان انسان سے بات کیا کرتا ہے ) ‘‘۔
دل کا چور:یہی دل کا چور ہے جو دوسروں کے جائز نہ جائز صِنفی تعلقات کا حال بیان کرنے میں بھی مزے لیتا ہے اور سننے میں بھی۔ اسی لطف کی خاطر عاشقانہ غزلیں کہی جاتی ہیں ۔ ’’اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانہ میں جس بناؤ سنگار کی نمائش تم کر تی پھرتی تھیں ، وہ اب نہ کرو ‘‘ اور عشق و محبت کے افسانے جھوٹ سچ ملا کر جگہ جگہ بیان کئے جاتے ہیں اور سوسائٹی میں ان کی اشاعت اسطرح ہوتی ہے ، جیسے پولے پولے آنچ لگتی چلی جائے ۔قرآن اس پر بھی تنبیہ کرتا ہے :
’’ جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کیلئے دنیا میں بھی درد ناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی ۔‘‘
فتنٔہ زبان کے اور بھی بہت سے شعبے ہیں اور ہر شعبے میں دل کا ایک نہ ایک چور اپنا کام کرتا ہے ۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایا ہے اور ان سے خبردار کیا ہے ۔ عورت کو اجازت نہیں کہ اپنے شوہر سے دوسری عورتوں کی کیفیت بیان کرے ۔
’’ عورت عورت سے خلا ملا نہ کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی کیفیت اپنے شوہر سے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ خود اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
عورت اور مرد دونوں کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کاحال دوسروں کے سامنے بیان کریں ، کیونکہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتا ہے (ابو داؤد ، باب من ذکرالرجلمایکون من اصابتہ ا ہلہ)
نماز با جماعت میں اگر امام غلطی کرے ، یا اس کو کسی حادثہ پر متنبہ کرنا ہو تو مردوں کو سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صرف دستک دیں ۔ زبان سے کچھ نہ بولیں ۔ ( ابو داؤد ، باب التصفیق فی الصلوۃ۔ بخاری ، باب التصفیق للنساء)
فتنٔہ آواز : بسا اوقات زبان خاموش رہتی ہے ۔مگردوسری حرکات سے سامعہ کو متاثر کیا جاتا ہے ۔ اس کا تعلق بھی نیت کی خرابی سے ہے اور اسلام اسکی ممانعت کرتا ہے :
’’ اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہو ئی نہ چلیں کہ جو زنیت انہوں نے چھپا رکھی ہے ( یعنی جو زیور وہ اندر پہنے ہوئے ہیں ) اس کا حال معلوم ہو ( یعنی جھنکار سنائی دے )۔ ( النور ) ‘‘
فتنٔہ خوشبو:خوشبو بھی ان قاصدوں میں سے ہے جو ایک نفس شریر کا پیغام دوسرے نفس شریرتک پہنچاتے ہیں ۔ یہ کبر رسانی کا سب سے زیادہ لطیف ذریعہ ہے جس کو دوسرے تو خفیف ہی سمجھتے ہیں ، مگر اسلامی حیا اتنی حساس ہے کہ اس کی طبع نازک پر یہ لطیف تحریک بھی گراں ہے ۔ وہ ایک مسلمان عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ خوشبو میں بسے ہوئے کپڑے پہن کر راستوںسے گذرے یا محفلوں میں شرکت کرے ، کیونکہ اس کا حسن اور اس کی زینت پوشیدہ بھی رہی تو کیا فائدہ ہوا ، اس کی عطریات تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کر رہی ہیں :
’’نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے درمیان سے گذرتی ہے وہ آوارہ قسم کی عورت ہے ( ترمذی )
تم میں سے جب کوئی عورت مسجد میں جائے تو خوشبو نہ لگائے ۔( موطا و مسلم )
مردوں کیلئے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبو نمایاں اور رنگ مخفی ہو ، اور عورتوں کیلئے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو۔ ( ابو داؤد)
فتنٔہ عریانی:ستر کے باب میں اسلام نے انسانی شر م وحیا کی جس قدر جس قدر صحیح اور مکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے اس کا جواب دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں پایا جاتا ۔ آج دنیا کی مہذب ترین قوموں کا بھی یہی حال ہے کہ ان کے مردوں اور ان کی عور توں کو اپنے جسم کا کوئی حصہ کھولدینے میں باک نہیں ہے ۔ ان کے ہاں لباس محض زینت کیلئے ہے، ستر کیلئے نہیں ہے ۔ مگر اسلام کی نگاہ میں زینت سے زیادہ ستر کی اہمیت ہے ۔ وہ عورت اور مرد دونوں کو جسم کے وہ تمام حصہ چھپانے کا حکم دیتا ہے ، جن میں ایک دوسرے کیلئے صنفی کشش پائی جاتی ہے ۔ عریانی ایک ایسی نا شائستگی ہے جس کو اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرسکتی ۔ غیر تو غیر اسلام اس کو بھی پسند نہین کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوں ۔
’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس کو چاہئے کہ ستر کا لحاظ رکھے ۔بالکل گدھوں کی طرح دونوں ننگے نہ ہو جائیں ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا ۔‘‘ ( شمائل ترمذی ، باب ماجا فی حیا ء رسول اللہ )
اس سے بڑھ کر شرم و حیا یہ ہے کہ تنہائی میں بھی عریاںرہنا اسلام کو گوارا نہیں اس لئے کہ ’’ اللہ اس کا زیادہ حق والا ہے کہ اس سے حیا کی جائے ‘‘ ۔
حدیث میں آتا ہے کہ ’’ خبر دار کبھی برہنہ نہ رہو کیونکہ تمہارے ساتھ خدا کے فرشتہ لگے ہوئے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے بجز ان اوقات کے جن میں تم رفع حاجت کرتے ہو یا اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہو لہٰذا تم ان سے شرم کرو اور ان کی عزت کا لحاظ رکھو ۔
اسلام کی نگاہ میں وہ لباس درحقیقت لباس ہی نہیں جس میں بدن جھلکے اور ستر نمایاں ہو :
’ ’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں اور دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کرکے چلیں وہ جنت میں ہر گز داخل نہ ہونگیں اور نہ اس کی بو پا ئیں گی ۔( مسلم )
یہاں استیعاب مقصود نہیں۔ ہم نے صرف چند مثالیں اس غرض سے پیش کی ہیں کہ ان سے اسلام کے میعار اخلاق اور اس کی اخلاقی اسپرٹ کا اندازہ ہو جائے۔ اسلام سوسائٹی کے ماحول اور اس کی فضا کو فحشاء ومنکر کی تمام تحریکات سے پاک کردینا چاہتا ہے ان تحریکات کا سر چشمہ انسان کے باطن میں ہے ۔ فحشاء و منکر کے جراثیم وہیں پرورش پاتے ہیں، اور وہیں سے ان چھوٹی چھوٹی تحریکات کی ا بتددا ہوتی ہے ۔جو آگے چل کر فساد کی موجب بنتی ہیں۔ جاہل انسان ان کو خفیف سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے مگر حکیم کی نگاہ میں دراصل وہی اخلاق اور تمدن و معاشرات کو تباہ کر دینے والی خطرناک بیماریون کی جر ہیں۔ لہٰذا اسلام کی تعلیم اخلاق باطن ہی میں حیا کا اتنا زبردست احساس پیدا کرنا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے ، اور برائی کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اگر پایا جائے تو اس کو محسوس کرکے وہ آپ ہی اپنی قوت ارادی سے اس کا استیصال کردے ۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068 / 9874445664
Like this:
Like Loading...